کراچی پولیس کے انوکھے احتجاج نے وردی کا تقدُس بچا لیا

کراچی : کراچی پولیس چیف نے وردی کے تقدس کو بچانے کے لئے منفرد احتجاج کرتے ہوئے پولیس کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کو بحال کرا لیا ہے ۔

سندھ کے محکمہ پولیس کے انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) مشتاق مہر سمیت کئی افسران نے ایک ساتھ چھٹی پر جانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ کراچی پولیس کی دستیاب تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں پولیس فورس کے اعلیٰ ترین افسران نے ایک ساتھ چھٹیوں کے لیے درخواست دی ہو ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کیپٹن (ر) محمد صفدر کی گرفتاری کے واقعے کے بعد پولیس فورس میں مایوسی پیدا ہوئی ہے ۔ جس کے بعد پولیس کی اعلی قیادت نے چھٹی پر جانے کی تیاری کی ، چھٹی پر جانے والوں میں آئی جی سندھ مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس اور متعدد ڈی آئی جیز شامل ہیں۔

مذید پڑھیں : کیپٹن (ر) صفدر کیس کا تفتیشی افسر بھی چھٹیوں پر روانہ

ذرائع نے بتایا کہ تمام افسران نے چھٹیوں کے لیے درخواستیں تیار کر لیں، درخواستیں حکومت سندھ کو ارسال کی جا رہی ہیں ۔ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے اپنی درخواست بھی دے دی ہے ۔ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس نے یہ موقف اپنایا ہے کہ اعلیٰ پولیس افسران کی بے عزتی کی گئی ہے ۔

ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ثاقب میمن، ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض، ڈی آئی جی ویسٹ عاصم قائم خانی اور ڈی آئی جی ایسٹ نعمان صدیقی ، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ قمر الزماں، ڈی آئی جی ایڈمن امین یوسفزئی اور ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف بھی چھٹی کی درخواست دینے والوں میں شامل ہیں ۔

مذید پڑھیں : رانا ثنااللہ اور خرم دستگیر پر بھی اقدامِ قتل کا مقدمہ درج

علاوہ ازیں ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ، ڈی آئی جی سکھر فدا حسین مستوئی، ڈی آئی جی لاڈکانہ ناصر آفتاب اور ڈی آئی جی میرپورخاص ذوالفقار لاڑک، ڈی آئی جی نوابشاہ مظہر نواز شیخ بھی چھٹی کی درخواست دینے والوں میں شامل ہیں ۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سینئر پولیس افسران کی ایک ساتھ چھٹی پر جانے کے بعد محکمے میں خلا پیدا ہو جائے گا ۔