درودِ پاک ﷺ کی برکت کا ناقابل فراموش واقعہ

ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام عالم آن لائن آیا کرتا تھا ، اس پروگرام میں ہم نے یہ واقعہ ان صاحب کی زبانی سنا جن کے ساتھ یہ پیش آیا ، الفاظ کا ردو بدل ہو سکتا ہے اس کے لیے پیشگی معذرت ،اس واقعہ کی طرف آتے ہیں ۔

میزبان: تو حاجی صاحب ہمارے ناظرین کو بتائیں ہوا کیا تھا ؟

السلام علیکم۔ میرا نام محمد بشیر ہے ، عمر 62 سال ہے ، میں گوجرانوالہ گھنٹہ گھر کے پاس سن 1970 سے چاول کی ریڑھی لگایا کرتا تھا ۔ وقت گزرتا گیا ، شادی ہوئی ، ﷲ نے دو بیٹیاں عطا کیں ، اپنی حثیت کے مطابق ان کی پرورش کی ، دونوں بچیاں جوان تھیں ، لیکن میری حالات ایسے نہیں تھے کہ ان کی شادی کر سکتا ۔

گھنٹہ گھر کے پاس ہی ایک مغل صاحب کی کپڑے کی دوکان تھی ، سن 2008 کی بات ہے وہ میرے پاس آئے اور کہا بشیر صاحب مجھے اپنے دونوں بیٹوں کے لیے آپ کی بیٹیوں کا رشتہ چاہیئے ۔ میرے لیے حیرت کی بات تھی مجھ غریب پر یہ کرم کیسے ۔خیر گھر جا کر بیوی سے مشورہ کر کے ہم نے ہاں کر دی ۔

مزید پڑھیں: نبی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی رفیقہ سیدہ عاٸشہ صدیقہؓ

سال گزر گیا ، وہ شادی کا تقاضہ کرنے لگے اور میرے پاس 10000 روپے بھی نہیں تھے کہ میں بچیوں کو رخصت کر سکتا ۔ بیوی کہنے لگی آپ ﷲ پر بھروسہ رکھیں ، شادی کا دن طے کر دیں ۔ ہم نے تاریخ طے کر دی ، 25 نومبر 2009 ، شادی کو 7 دن رہ گئے تھے ، میں پریشان اب کیا ہو گا ، شادی کیسے ہو گی ، میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ۔

مغرب کا وقت تھا ، انہیں سوچوں میں غرق صحن میں بیٹھا تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی ۔ میں اٹھ کر باہر گیا ، دروازہ کھولا سامنے ایک باریش نوجوان کھڑا تھا ، جس کو آج سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔

میں نے پوچھا آپ کون ۔ ؟

نوجوان بولا کیا بشیر صاحب کا گھر یہی ہے جو چاول کی ریڑھی لگاتے ہیں ؟

جی میں ہی بشیر ہوں ۔ میں نے جواب دیا ۔

کیا ہم اندر بیٹھ کر تھوڑی دیر بات کر سکتے ہیں ؟

میں اسے گھر کے صحن میں لے آیا، سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔

مزید پڑھیں: ترکی کے لیے اصحاب رسول سے زیادہ شاہ سلیمان اہم؟

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ، بولا میں کراچی سے آیا ہوں اور دو دن سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں ۔

مجھے بتائیں آپ ایسا کیا عمل کرتے ہیں کہ مجھے وہاں (مدینہ پاک سے حکم ملتا ہے گوجرانولہ جاو ، ہمارے غلام کی مدد کرو ، اس کی بیٹیوں کی شادی ہے ) ۔

یہ سن کر میری دھاڑ نکل گئی ، میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا ، عرض کی بیٹا ، میں تو بہت گنہگار ہوں، ہاں پچھلے 45 سال سے بلا ناغہ سرکار ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام پڑھا کرتا ہوں اور تو کچھ نہیں ۔

وہ نوجوان رونے لگا ، بولا جن پر آپ درود پڑھتے ہیں ، انہوں نے ہی مجھے بھیجا ہے ۔ اس کے ہاتھ میں بریف کیس تھا، وہ مجھے دیا ، مجھے گلے سے لگایا ، بنا اپنا نام پتہ بتائے مجھے مل کر رخصت ہو گیا ۔۔ میں نہیں جانتا وہ کون تھا کہاں سے آیا۔

بعد میں بریف کیس کھول کر دیکھا ، اس میں تیس 30 لاکھ روپے تھے اور ایک خط کہ آپ بچیوں کی شادی کریں یہ مدد وہاں سے ہے ۔ میں نے بچیوں کی شادیاں بھی کیں ، پھر حج بھی کیا ، مدینہ حاضری بھی ہوئی اور آج میرا کاروبار بھی بہت اچھا ہے ۔

مزید پڑھیں: روضہ رسول ﷺ کے بارے میں حیران کن معلومات

اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں سورۃ احزاب میں ارشاد فرمایا ہے :

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلـٰئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ ۚ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا صَلّوا عَلَيهِ وَسَلِّموا تَسليمًا ﴿٥٦﴾…

( سورة الاحزاب)

”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود و سلام بھیجو۔”

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ

كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ

.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ

كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ

.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ….

اللہ پاک ہم سب کو اپنے نبیﷺ پر کثرت سے درود بھیجنے والا بنائے ۔ (آمین)