پولیو ویکسین استعمال کرنے والے میں "نئی پولیو بیماری” کا انکشاف

تحریر : یاسر رسول

پولیو سے بھی بیماری پیدا ہوتی ہے ، اس نئی بیماری کا نام میڈیکل کی زبان میں "Non-Polio Acute Flaccid Paralysis” ہے جسے شارٹ کٹ میں ڈاکٹرز اور سائنسدان "NPAFP” بیماری کہتے ہیں ۔ یہ بیماری صرف انہیں ہونے کے امکانات ہوتے ہیں جنہیں بار بار  پولیو ویکسین پلائی جاتی ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق 1 لاکھ میں سے 1 بچے کو یہ بیماری NPAFP لگ سکتی ہے جب کہ 24 لاکھ میں سے ایک کو اصل پولیو ہو سکتا ہے ۔

اس نئی بیماری کا پولیو ویکسین سے کیا تعلق ہے ؟

یہ جاننے کے لیے NCBI یعنی National Center for Biotechnology Informations USA کے ماہرین نے تحقیقات شروع کیں مگر چونکہ یہ تحقیقات عالمی ایجنڈے کے خلاف نتائج دے رہی تھیں اس لیے نہ تو عامی فری میسنری میڈیا نے شور مچایا نہ ہی ہمارے ہاں پائے جانے والے لفافوں نے کبھی اس پر ریسرچ کر کے عوام کو سچ بتانے کی کوشش کی ۔

امریکی ماہرین کی تحقیقات کے مطابق :

ھارت میں پولیو کا آخری کیس 2011 میں ظاہر ہوا ، اسی سال بھارت میں NPAFP بیماری کا مقرر کردہ عالمی ریٹ ہر 1 لاکھ میں سے1 یا 2 بھارتیوں میں ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ شرع 1 لاکھ میں سے 14 بھارتیوں تک پہنچ چکی تھی ۔

یعنی پولیو ویکسین "OPV  کے سائیڈ افیکٹس” سے پیدا ہونے والی نئی NPAFP بیماری نے ایک سال میں ہی ہزاروں بھارتیوں کو متاثر کر کے موت کے گھات اتارا مگر عالمی ادارہ صحت نے چونکہ اسے پولیو بیماری کا سائیڈ افیکٹ ماننے سے انکار کر رکھا ہے ۔ لہذہ اس بیماری کا ذمہ دار پولیو ویکسین کو قرار دینے سے میڈیا کتراتا رہے ۔

یاد رہے یہ صرف ایک سال کے اعداد و شمار تھے ۔ 2011 سے لیکر 2019 تک نجانے کتنے بھارتی موت کے گھات اتر گئے ۔ یہ بیماری صرف انہیں ہوئی جنہیں بار بار ویکسین پلائی گئی ۔ یعنی اوور ڈوز دیے گئے ۔

مزید پڑھیں : اچھی صحت ہی زندگی ہے

اس سے پہلے 2000 سے لیکر 2010 تک کے جمع کیے گئے ڈیٹا پر کی گئی تحقیقات سے ماہرین کو معلوم ہوا کہ بھارت میں NPAFP بیماری کی شرع بڑھنے یا کم ہوجانے کا پولیو ویکسینیشن کے ساتھ گہرا تعلق پایا گیا ۔ یعنی جہاں جتنی زیادہ بار  ویکسین اوور ڈوز کی صورت میں پلائی گئی ان ہی علاقوں میں پولیو سے پیدا ہونے والی نئی پولیو بیماری NPAFP نے بھی زیادہ سر اٹھانا شروع کیا ۔

بھارت میں اس تحقیقات کی اشاعت کے بعد جب سب پر واضع ہو گیا کہ پولیو ویکسین کثرت سے بار بار پلانے سے نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں تو بھارت میں OPV کا ڈوز فورا کم کر دیا گیا ۔ پاکستان میں تحقیقات کا مطالبہ بھی کریں تو کچھ لوگ ہمیں انڈین ایجنٹ، سازشی اور پتا نہیں کون کون سے القابات سے نواز دیتے ہیں ۔

اس کے بعد امریکی ماہرین کہتے ہیں ؛

موجودہ نئی تحقیقات 2011 سے لیکر 2017 تک جمع کیے گئے اعداد و شمار پر یہ دیکھنے کے لیے کی گئی ہے کہ آیا 2011 کے بعد یعنی انڈیا کے "پولیو فری” ملک قرار دیے جانے کے بعد ( جب OPV ویکسین بند کر کے IPV شروع کی گئی ) ویکسین سے پیدا ہونے والی نئی پولیو بیماری NPAFP میں کمی واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟

اعداد و شمار دیکھنے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ انڈیا میں پولیو ویکسین OPV بند ہونے کے بعد پہلے سال ہی یعنی 2012 میں ہی NPAFP بیماری میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے ۔ آخری دفعہ سب سے زیادہ NPAFP کے کیسز اتر پردیش اور بہار ریاستوں میں دیکھے گئے تھے ۔ لیکن وہاں بھی جب پولیو ویکسین OPV بند کر کے IPV شروع ہوئی تو حیرت انگیز طور پر ویکسین سے پھیلنے والی نئی بیماری NPAFP میں بھی تیزی سے کم دیکھی گئی ہے جبکہ خود پولیو کا کوئی نیا کیس بھی سامنے نہیں آیا ۔

مزید پڑھیں : کراچی میں 3 صحتیاب مذید 33 کرونا مریض آ گئے

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اتر پردیش اور بہار میں جہاں 5 سال سے بڑے بچوں کو ڈوز دیے گئے وہیں سب سے زیادہ NPAFP بیماری وہیں پھیلی۔ یاد رہے پاکستان میں بھی آجکل عمر کی حد 5 سال سے بڑھا کر 10 سال ہونے کی خبریں سنائی دے رہی ہیں اور ڈوز بھی مسلسل بار بار دیے جا رہے ہیں ۔

ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ تحقیقات کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ NPAFP بیماری کا تعلق کسی نہ کسی طرح ڈائریکٹ OPV پولیو ویکسین سے ضرور ثابت ہوا ہے۔ جتنی زیادہ پولیو ویکسین OPV پلائی گئی اتنے ہی NPAFP بیماری کے نئے کیسز سامنے آئے اور جیسے ہی 2011 میں انڈیا میں OPV ویکسین بند کی گئی تو NPAFP بیماری کے کیسز بھی تیزی سے گھٹنا شروع ہو گئے ۔

قارئین !

یہاں یہ بات بتانا انتہائی اہم ہے کہ NPAFP یعنی Non-Polio Acute Flaccid Paralysis بیماری خود "پولیو بیماری” سے بھی زیادہ خطرناک اور جان لیوا ہے ۔ پولیو سے انسان صرف معذور ہو سکتا ہے، زیادہ کمزوری کی وجہ سے بھی کروڑوں میں سے کوئی ایک ہی مشکل سے مر سکتا ہے لیکن NPAFP ایک ایسی خطرناک جان لیوا بیماری ہے جس سے اکثریت کی موت واقع ہو جانے کے امکانات رہتے ہیں ۔

ایک اور تحقیق کے مطابق بل گیٹس کی پولیو ویکسین سے صرف انڈیا میں ہی اب تک تقریبا 47,500 لوگ NPAFP بیماری کا شکار ہو کر مر چکے ہیں ۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ پولیو کے خلاف کیسے فتح ہوئی ؟

جہاں ایک بیماری کے ختم ہونے کے دعوے کیے گئے جاتے ہیں، وہیں اس سے زیادہ جان لیوا بیماریاں پھیلا کر لاکھوں انسانوں کو موت کے گھات بھی اتار دیا جاتا ہے ۔ یعنی ایک بیماری سے بچانے کے نام پر دوسری بیماریاں پھیلا کر لوگ کہہ رہے ہیں کہ پولیو پر فتح مل رہی ہے ۔

بیشمار تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے ایڈز، کینسر اور ہیپاٹائٹس بھی پولیو ویکسین OPV سے ہی پھیلے۔ شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ کینسر جس  SV-40 وائرس سے پھیلتا ہے وہ خود پولیو ویکسین OPV میں ڈال کر بچوں کو پلایا جاتا ہے ۔

مزید پڑھیں : دنیا بھرمیں کورونا کے 70 ہزار مریض صحت یاب ہو چکے ہیں

 تو یہ پولیو کے خلاف کیسے فتح ہوئی ؟

عالمی ساہو کار کس کو دھوکا دے رہے ہیں؟

کیا یہ دنیا کی آبادی کم کرنے کا خفیہ عالمی ایجنڈہ ہے ؟

جب ہم ویکسین بنانے والے "بل گیٹس” کے انٹرویو اور عالمی فری میسن کے "ایجنڈہ 21” جسے اب "ایجنڈہ 2030” کہا جاتا ہے کے خدوخال کو دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بل گیٹس خود بھی اعتراف کر چکا ہے کہ دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، وسائل کم سے کم ہو رہے ہیں لہذہ ہمیں ایک تو عالمی آبادی کم سے کم کرنی ہو گی ،دوسرا دنیا میں شرع پیدائش بھی سست سے سست کروانا ہو گی۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن بنایا جائے؟ اسکے لیے وہ کہتا ہے کہ ہم ویکسین کے استعمال سے دنیا کی آبادی کم کر کے 10 سے 15 فیصد تک آسانی سے گھٹا سکتے ہیں۔ (بل گیٹس کا اعترافی وڈیو واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا جا چکا ہے ).

بل گیٹس کے ویکسین میں اربوں ڈالرز کی ڈرامائی سرمایہ کاری ہوتے ہی دنیا میں تیزی سے پولیو بیماری بڑھتی دیکھی جاتی ہے، پھر دنیا کو پولیو بیماری کے پھیلنے سے مسلسل  ڈرایا جاتا ہے، ہھر خود ہی ویکسین تیار کر کے مفت فراہم کی جاتی ہے تا کہ ہر ملک ایک ایک بچے کو زبردستی ویکسین پلاتا رہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ کونسی ویکسین ہے جو دنیا کے ہر بچے کو زبردستی پلائی جاتی ہے ؟ ویسے تو بیشمار ویکسین ہیں لیکن جو سب سے زیادہ اور زبردستی پلائی جا رہی ہے اس کا نام "پولیو ویکسین OPV” ہے، جی ہاں وہی ویکسین ہے جو سالانہ لاکھوں لوگوں کو خاموشی سے NPAFP، کینسر، ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے زریعے موت کے گھات اتارتی ہے جب کہ اس کے استعمال کے بعد پاکستان، انڈیا سمیت پوری دنیا میں شرع پیدائش تیزی سے کم ہوئی ہے جب کہ اموات کی شرع تیزی سے بڑھی ہے ۔

اگر آپ اب بھی "عالمی ڈی پاپولیشن ایجنڈے” کو نہیں سمجھ پا رہے تو برائے مہربانی بل گیٹس کے اعترافی وڈیوز خود سنیے یا "ایجنڈہ 21” پر ریسرچ شروع کیجیے، میری وال پر موجود پولیو تحاریر دوبارہ غور سے پڑھیے اور پھر خود فیصلہ کیجیے ۔ شاید کہ کھل جائیں آنکھیں ۔

نوٹ : امریکی ماہرین کی تحقیقات کی تفصیلات ان کی آفیشل ویب سائٹ پر ملاحظ کیجیے۔ میرا مطالبہ پاکستان سے ویکسین ختم کرنا نہیں، صرف اتنا ہے کہ ویکسین کو چیک کیا جائے اور جب ثابت ہو جائے کہ یہ خطرناک ہے تو محفوظ ویکسین پاکستان میں خود تیار کر کے خود ہی پلائی جائے ۔ عالمی فری میسن یا شیطان کے چیلے بل گیٹس کی فراہم کردہ ویکسین پر اندھا اعتماد کرنا بہت بڑی بیوقوفی ہو گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *