وزیرِ اعظم کے احکامات کو EOBI انتظامیہ نے ہوا میں اُڑا دیا

کراچی : ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ نے بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے مرحوم ملازمین کی بیوہ  اور یتیم بچوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے ، ای او بی آئی انتظامیہ کے سنگدل افسران نے بورڈ آف ٹرسٹیز کی منظوری کے باوجود متوفی ملازمین کے بچوں اور بیواؤں کو بھرتی نہیں کیا ہے ۔

کیبنٹ سیکریٹریٹ، اسٹبلشمنٹ ڈویژن حکومت پاکستان نے 4 دسمبر 2015 کو دوران ملازمت وفات پاجانے والے سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کے لئے وزیر اعظم کے نظر ثانی شدہ امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا ۔ جس کے تحت متوفی سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کو با عزت زندگی گزارنے کے لئے مالی امداد اور سہولیات کی فراہمی کی منظوری دی گئی تھی ۔ امدادی پیکج میں گریڈ ایک تا 20 کے متوفی ملازمین کے لواحقین کے لئے 6 لاکھ تا 30 لاکھ روپے کی یکمشت امداد ، پنشن ، رہائشی سہولیات کی فراہمی، بچوں کی تعلیم، پلاٹ کی الاٹمنٹ، متوفی ملازمین کے یتیم بچوں/ بیوہ کو ملازمت کی فراہمی ، بچیوں کی شادی کے لئے میرج گرانٹ، مفت علاج، قرضہ تعمیر مکان شامل تھے ۔

وزیر اعظم کے اس امدادی پیکج کو ملک کے تقریباً تمام سرکاری،نیم سرکاری اور خود مختار اداروں نے منظور کر لیا ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے منسٹری آف اوورسیز پاکستانی اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ، اسلام آباد کے ذیلی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوٹ کی ڈیپوٹیشن انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور لا پرواہی کے باعث محکمہ میں اس امدادی پیکج کا اب تک نفاذ نہیں ہو سکا ہے ۔ جس کے باعث ای او بی آئی کے دوران ملازمت وفات پاجانے والے درجنوں ملازمین کے یتیم بچے اور بیوائیں حکومت کی اس اہم سہولت سے قطعی محروم ہیں ۔

مذید پڑھیں : وقف املاک بل کیخلاف اسلام آباد کے علمائے کرام میدان میں آ گئے

ای او بی آئی ایمپلائیز فیڈریشن کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے اپنے 120 ویں اجلاس منعقدہ 17 اکتوبر 2019 میں وزیر اعظم کے امدادی پیکج کے تحت صرف ایک سہولت یعنی متوفی ملازمین کے یتیم بچوں کی ملازمت کے لئے بلا کسی اشتہار گریڈ ایک تا 15 کے لئے بھرتی کی منظوری دیدی تھی ۔ لیکن بورڈ کی جانب سے متفقہ منظوری کے باوجود ای او بی آئی کے دوران ملازمت وفات پاجانے والے یتیم بچوں/ بیواؤں کو تاحال ادارہ میں بھرتی نہیں کیا گیا ہے ۔

متوفی ملازمین کے یتیم بچوں کی بھرتی کے لئے بورڈ آف ٹرسٹیز کے فیصلے کا عکس

ای او بی آئی ایمپلائیز فیڈریشن کے رہنماء عطا محمد خان اس انسانی مسئلہ کے حل کے لئے ایک عرصہ سے کوشاں ہیں اور اس مقصد کے لئے بے شمار مرتبہ انتظامیہ سے تحریری درخواستیں بھی کر چکے ہیں ۔ لیکن ان کی ساری کوششیں بے سود رہی ہیں ۔

واضح رہے کہ ادارہ کی پوری کی پوری انتظامیہ باہر سے بھاری اثر و رسوخ کے ذریعہ اور سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس ڈیپوٹیشن پر آنے والے اعلیٰ افسران پر مشتمل ہے ۔ جو خود تو اپنے اصل محکموں اور ای او بی آئی دونوں کی مراعات سمیٹنے میں مصروف ہیں لیکن ادارہ کے مستقل ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے ۔ چیئرمین ای او بی آئی عبدالحمید  کا بیشتر وقت اسلام آباد میں گزرتا ہے جس کے باعث مختلف ڈپارٹمنٹ کے ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیڈز بھی غائب ہو جاتے ہیں یا دیر سے دفتر آ کر چھٹی سے قبل گھر چلے جاتے ہیں ۔

مذید پڑھیں : طاہر صدیق چوہدری نے EOBI اور NCOC انتظامیہ کو ماموں بنا دیا

ذرائع کے مطابق بظاہر ڈیپوٹیشن پر تعینات اعلیٰ افسران ای او بی آئی کی نوکری کے ذریعہ ہر قسم کی سہولیات اور مراعات کے حصول کے باوجود وقت گزاری کر رہے ہیں ۔ اس صورت حال کے باعث ادارہ کے ملازمین کے اہم معاملات تنخواہوں میں اضافہ کا دیرینہ مسئلہ، پنشن، میڈیکل، گروپ انشورنس، اسپتالوں اور ٹھیکیداروں کے بلوں کی ادائیگی وغیرہ کے اہم معاملات کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ جب کہ ادارہ کی بقیہ انتظامیہ میں کلیدی عہدوں پر خلاف ضابطہ طور پر مخصوص طبقہ کے انتہائی جونیئر افسران براجمان ہیں ۔

دوران ملازمت وفات پاجانے والے سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کے لئے وزیراعظم کے امدادی پیکج کا عکس

جو گروہی اور جوڑ توڑ کی سیاست میں مصروف رہتے ہیں ۔ جس کے باعث ای او بی آئی میں طویل عرصہ تک خدمات انجام دے کر ادارہ کی ترقی و ترویج میں اپنا خون پسینہ بہانے والے متوفی ملازمین کے یتیم بچے اور بیوائیں ہیڈ آفس کے چکر پر چکر لگا کر تنگ آ چکے ہیں اور بعض گھرانوں میں فاقہ کشی کی نوبت بھی آ چکی ہے ۔ لیکن ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے افسران ان یتیم اور لاوارث بچوں اور بے سہارا بیواؤں کو مختلف حیلے بہانوں سے ٹرخا دیتے ہیں ۔

اس سنگین صورت حال کے باوجود ای او بی آئی کی سنگدل اور بے حس ڈیپوٹیشن انتظامیہ کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی ۔ ای او بی آئی میں اس صورت حال کے باعث متوفی ملازمین کے لواحقین میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے ۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. کیا ان مشکلات کا ذلفی بخاری صاحب کو پتہ ہے۔ آخر ہر ادارے کے سربراہ اور سیکرٹری ہوتے ہونگے۔
    ان کو ان مشکلات کا خط اور میٹنگز کے زریعے ہونا چاہیے۔