سندھ پولیس میں جعلی بھرتیاں ۔112 اہلکار فارغ کرنے کی تیاری

سندھ پولیس کا ایماندار افسر فیصل عبداللہ چاچڑ طاقتور کرپٹ مافیا سے ٹکرا گیا، سندھ پولیس میں غیر قانونی و بے ضابطہ بھرتیوں کا سب سے بڑا فراڈ بے نقاب ہو گیا ۔

نہ کوئی انٹری ٹیسٹ ، نہ میڈیکل ، نہ دوڑ نہ ہی اپائٹمنٹ لیٹر ۔آئی جی کو علم نہ ڈی آئی جی کو پتہ، ٹھٹہ سے 112 افراد پولیس اہلکار بن گئے ۔

سندھ پولیس کے تین ملازمین اہلکاروں کے نام پر 25 کروڑ سے زائد ہڑپ کر گئے ۔کرپٹ مافیا ماہانہ 33 لاکھ 60 ہزار روپے 6 سال سے زائد عرصہ تک وصول کرتا رہا ۔

ہیڈ محرر اعظم گوپانگ، شیٹ کلرک عبدالستار سولنگی اور اکاونٹنٹ راجا شاہد ملوث تھے ۔اعظم گوپانگ بیک وقت ایم ٹی او، آر آئی، ایل او اور بڑا منشی کے عہدے پر تعینات تھا ۔

112 گھوسٹ اہلکاروں کا ریکارڈ صرف ٹریژری اور اے جی آفس کی پے سلپ پرموجود تھا ۔اے ڈی خواجہ کے ایچ آر ایم آئی ایس ریکارڈ سسٹم بنانے کے بعد فراڈ کا انکشاف ہوا ۔

ایس ایس پی ٹھٹہ فیصل عبداللہ چاچڑ، توقیر نعیم اور عبداللہ لک پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ۔تحقیقاتی کمیٹی نے 16 صفحات پر مبنی فراڈ کی غضب پلاننگ ڈی آئی جی حیدرآباد کو ارسال کردی ۔

اعظم گوپانگ نے اپنے دونوں بیٹوں کو بھی جعلی بھرتی کروا رکھا تھا ۔شیٹ کلرک عبدالستار سولنگی بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا رہا ۔

راجا شاہد کا بھانجا بھی مفت کی تنخواہوں کے مزے لیتا رہا ۔اکاونٹ برانچ کے چار افسران کے کئی رشتے دار بھی جعلی بھرتی ہوئے ۔

بھرتی ہونے والے کسی اہکار کا سینٹرل پولیس آفس سمیت کہیں ریکارڈ نہیں ۔تمام جعلی اہلکاروں کی تنخواہ 2012 سے باقاعدگی سے وصول کی جارہی تھی ۔

کرپشن کے معاملے میں کئی بڑے نام بے نقاب ہونے کا اندیشہ ۔محکمہ جاتی تحقیقات مکمل کرکے معاملہ نیب میں بھیجنے کی سفارش ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *