ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق سربراہ پر9 گاڑیوں کے استعمال کا الزام

رپورٹ :وسیم عباسی

ایسے وقت میں جب مرکز میں نئی حکومت وزیراعظم ہاوس میں موجود اضافی گاڑیوں کی نیلامی کررہی ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن میں جاری ایک تحقیقات میں ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ محکمے میں سرکاری گاڑیوں کا بے جا استعمال بہت زیادہ ہے اور ایک سابق چیئرمین نے پانچ سالہ دور میں مبینہ طور پر 9 گاڑیاں اپنے استعمال میں رکھیں۔

دی نیوز کو حاصل ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے افسر سلیم اللہ سوہو نے تیار کیا، اس امر کی سفارش کی گئ ہے کہ سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد سے ایک کروڑ روپے وصول کئے جائیں اور اس معاملے کو قومی احتساب بیورو اور ایف آئی اے کے حوالے کیا جائے۔ ڈاکٹر مختار کا کہنا تھا کہ انکوائری افسر کا دامن خود داغدار ہے کیوںکہ ان کے دور میں مذکورہ افسر کو تادیبی کارروائی کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انکوائری افسر نے پوری تحقیقات کے دوران ان سے رابطہ کرنے کی کوشش تک نہ کی۔ڈاکٹر مختار نے سوال کیا کہ گریڈ 18کا افسر کس طرح سابقہ چیئرمین کے خلاف انکوائری کرسکتا ہے۔ سابقہ چئرمین کا کہنا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں موجود ایک مضبوط لابی ان کے خلا ف متحرک ہے کیوںکہ انہوں نے میرٹ اور قوانین پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ گاڑیوں کے بے جا استعمال سےمتعلق تحقیقات کا نوٹی فکیشن 27 اپریل 2018 کو جاری ہوا جس میں ڈائریکٹر سروسز ڈویژن سلیم اللہ سوہو کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا۔

تحقیقاتی افسر نے اپنی انکوائری 15 مئی 2018 کو مکمل کر کے اسی روز رپورٹ ادارے کے سربراہوں کو ارسال کردی۔ تاہم رپورٹ پر تاحال کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا کیونکہ ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نئے اپنے پیش رو کے لئے انتقامی کارروائی کا تاثر نہیں دینا چاہیئے۔ تاہم، رابطہ کرنے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین طارق بنوری نے کہا کہ انہیں ایسے کسی تحقیقات کا علم نہیں، اور اپنے اسٹاف سے چیک کرنے کے بعد وہ اس حوالے سے آگاہ کرسکیں گے۔ بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ترجمان عائشہ خالد نے دی نیوز کو بتایا کہ گاڑیوں کے بے جا استعمال سے متعلق انکوائری تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایف ٓئی اے یا نیب کے حوالے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ تاحال نامکمل ہے۔ تاہم دی نیوز کو حاصل انکوائری رپورٹ کی کاپی تصویر کا مختلف رخ پیش کرتی ہے.

انکوائری رپورٹ پر تحقیقاتی افسر کے دستخط ہیں جس میں سابقہ چیئرمیں کے دور میں فروری 2013 سے لے کر اپریل 2018 تک گاڑیوں کے بے جا استعمال کے حوالے سے تفصیلات درج ہیں، اور جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی انتظامیہ سے ایکشن لینے کی سفارش کی گئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے واچ ڈاگ نے اس رپورٹ پر کوئی ایکشن نہیں لیا حالانکہ انکوائری افسر نے 9گاڑیوں کے بے جااستعمال اور قومی خزانے کو ایک کروڑ 16 ہزار 432 روپے کا نقصان پہنچانا ثابت کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سابقہ چیئرمین کو ایک ڈرائیور کے ساتھ گاڑی کے استعمال کا حق حاصل تھا لیکن وہ سرکاری، ذاتی اور گھریلو کاموں کے لئے پانچ گاڑیاں مستقل طور پر استعمال کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ٹریکٹر سمیت چار مزید گاڑیاں بھی وقتا فوقتا استعمال کی گئیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابقہ باس کے ذاتی فارم ہاوس کے لئے، جو اسلام آباد لاہور موٹر وے کے قریب واقع ہے، ٹریکٹر، ٹرالی، پانی کا ٹینک، ڈرل مشین اور دیگر آلات اور ملازمین جیسے مالی وغیرہ استعمال کئے گئے۔ اس سارے کاموں کے نتیجے میں قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ٹرانسپورٹ کے شعبے کے افسران اور ڈرائیوروں کے انٹرویو شامل کئے گئے اور استعمال کی گئی 9 گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر درج کئے گئے۔ اس کے مطابق 5.06 ملین روپے ایندھن کی مد میں چار گاڑیوں پر خرچ کئے گئے جبکہ 2.5 ملین روپے گاڑیوں کی مینٹیننس اور دیگر تعمیری کاموں پر خرچ کئے گئے۔

رپورٹ میں لکھا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ٹریکٹر کو 1973 گھنٹے مالی سمیت سابقہ باس کے ذاتی فارم ہاوس پر استعمال کیا گیا جو کھلم کھلا کرپشن ہے۔ اس میں مزید لکھا گیا کہ ٹریکٹر کو 8526 کلومیٹر بے جا استعمال کیا گیا جبکہ ٖفارم ہاوس پر ذاتی کام کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 9 ملازمین بھی استعمال ہوئے جس پر کل لاگت 2.05 ملین روپے آئی۔

رپورٹ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابقہ ٹرانسپورٹ افسر نیاز حسین چنہ 8 مئی 2018 کو انکوائری افسر کے سامنے پیش ہوئے۔ نیاز حسین سے گاڑیوں کے بے جا استعمال کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں زبانی احکامات دیئے گئے جس کی انہوں نے تعمیل کی لیکن اس حوالے سے کوئی تحریری حکم جاری نہیں کیا گیا۔ جب ان کی توجہ گاڑیوں کے استعمال سے متعلق قانون 1980 کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے ان قوانین سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں ڈرائیور ذکریا کی گواہی بھی شامل ہے جس نے اعتراف کیا کہ اسے گاڑی نمبر GU-568 سمیت سابقہ چیئرمین کی فیملی کی ڈیوٹی دی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قوانین فیملی کے لئے کسی خصوصی گاڑی کی اجازت نہیں دیتے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ گاڑیوں کی لاگ بک سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں جھوٹے ناموں سے استعمال کیا گیا، مثال کے طور پر وائس چانسلر کراچی، وائس چانسلر بلوچستان، ڈائریکٹر جنرل ہائر ایجوکیشن کمیشن وغیرہ۔ جب ساری لگ بک کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ کہ تمام اندراج جھوٹ پر مبنی ہے۔

جائزے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایک افسر ایک وقت میں ایک گاڑی استعمال کر رہا ہے اور اسی لمحے دو مزید گاڑیاں بھی اس کے زیر استعمال ہیں۔ متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز نے تحریری بیانات میں نہ صرف گاڑیوں کے بے جا استعمال کی تردید کی بلکہ ان کا نام استعمال کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش بھی کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لاگ بگ کے مطابق چھٹی والے دنوں میں گاڑیاں سرکاری کاموں کے لئے پلاننگ کمیشن، کیبنٹ بلاک اور پاک سیکریٹریٹ وغیرہ گئیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ سابقہ چیئرمین سے پیسے وصول کرنے کے ساتھ ساتھ ممبر آپریشن اینڈ پلاننگ ڈاکٹر غلام رضا بھٹی، سابقہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ نیاز حسین چنہ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے جو اس سارے گورکھ دھندے میں پوری طرح ملوث ہیں۔

سابق چیئرمین ایچ ایس سی ڈاکٹر مختار احمد

دی نیوز کے رابطہ کرنے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابقہ چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے گاڑیوں کے بے جا استعمال کی سختی سے تردید کی اور انکوائری رپورٹ کو داغدار افسران کی جانب سے بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کمیشن کے ٹریکٹر کو اپنے ذاتی فارم ہاوس پر استعمال کا اعتراف کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی رقم انہوں نے اپنی جیب سے ادا کی۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ 15سال مختلف عہدوں پر رہا اور کوئی مجھ پر کرپشن کا الزام عائد نہیں کرسکا لیکن اب یہ لوگ یہ معاملہ لے کر سامنے آگئے ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ اگر میں کرپٹ ہوں تو کیا صرف گاڑی کا بے جا استعمال کروں گا؟ ڈاکٹر مختار کا کہنا تھا کہ انکوائری افسر کا دامن خود داغدار ہے کیوںکہ ان کے دور میں مذکورہ افسر کو تادیبی کارروائی کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری افسر نے پوری تحقیقات کے دوران ان سے رابطہ کرنے کی کوشش تک نہ کی۔ڈاکٹر مختار نے سوال کیا کہ گریڈ 18 کا افسر کس طرح سابقہ چیئرمین کے خلاف انکوائری کرسکتا ہے۔ سابقہ چئرمین کا کہنا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن میں موجود ایک مضبوط لابی ان کے خلا ف متحرک ہے کیوںکہ انہوں نے میرٹ اور قوانین پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اچھے کام کے لئے کسی کو سراہا نہیں جاتا، میں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کامیابی کے لئے بھرپور کام کیا اور اب مجھے اس کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ سابقہ چیئرمین کا مزید کہنا تھا کہ ان کے گھر میں صرف دو گاڑیوں کی گنجائش ہے، اور سرکاری کاموں کے بعد تمام گاڑیوں کو ہائر ایجوکیشن کمیشن میں ہی پارک کیا جاتا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ہیڈکوارٹرز کے قریب ہی رہائش پذیر ہوں اور میری بیٹی بھی قریبی اسکول جاتی ہے، ہمیں کس کام کے لئے 9 گاڑیوں کی ضرورت پڑے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *