پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ میں ناقابل یقین تنخواہیں

کراچی : پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے بارے میں ناقابل یقین حقائق جانیئے ۔ 

پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کا ایک چیئرمین ، ایک چیف ایگزیکٹو ، ایک چیف آپریٹنگ افسر ، اور ایک چیف فنانشل افسر ، صرف یہ ہی نہیں اب ذرا جگر تھام کر پڑھئے ۔

مزید پڑھیں: بھارت سے 4 سال تک کرکٹ نہیں ہو سکتی : وسیم خان

پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ میں کل 12 ڈائریکٹر ہیں ، 8 سینئر جنرل منیجر ہیں ، 3 جنرل منیجر ہیں ، 5 کوچ ، درجنوں دوسرے چھوٹے بڑے افسر، حتیٰ کہ صحافیوں سے ملاقات کے لئے 2 ڈائریکٹر ہیں ، 1 سینئر منیجر ہے اور 4 منیجر ہے ۔

ایسے ایسے ہوش ربا عہدے ! ایک خاتون صرف اس اطلاع کے لئے کہ ٹیم ہاری یا جیتی ؟

استغفار ! ان تمام خونخوار گِدھوں پر قومی خزانہ کس بے دردی اور وحشیانہ انداز میں لٹایا جا رہا ہے ۔ اس کی دل دہلا دینے والی مختصر داستان !  چیف سلیکٹر و ہیڈ کوچ (مصباح الحق) 32 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں وصول کرتے ہیں ۔ وقار یونس اور بائولنگ، فیلڈنگ وغیرہ کے 5 کوچ فی کوچ 20 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتے ہیں ۔ 31 ڈائریکٹر و جنرل منیجر وغیرہ ہیں جو فی کس کم از کم 10 سے 15 لاکھ روپے ماہانہ وصول کرتے ہیں ۔

اب ذرا کھلاڑیوں کی عیاشیاں ! 35 رجسٹرڈ کھلاڑی، ہر کھلاڑی 50 ہزار سے آٹھ لاکھ روپے، 6 کھلاڑی 8 لاکھ روپے ماہانہ لے رہے ہیں ۔ ہر کھلاڑی کو میچ کے دوران 35 ہزار روپے روزانہ اضافی الائونسز ہیں ۔

صرف ایک کھلاڑی سرفراز احمد کی ایک سال کی آمدنی چار کروڑ 68 لاکھ روپے ( وہ بھی ڈالروں میں ) جس ملک کی 80 فیصد آبادی شدید غربت، فاقوں اور بیماریوں کی زد میں ہے ۔ اس کے صرف ایک ادارہ میں قومی خزانے پر اتنا بڑا ڈاکہ، اتنی وحشت ناک لوٹ مار اور اس ساری لوٹ مار کا حاصل، کرکٹ ٹیم کی مسلسل 6 سیریز میں ذلت آمیز، شرم ناک شکستیں!

مزید پڑھیں: پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ فائیو ملتوی کردی

اِنا لِلّٰہ و اِنا الیہ راجعون!

کوئی پوچھنے والا نہیں، پوچھے گا کون ؟ وہ جو خود اندھا دھند لوٹ مار کر رہے ہیں ؟ ملازمین کی سال میں ایک بار تنخواہ بڑھانے سے ان کو موت پڑ جاتی ہے اور پینشنرز کی پینشن کو بڑھانے کی تو حکومت سوچتی ہی نہیں ۔ خدارا بوڑھے پینشنر کا خیال کریں یہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے ۔

انداز بیاں گرچہ گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات