بلا اجازت کتابوں کی PDF بنانا کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی ہے

تحریر : فرحان خان

فیس بک پر کہیں ماتم بپا تھا کہ لوگ مصنفین اور اشاعت کاروں کی محنت پر کتابوں کی پی ڈی ایف بنا کر پانی پھیر رہے ہیں۔ کتاب کی تیاری، تسوید ، تصحیح اور فنشنگ پر اٹھنے والے اخراجات کتاب کی قیمت سے ہی پورے ہو سکتے ہیں لیکن ’خدمت خلق‘ کے جذبے سے مالا مال لوگ وہ کتابیں فوراً اسکین کر کے آگے پہنچا دیتے ہیں اور پبلشر بے چارہ اپنے اسٹال کے سامنے بیٹھا بیٹھا سُوکھ جاتا ہے۔

تھوڑا سا مبالغہ ہے لیکن یہ شکوہ بجا ہے۔ بلا اجازت کتاب کی کاپی بنانا غلط ہے۔ بلکہ بعض کتابوں کے شروع میں تو یہاں تک لکھا ہوتا ہے کہ اس کتاب کا کوئی بھی حصہ کسی بھی شکل میں بلا اجازت نقل نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورت میں تو وہ سارے کالم بنانے والے بھی زد میں آ سکتے ہیں جو اپنے کالم ”اقتباسات“ کے گرد بنتے ہیں۔ اگر اس شرط پر سختی ہو جائے تو وہ اپنے ہر کالم سے پہلے اجازت نامے لیتے پھریں گے۔

باقی جہاں تک رہا معاملہ عشاق کتب کا تو وہ اپنے لیے کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سارے پی ڈی ایف کی شکایت کرنے والے پبلشرز کے ہاں بھی انگریزی کی پائریٹڈ کتابیں عام مل جاتی ہیں۔ یعنی ”گوریاں نوں نقصان ہووے تے کوئی مسئلہ نئیں“

مزید پڑھیں : تبلیغی جماعت کے حق میں اہلحدیث مکتب فکر سمیت سیاسی رہنما میدان میں‌ آ گئے

کتابوں کی غیر قانونی اسکیننگ پر روک ابھی شاید مشکل ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ مصنفین اب اتنے اعلیٰ معیار کی کتابیں بنانے لگیں کہ لوگ پی ڈی ایف فارمیٹ ہونے کے باوجود کتاب کی ہارڈ کاپی اپنی لائبریری میں رکھنے کے لیے بے تاب ہو جائیں۔ ایسی کئی سدا بہار کتابیں موجود ہیں۔ کوئی پی ڈی ایف ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔

ویسے آپس کی بات ہے۔ ہر دوگتوں کے درمیان کاغذوں کا دستہ جوڑ دینے سے کتاب تو نہیں بن جاتی بلکہ یہ ایک سنجیدہ علمی سرگرمی ہے اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ لوگ کسی کسی کتاب ہی کی پی ڈی ایف بناتے ہیں ، ہر ایک کی نہیں۔ گویا ایک لحاظ سے پی ڈی ایف کتاب کی ’قبولیت‘ کی علامت ہے۔

یہ لکھتے ہوئے میرا ذہن ایک بحث کی جانب متوجہ ہوا جو مذہبی کتابوں  میں مقدس صحیفے کی چوری سے متعلق ہے۔ مجھے وہ بحث اب پوری طرح یاد نہیں لیکن اتنا یاد پڑتا ہے کہ اس پر سخت سزا تجویز نہیں کی گئی تھی۔(یہ بات میں نے  از راہ تففن لکھی ہے۔ دل پر مت لیجیے)

مزید پڑھیں : سنہری سیریز لکھنے سے اشاعت تک ۔۔۔

پبلشرز اور مصنفین کی لڑائیاں اس وقت بھی چلتی تھیں جب پی ڈی ایف وغیرہ نہیں تھا۔ مصنفین کا استحصال تو اگلے زمانے سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس لیے پبلشرز مصنفین کا منہ بند کرنے کے لیے پی ڈی ایف کا بہانہ بنانا چھوڑ دیں۔ شائع شدہ کتابوں کی درست تعداد مصنف کو بتایا کریں اور ہر ایڈیشن کی اشاعت کی اطلاع بھی رائیلٹی کے ساتھ مصنف کو دیا کریں۔ اور ہاں کتابوں کی قیمت بھی مناسب رکھا کریں۔

جو پبلشرز کتاب پر بھاری قیمت درج کر کے سرکاری تعلقات کے بل پر لائیبریریوں کو ہزاروں کتابیں فروخت کرتے ہیں، انہیں تو یہ شکوہ زیب نہیں دیتا کہ ہم پی ڈی ایف کی وجہ سے لٹ گئے ہیں۔

نوٹ : یہاں پر پی ڈی ایف کی مخالفت صرف وہی شخص کرے جس نے کبھی کوئی پی ڈی ایف فارمیٹ کی کتاب حاصل کی ہو اور نہ پڑھی ہو ۔ اگر کسی نے اسے بھیجی بھی ہو تو اس نے تقویٰ کے تحت اسے چھوا تک نہ ہو ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *