پرویز مشرف کے کہنے پر MQM نے جنرل عثمانی کیخلاف پروپیگنڈا کیا

رپورٹ : شکیل نائچ

حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ بھی کمال کے دانشمند تھے ان کا قول ہے کہ "جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو” جنرل پرویز مشرف پر یہ قول تو سو فیصد صادر آتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی اگر کہانی لکھی جائے تو ایسے درجنوں واقعات بتائے جاسکتے ہیں مگر ہم کور کمانڈر کراچی جنرل مظفر عثمانی کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

12 اکتوبر کو جو فوجی قبضہ ہوا اس کا اصل روح رواں جنرل مظفر عثمانی تھے ، نواز شریف کے حکم پر جہاز کو نواب شاہ لے جانے کی کوشش کی مگر جنرل عثمانی نے فوری طور پر کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ۔ جہاز کراچی ایئرپورٹ پر بخیر و عافیت اتر گیا ، کمانڈو آرمی چیف کے چہرے کی ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں ، جنرل مظفر عثمانی ان کے استقبال کے لئے کھڑے تھے ۔ جنرل پرویز مشرف نے پریشانی کے عالم میں پوچھ لیا کہ جنرل عثمانی کیا صورت حال ہے کیونکہ وہ تذبذب کا شکار تھے کہ پتہ نہیں کیا ہو گا وجہ یہ تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کر چکے تھے ۔

جنرل عثمانی نے اعتماد اور تحمل سے جواب دیا کہ اطمنیان رکھیں صورت حال کنٹرول میں ہے ۔ پھر چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا کہ آپ کے لئے وزیر اعظم کا حکم ہے کہ حراست میں لیا جائے ۔ جنرل پرویز مشرف کو اب اطمنیان ہو چکا تھا کہ انہیں فوج نے بچا لیا ہے ۔ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا پھر چند ماہ بعد جنرل پرویز مشرف نے جنرل مظفر عثمانی سے کہا کہ ایم کیو ایم اور پولیس کو ساتھ بٹھائیں ایم کیو ایم کے مسائل حل کرنے ہیں ۔

مزید پڑھیں: جنرل (ر) مظفر حسین عثمانی بھی چل بسے

ملیر چھاؤنی میں پہلے جی او سی میجر جنرل افتخار کے ساتھ ایم کیو ایم کے وفد نے آفتاب شیخ کی سربراہی میں وفد نے شرکت کی ۔ پولیس کی جانب سے ڈی آئی جی جاوید اقبال نے شرکت کی ۔ایم کیو ایم کے وفد نے ایک مطالبہ رکھا کہ ایم کیو ایم کے تمام اسیر کارکن رہا کئے جائیں ۔دوسرا یہ کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں و کارکنوں کے خلاف تمام مقدمات واپس کئے جائیں اور تیسرا یہ کہ کراچی آپریشن کے تمام پولیس افسران کو ملازمت سے برطرف کیا جائے ۔

ڈی آئی جی جاوید اقبال نے ایم کیو ایم کے تمام اسیر کارکنوں کی رہائی عدالتی احکامات سے مشروط کیا ، مقدمات ختم کرنے کیلئے عدالتی کمیشن بنانے کی تجویز دی اور کراچی آپریشن کے پولیس افسران کو بر طرف کرنے کی کھل کر مخالفت کی یوں یہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوا ۔

اب دوسرا اجلاس کور کمانڈر جنرل مظفر عثمانی کے پاس ہوا ، ایم کیو ایم کے وفد نے وہی تینوں مطالبات رکھے ،ڈی آئی جی جاوید اقبال نے اپنا مؤقف پیش کر دیا ۔جنرل مظفر عثمانی نے پہلے دونوں مطالبات مسترد کر دئیے ۔ البتہ تیسرے مطالبہ پر کہا کہ کراچی آپریشن کے پولیس افسران کو کراچی سے باہر پوسٹنگ دیں گے ۔ انہیں برطرف نہیں کر سکتے ۔ ایم کیو ایم کا وفد خالی ہاتھ واپس آ گیا اور انہوں نے جنرل پرویز مشرف سے بات کی ۔ جنرل پرویز مشرف نے جب جنرل مظفر عثمانی سے بات کی تو وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے ۔ جس پر پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کی قیادت سے کہا کہ وہ جنرل عثمانی کے لئے کوئی مہم چلائیں ۔ پھر الطاف حسین نے مشروب مغرب پی کر بیہودہ لغو اور بے بنیاد الزامات پر مبنی تقریر کی کہ کور ہیڈکوراٹر میں جنرل مظفر عثمانی نے کراچی آپریشن کے افسران کو انعام کے طور پر رولیکس گھڑیاں دی ہیں ، جو مکمل جھوٹ تھا مگر الطاف نے یہ سب پرویز مشرف کی ایما پر کیا تھا ۔

مزید پڑھیں: مشرف کے ساتھی عمران خان سے کیوں ملے ؟

جنرل مظفر عثمانی کی سخت پالیسی کے باعث ایم کیو ایم نے 2001ء کے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ، جس کے نتیجہ میں نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کراچی کے ناظم اعلیٰ بن گئے تھے مگر جب الطاف نے الزامات لگائے تو جنرل عثمانی اندر سے ٹوٹ گئے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ سب پرویز مشرف نے ہی کرایا ہے ۔ پرویز مشرف ان اختلافات پر ہٹانا نہیں چاہتے تھے کیونکہ جرنیل اعتراض کرتے ۔ وہ الطاف حسین سے تنقید کروا کر جنرل عثمانی کو خود مستعفی ہونے کا راستہ بنا رہے تھے پرویز مشرف نے اس دوران انہیں ڈپٹی آرمی چیف بنایا تھا ۔

جنرل عثمانی کے بیٹے کی طبیعت ناساز تھی ، وہ بارہ اکتوبر کے بعد زیادہ توجہ بیٹے کی بیماری پر دیتے تھے ۔ الطاف کے الزامات کے بعد جنرل عثمانی بدل ہو گئے اور پرویز مشرف کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے لگے ۔ نائن اکیون کے بعد پرویز مشرف کی پالیسی سے اختلاف کیا اور پھر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی اور پھر وہ گوشہ نشینی میں چلے گئے لیکن نجی محفلوں میں پرویز مشرف کو بارہ اکتوبر کو بچانے پر افسوس کا اظہار کرتے تھے ۔ اب جنرل مظفر عثمانی اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی ایم کیو ایم کے حوالے سے پالیسی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا ۔ اسی پالیسی کے تسلسل کے باعث صولت مرزا پھانسی چڑھا ، نائن زیرو ویران ہوا ، الطاف حسین کا جیتے جی زوال ہوا اور ایم کیو ایم کی عسکری ونگ کا خاتمہ ہوا ۔ اللہ تعالیٰ جنرل مظفر عثمانی کی مغفرت فرمائے (آمین) ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *