مشعل کے زیر اہتمام ذہنی صحت سے متعلق عالمی تحقیق کے مطالعہ

کراچی : مشعل نے ذہنی صحت کے عالمی دن پر ذہنی صحت سے متعلق عالمی تحقیق کے مطالعہ کا اہتمام کیا ہے، 2020 کی تحقیق میں ذہنی صحت اور قومی نفسیات پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا، اس تحقیق سے ذہنی صحت میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کار ی کے لئے عوامی پالیسی کے اختیارات کی بھی کھوج لگائے گی ۔

مشعل پاکستان کی طرف سے یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق پاکستان پچھلے 40 سالوں سے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ لڑرہا ہے، اس سے قومی نفسیات پر بھی بہت زیادہ اثر پڑا ہے اور خاص طور پر شہریوں کا ان محرکات پر کیا رد عمل آتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مستقبل کے اقتصادی ترقی سسٹم انیشی ایٹیو کا کنٹری پارٹنر انسٹی ٹیوٹ مشعل پاکستان اس تزویراتی مطالعے کا انعقاد کرے گا تاکہ پاکستان اور اس سے باہر کی ذہنی صحت کی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکے۔

اس مطالعے کا اعلان عالمی دماغی صحت کے دن پر کیا گیا ہے، جو ہر سال 10 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، جس کا مجموعی مقصد دنیا بھر میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور ذہنی صحت کی حمایت میں کوششیں متحرک کرنا ہے۔ یہ دن دماغی صحت کے امور پر کام کرنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنے کام کے بارے میں بات کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے، خاص طور پر 17 پائیدار ترقیاتی اہداف میں سے 3 کا مقصد صحت مند زندگیوں کو یقینی بنانے اور ہر عمر میں ہر ایک کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔

مزید پڑھیں: صبح جلد جاگنا ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند

عالمی رہنمائوں نے ”غیر جسمانی بیماریوں کی روک تھام اور ان کا علاج کرنے کا عہد کیا ہے، بشمول طرز عمل، ترقیاتی اور اعصابی عوارض، جو پائیدار ترقی کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔” پاکستان میں نیوروسائیکیٹرک امراض عالمی امراض کا 11.9 فیصد ہیں جبکہ جی ڈی پی کا صرف 2.62 فیصد صحت پر خرچ ہوتا ہے، اور خودکشی سے متعلق واقعات کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

مشعل پاکستان کا تحقیقی مطالعہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کے اثرات کا اندازہ کرنے کے لئے پاکستان کی نفسیاتی صحت کا جائزہ لے گا۔ یہ تحقیقی اقدام معاشرے کی ذہنی تندرستی پر دہشت گردی کے اثرات کا اندازہ لگانے پر مرکوز ہے۔ حالیہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کوویڈ۔19 کے دوران کمیونٹیز کی مجموعی طور پر ذہنی صحت پر بہت زیادہ اثر پڑا ہے جبکہ معاشرے کے اجتماعی شعور کا ایک اہم علت تشدد بھی ہے۔

مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ورلڈ اکنامک فورم کے ممبرایکسپرٹ نیٹ ورک عامرجہانگیر نے کہا ہے کہ دماغی صحت پاکستان میں تحقیق کے سب سے نظرانداز کیے جانے والے ایک شعبے میں سے ایک ہے، جبکہ قوم متعدد چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے جس کے بارے میں پالیسی سازوں کو عوامی پالیسی کے ڈیزائن اور مناسب وسائل کی تقسیم کے لئے تحقیقی اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق دنیا بھر کے علمی پلیٹ فارمز میں تحقیقی نتائج کو شامل کرنے اور ذہنی صحت میں سرمایہ کاری میں اضافے کے لئے عوامی پالیسی کے اختیارات تجویز کرنے کے لئے اکیڈیمیا کے شعبے سے مدد لے گی۔ یہ عالمی دماغی صحت کے دن 2020 کا بھی موضوع ہے۔ پاکستان 40 سال سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ توقع کی جارہی ہے کہ جنگ نے معاشرے کی ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب کیے ہیں اور اس سے معاشروں اور ان کی فلاح و بہبود پر مجموعی طور پر منفی اثر پڑا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کی وجہ سے پوری انسانیت ذہنی بیماریوں کا شکار ہے : راحیلہ خادم حسین

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے 2019 کے مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ کے پی کے میں 41 فیصد خواتین جنہیں عارضی طور پر بے گھر ہونے پر جلوزئی کیمپوں میںرکھا گیا تھا وہ پوسٹ ٹرومیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس موقع پر انسائٹس ریسرچ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ندیم سلیم نے کہا کہ ایک چیز جس نے ہمیں ریسرچ اسٹڈی کے لئے حوصلہ افزائی کی وہ یہ ہے کہ ذہنی صحت پر کام کرنا ہماری کمیونٹیز کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے جس سے متاثرہ افرا د کی مدد اور صحیح راہ پر گامزن یا جا سکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے علاوہ ذہنی صحت صرف دماغی بیماریوں کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ صحت مندی کی مثبت حالت کو برقرار رکھنے کے بارے میں بھی ہے۔ اس سال کا عالمی ذہنی صحت کا دن 10 اکتوبر کو ایک ایسے وقت میں منا رہے ہیں جب کوویڈ۔19 کے نتیجے میں ہماری روزمرہ زندگی کافی تبدیل ہوگئی ہے جبکہ پچھلے چند مہینوں میں بہت ساری مشکلات آئی ہیں۔

وبائی مرض کے معاشی انجام پہلے ہی محسوس کیے جارہے ہیں۔ تائیوان سائکائٹرک ریویو 2020 میں شائع پاکستان سائکائٹرک سنٹر،فائونٹین ہائوس اور شوکت خانم ریسرچ سینٹر کی مشترکہ تحقیق کے مطابق، پاکستان میں 220 ملین آبادی کے لئے صرف 400 تربیت یافتہ ماہر نفسیات ہیں، جبکہ 15 ملین سے زیادہ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ مزید یہ کہ پاکستان ایک روایتی معاشرہ ہے جہاں ذہنی بیماری یا اس سے متعلق غیر فعال سلوک پر گفتگو کرنے کی انتہائی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ مشعل پاکستان کے مطالعے میں معاشرتی ڈھانچے اور لوگوں کو پیشہ ورانہ مدد لینے کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ منسلک دبائو کا بھی جائزہ لیا جائے گا ۔