ہری پور کے 72 سالہ سینئر فوٹو گرافر نواز حسین ہاشمی سے ملاقات

تحریر : حافظ سرفراز ترین

ویسے تو کہتے ہیں کہ کیمرہ مین اور فوٹو گرافر ہر تقریب اور منظر کی تصویر کشی کر کے دنیا والوں کو دکھاتا ہے لیکن اکثر وہ خود نظر نہیں آتا لیکن آج کل فوٹو گرافر کسی بھی تقریب میں جائیں اپنا فوٹو سیشن ضرور کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ وہ بھی اس تقریب میں مدعو تھے سیلفی کلچر نے اس کام کچھ زیادہ ہی آسان کر دیا ہے ۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جب میں نے محترم نواز حسین ہاشمی سے کہا کہ آپ نصف صدی سے زائد عرصے سے فوٹو گرافی باالخصوص پریس فوٹو گرافی کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ لہذا مختلف اہم شخصیات کے ساتھ مجھے اپنی کچھ تصاویر بھیج دیں تو مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے اپنی تصاویر تو کبھی بنوائی ہی نہیں میرا کام تو تصاویر بنانا تھا نہ کہ بنوانا ۔ ہاں !

تین چار تصاویر ہیں وہ بھیج دوں گا ۔ ہری پور کے بزرگ اور سینئر ترین پریس فوٹو گرافر نوازحسین ہاشمی سے میرا تعلق تقریباً دو حشروں پر محیط ہے ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان سے پہلی ملاقات امجد نیوز ایجنسی پر ہوئی اور اس کے بعد دعا سلام اور تعلق آج تک قائم ہے ۔ ہاشمی صاحب ضلعی انتظامیہ، بارروم ، پریس کلب، ٹی ایم اے، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت مختلف سیاسی و سماجی تقریبات کی فوٹو گرافی کرتے ہیں ، ڈیجیٹل فوٹو گرافی کے آغاز سے قبل انھیں ہی ہر تقریب میں مدعو کیا جاتا تھا وہ سامعین اور مقررین کی تصاویر جو کاٹ کر ایک سلیقے سے جوڑتے اور اس کی پشت پر کیپشن لکھتے اور اخبارات کی تعداد کے مطابق سیٹ بنا کر اخبارات کو بھجوا دیتے پھر ڈیجیٹل فوٹو گرافی شروع ہوئی تو ہاشمی صاحب نے بھی فوٹو شاپ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک کلک پر بذریعہ ای میل تمام اخبارات کو تصاویر بھیجنی شروع کر دیں ۔ ہاشمی صاحب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ضلعی انتظامیہ، عدلیہ اور مختلف اداروں کی  طرف سے تعریفی اسناد بھی دی گئی ہیں ۔ ہاشمی صاحب حیات مستعار کی 72 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ لیکن آج بھی پیرانہ سالی کے باوجود انتہائی مستعد اور فعال نظر آتے ہیں ۔ ان سے ہونے والی ملاقات میں ان کے حالات زندگی او رپروفیشن کے حوالے سے گفتگو ہوئی جو اپنے قارئین کی نظر کرتا ہوں ۔

مزید پڑھیں: نہال ہاشمی کیس میں سیاسی شخصیت اور پولیس افسر کے ملوث ہونے کا انکشاف

نواز حسین ہاشمی کا آبائی گاؤں چھوئی خان پور ہے جب کہ آپ کا ننھیال کالی تراڑ میں ہے ۔ آپ یکم مئی 1948 کو پیدا ہوئے اس طرح آپ کی پیدائش کے وقت نوزائیدہ پاکستان کی عمر بمشکل دس ماہ ہوئی تھی اگرچہ آپ کی پیدائش اپنے ننھیال کالی تراڑ میں ہوئی ۔تاہم جب آپ کی عمر چار سال کی ہوئی آپ اپنے والدین کے ہمراہ سرائے صالح منتقل ہو گئے ۔

نواز حسین ہاشمی نے اپنے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سرائے صالح سے حاصل کی ۔ 1967ء میں گورنمنٹ ہائی سکول سرائے صالح سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے حصول کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج ہری پور میں داخلہ لے لیا ، ہاشمی صاحب نے دوران ملاقات بتایا کہ ان دنوں ڈگری کالج نیا نیا بنا تھا ۔ انٹر میں آرٹس اور سائنس کے 100 سو طلبہ، تھرڈ ایئر میں تیرہ اور فورتھ ایئر میں سات طلبہ نے داخلہ لیا تھا ۔ اس وقت کالج میں پشتو اور فارسی بھی پڑھائی جاتی تھی ۔ اس وقت کے کالج کے نامور اساتذہ میں پروفیسر سلیمان دانش، پروفیسر صوفی رشید، پروفیسر عبدالرحمان اور پروفیسر غلام سرور کے نام مجھے یاد پڑتے ہیں ۔

جب میں نے پوچھا کہ ایف اے کرنے کے بعد کوئی ملازمت کوئی نہیں کی تو کہنے لگے کہ ملازمت آج کی طرح اس دور میں بھی مشکل سے ملتی تھی ۔ غربت کا زمانہ تھا کچے گھر ہوا کرتے تھے ۔ پاسپورٹ بھی صرف مخصوص حیثیت کے حامل افراد کے بن سکتے تھے ۔ پھر ہوا یوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت آ گئی ۔ انھوں نے ہر شخص کو پاسپورٹ بنانے کی اجازت دے دی ۔ پچاس روپے میں پاسپورٹ بن جاتا تھا ۔ پھر کیا تھا ہر شخص نے موقع غنیمت جانتے ہوئے پاسپورٹ بنانا شروع کر دیا ۔ جس کے پاس ریٹرن ٹکٹ کے پیسے اور پاکستانی پانچ ہزار روپے یعنی پانچ سو ڈالر دستیاب ہو سکے ۔ اس نے فورًا یورپ امریکہ فرانس اور جرمنی کی طرف اڑان بھری اور جن لوگوں کے پاس سرمایہ کم تھا انھوں نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا رخ کر لیا اس طرح باہر سے پیسہ آنا شروع ہوا اور پاکستان میں لوگ خوشحال ہو گئے ۔

مزید پڑھیں: نعمت اللہ خان!!! ایک عہد ساز شخصیت

نواز حسین ہاشمی کہتے ہیں کہ انھوں نے 1971 سے 1977 تک اپنے والد کے ساتھ ہاشمی فوٹو سٹوڈیو پر فوٹو گرافی کا کام کیا ۔ اس زمانے میں ہری پور میں فوٹو گرافی کی تین دکانیں ہوا کرتی تھیں ۔ جن میں ہاشمی فوٹو رائے عامہ روڈ، لاہور فوٹو سٹوڈیو ریلوے روڈ اور نیو لائٹ فوٹو سٹوڈیو چھتی گلی شامل تھیں ۔ کہتے ہیں انھیں بھی جرمنی جانے کا شوق چرایا تو رخت سفر باندھا اور چل پڑے اس دور کے طریقہ کار کے مطابق پاکستان سے کابل پہنچے ۔ وہاں ایک ماہ قیام کیا ۔ وہاں سے تاشقند پہنچے تاشقند میں وہ ہال وہ بھی دیکھا ۔ جس میں اعلان تاشقند ہوا تھا ، ایک ہفتہ وہاں قیام کیا اور پھر تاشقند سے ماسکو پانچ گھنٹے کی طویل فلائٹ سے پہنچا اور پھر مزید سفر ٹرین کے ذریعے کیا ۔ ماسکو سے یوگو سلاویہ، بلغاریہ، آسٹریا سے ہوتے ہوئے مغربی جرمنی پہنچ گیا اور پھر وہاں پانچ سال تک کام کرتا رہا ۔

نواز حسین ہاشمی کے تایا مرتضٰی حسین ہاشمی فوٹو گرافی کے شعبے سے وابستہ تھے اور متحدہ ہندوستان کے شہر بمبئی میں فوٹو گرافی کا کام کرتے تھے ۔ آپ کے دادا کی وفات کے بعد وہ 1935ء میں آپ کے والد نور حسین ہاشمی کو بھی اپنے ساتھ بمبئی لے گئے ، نورحسین ہاشمی نے بمبئی میں فوٹو گرافی کا ہنر سیکھا اس کے بعد اجمیر شریف کا رخ کیا اسی دوران دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی ۔ انھوں نے بمبئی سے سنگا پور کی طرف رخت سفر باندھا اور بحری جہاز کے ذریعے سمندر کی سیر کرتے ہوئے سنگا پور پہنچ گئے ۔ اس دوران برٹش آرمی کے افسر اور جوان تو جنگ میں مصرو ف رہے اور آپ اپنی ہنر مندی کے جوہر دکھا کر ان کی تصاویر بناتے او ران کے گھروں کو بھجوا دیتے اس زمانے میں تصویر کے پشت پر باقاعدہ پوسٹ کارڈ لکھا ہوتا تھا اور باقاعدہ ایڈریس کی جگہ بنی ہوتی تھی ۔ جس پر ایڈریس لکھ کر بغیر لفافے کے تصویر ڈاک کے ڈبے میں ڈال دی جاتی اور تصویر مطلوبہ مقام پر بذریعہ ڈاک پہنچ جاتی۔ سنگاپور سے واپسی پر نور حسین ہاشمی نے پنڈی او رایبٹ آباد میں فوٹو گرافی کا کام کیا لیکن جلد ہی یعنی 1945-46 میں رائے عامہ روڈ ہری پور پر ہاشمی فوٹوز کے نام سے فوٹو گرافی کاکام شروع کر دیا انھیں بجا طور پر ہری پور میں فوٹو گرافی کا بانی قرار دیا جا سکتا ہے ۔

مزید پڑھیں: گرومندر کی منفرد خصوصیت سے آشنائی

نواز حسین ہاشمی نے بھی 1982ء میں جرمنی سے واپسی پر سر کلر روڈ شرقی پر فوٹو گرافی کا کام دوبارہ سے شروع کر دیا ۔ روایتی فوٹو گرافی کے علاوہ پریس فوٹو گرافی میں بھی اپنی پیشہ وارانہ ہنر مندی دکھائی اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ۔ ہاشمی صاحب نے بتایا کہ اس زمانے میں خانزادہ امجد مرحوم، ملک جمیل مرحوم اور بابو رفیق انور مرحوم ہری پور کی صحافت پر چھائے ہوئے تھے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جانہ ہو گا کہ اس وقت ہری پور میں صرف یہی تین صحافی تھے ۔ اس وقت مختلف تقریبات کی کوریج کے بعد جتنی اخبارات کو تصاویر بھیجنی ہوتیں اتنے سیٹ بنا کر خانزادہ امجد مرحوم کے حوالے کر دیتا تھا جو کبھی گاڑی اور کبھی ڈاکخانے کے ذریعے اخبارات کو بھیج دیا کرتے تھے ۔

بعض دفعہ ملک عبدالخالق مرحوم تصاویر خود لیکر پنڈی اسلام آباد اخبارات کے دفاتر پہنچ جاتے اور اپنا مخصوص طریقہ کار اور تعلقات استعمال کر کے اخبارات میں شائع کروا دیتے اور اسی تقریب کی جو تصاویر بعد میں ڈاک خانے کے ذریعے اخبارات کو جاتیں وہ دودن بعد پہنچتیں جس کی وجہ سے وہ شائع ہونے سے رہ جاتی تھیں ۔ ہاشمی صاحب کہتے ہیں جب 1971ء میں انھوں نے فوٹو گرافی کاکام شروع کیا تو پاسپورٹ سائز کے تین فوٹو ڈیڑھ روپے کے بنایا کرتے تھے ۔ کسی زمانے میں فوٹو گرافی ذریعہ معاش تھا آج کل گھریلو اخراجات سارے بیٹے ادا کر دیتے ہیں ، میں فوٹو گرافی سے صرف جیب خر چ پورا کرتا ہوں اور ساتھ میں یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ لوگ تقریبات میں بلاتے ہیں تو وہاں بہت سارے دوست احبات سے ملاقات ہو جاتی ہے ۔