جماعت اسلامی سندھ کے جزائر پر قبضہ نہیں ہونے دیگی : محمد حسین محنتی

کراچی : جماعت اسلامی سندھ نے بھی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے جزائر کو وفاق کے حوالے کرنے والے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جزیرے تاریخی اور آئین کے آرٹیکل 172 کی رو سے سندھ کا حصہ ہیں جن پر صرف سندھ کے عوام کا حق ہے، جزیروں پر امیروں اور جاگیرداروں کے گھر، جوا خانے اور شراب خانوں سمیت عالمی طاغوتی قوتوں کے اڈے قائم کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے ۔ وفاق سندھ کے جزیروں پر قبضہ کرنے کیلئے جاری کردہ صدارتی آرڈیننس فوری طور پر واپس اور سندھ حکومت اس حوالے سے اپنا موقف واضح کرے۔

جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ 2002 میں جماعت اسلامی کے رہنماء اور میئر کراچی نعمت اللہ خان نے بھنڈار اور ڈنگی جزیروں پر ٹیکنالاجی آئیلینڈ سٹی قائم کرنے، سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر فیکٹریز لگانے کا منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت یہاں کے نوجوانوں کو روزگار و ہنر دینا مقصود تھا لیکن بدقسمتی سے اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ۔ جب کہ پرویز مشرف کی جانب سے جدید شہر قائم کرنے کے فیصلہ پر سندھ کے مذہبی، سیاسی اور قوم پرست جماعتوں کے شدید احتجاج کے بعد یہ فیصلہ واپس لیا گیا ۔

مذید پڑھیں : پاکستان میں 34 برس بعد تعلیمی پالیسی تبدیلی

اب پیپلز پارٹی جو گذشتہ 12 سالوں سے سندھ میں اقتدار پر فائز ہے وفاق کے ساتھ گٹھ جوڑ ،اپنے ذاتی مفادات اور رہنماﺅں پر کرپشن کے مقدمات میں رعایت حاصل کرنے کیلئے خفیہ طور پر وفاقی اتھارٹی قائم کرنے کے فیصلہ کی حمایت کررہی ہے جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں ۔

جماعت اسلامی اس ناجائز قبضہ گیری اور سندھ کے وسائل پر قبضہ کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مزاحمت کریگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جزیروں پر جدید شہر قائم ہونے سے بڑی تعداد میں ماہی گیر متاثر ہونگے اور ان کا روزگار ختم ہو جائے گا، ترقی کے نام پر سندھ کے وسائل اور زمینوں کو ملٹی نیشنل کمپنیز اور ملک ریاض جیسے ارب پتی صنعتکاروں کے حوالے کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہوقنے دیں گے ۔

مزید پڑھیں : کالجز کے اساتذہ عالمی یوم اساتذہ پر CM ہائوس کا گھیرائو کریں گے

بھنڈار اور ڈنگی جزائر تاریخی طور پر سندھ کا حصہ ہیں، آئین کے آرٹیکل 172 کے تحت سمندر میں 60 میل تک کا حصہ صوبائی حکومت کی ملکیت ہے ۔ اس کے باوجود وفاق کی جانب سے صدارتی آرڈیننس جاری اور اتھارٹی قائم کرنا سرا سر ظلم ہے ۔

ترقی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سندھ دشمن فیصلے کرکے سندھ کی خود مختاری پر حملہ کیا جائے، اسلئے وفاقی حکومت سندھ کی خودمختاری اور حق حاکمیت کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر سندھ دشمن منصوبے سے لاتعلقی کا اعلان اور جاری کردہ آرڈیننس واپس لے ۔

پیپلزپارٹی کی حکومت بھی سندھ کے جزائر کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرے کیوں کہ پی پی کی کرپشن، نااہلی، بیڈ گورننس کو تو برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن سندھ کے تاریخی حدود اور وسائل پر قابض ہونے والوں کا ساتھ دینے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *