خاتون پرنسپل کی تقرّری سے گورنمنٹ دہلی کالج کا معیار گرنے لگا

کراچی : کراچی کے معروف ترین بواٸز کالج میں خاتون پرنسپل کی تقرّری سے کالج شدید تدریسی اور انتظامی بحران کا شکار ہو گیا ہے ۔ کالج میں اساتذہ اور غیر تدریس عملے کی شدید کمی سے شہر کے معروف ترین کالج کا معیار دن بدن پستی کا شکار ہوتا جا رہا ہے ۔

کراچی کے ضلع وسطی میں لڑکوں کے سب سے معیاری اور مقبول ترین سرکاری کالج ، گورنمنٹ دہلی بواٸز کالج حسین آباد میں محکمہ کالجز سندھ کی جانب سے دو سال قبل مرد پرنسپل کو ہٹا کر ایک خاتون کو کالج کا پرنسپل مقرّر کئے جانے کے بعد خاتون پرنسپل کے کمزور انتظامی کنٹرول کی وجہ سے کالج میں متعدّد تدریسی و انتظامی مساٸل سر اٹھانے لگے ہیں ۔

مذید پڑھیں : اجتماع راۓ ونڈ 2020 امسال نومبر میں ہوگا

گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد سینیئر ترین اساتذہ کے دوسرے کالجز میں تبادلے سے کالج میں اساتذہ کی شدید قلّت پیدا ہو گئی ۔ جب کہ کالج کو غیر تدریسی عملے کی کمی کا پہلے سے سامنا تھا ۔ کراچی کے معروف ترین بواٸز کالج میں خاتون پرنسپل کی تقرّری سے کالج شدید تدریسی اور انتظامی بحران کا شکار ہو گیا ۔ کالج میں اساتذہ اور غیر تدریس عملے کی شدید کمی سے انتظامی اور تدریسی مسائل بڑھ رہے ہیں ۔

واضح رہے کہ گورنمنٹ دہلی کالج کراچی کے ستّر سے زاٸد  بواٸز سرکاری کالجوں میں واحد بواٸز کالج ہے جہاں خاتون پرنسپل تعیّنات ہے ۔ تین سال قبل محکمے کی جانب سے ایک متحرک اور طویل انتظامی تجربہ رکھنے والے پروفیسر زاہد احمد کو اس کالج کا پرنسپل مقرّر کیا گیا تھا ، جنہوں نے اپنے مختصر دور میں انٹر میڈیٹ لیول کےکالج کو ڈگری کالج کا درجہ دلانے کے ساتھ تدریسی و انتظامی اعتبار سے بھی ترقّی کی راہ پر گامزن کر دیا تھا ۔
۔

مگر ان کا راتوں رات تبادلہ کر کے خاتون ایسوسی ایٹ پروفیسر اسما ٕ نور کو کالج کا پرنسپل مقرّر کر دیا گیا تھا ، جو سو فیصد مرد عملے پر اپنی انتظامی گرفت رکھنے میں نا کام رہی ہیں ، جس کی بنا پر شہر کا ایک معیاری کالج زبوں حالی کا شکار ہے ۔