دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کی کہانی

دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کی کہانی

کرہ ارض کا سب سے مشہور سرچ انجن گوگل صرف سرچ انجن ہی نہیں رہا بلکہ یہ اشتہاروں کے لیے اہم پلیٹ فارم، کاروباری ماڈل اور ذاتی معلومات اکٹھی کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

ہاں جب بھی ہم گوگل پر کسی چیز کی تلاش کرتے ہیں تو گوگل کو ہماری ترجیحات اور عادات کے بارے میں مزید معلومات ملتی ہیں۔ لیکن گوگل ہمارے بارے میں کتنا چانتا ہے؟مندرجہ ذیل گوگل کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں ہیں جو آپ کو حیران کر دیں گی۔

” نام ”

گوگل کا کیا مطلب ہے؟ اب سے کچھ عرصہ قبل تک تو اس کو کوئی مطلب نہیں تھا ۔گوگل کا کیا مطلب ہے؟ گوگل اصل میں ریاضی کی اصطلاح ’گوگول‘ کی غلط ہجے ہے۔ گوگول اصل میں 1 اور اس کے بعد 100 صفر کو کہتے ہیں۔

اس حوالے سے کئی غیر متسند کہانیاں ہیں کہ کیسے ابتدائی دنوں میں یا تو کسی انجنیئر نے یا طالب علم نے اصل ہجے کو غلط لکھا۔ اور یہ غلطی مرکزی دھارے کا حصہ بن گئی۔

"بیک رب”

گوگل کے مشترکہ بانی لیری پیج اور سرجی برِن نے گوگل کا نام ‘بیک رب’ رکھا تھا ۔اس نام کا مساج سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ یہ اس نظام کو کہا جاتا ہے جس میں ماضی میں دیے گئے لنکس کے ذریعے صفحات کو ڈھونڈنا اور رینک کرنا ہے۔

” گوگل بزنس ”

گوگل میں صرف بزنس ہی نہیں بلکہ وہاں کافی خوش مزاجی بھی ہے ۔ اگر یقین نہیں آتا تو انگریزی لفظ "askew” گوگل کریں اور خود جان لیں۔

” بکریاں ”
گھاس کاٹنے کے لیے مشین نہی بلکہ بکریاں رکھی ہوئی ہیں ۔گوگل کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے حق میں ہے اور اسی لیے اس نے گھاس کاٹنے کے لیے مشین نہیں بلکہ بکریاں رکھی ہوئی ہیں۔کیلیفورنیا کے علاقے ماؤنٹین ویو میں واقع گوگل پلیکس ہیڈ کوارٹر کے بڑے بڑے باغات کی دیکھ بھال متواتر ہونی ضروری ہے۔ اسی لیے آپ کو ان باغات میں 200 بکریاں گھاس چرتے ہوئے دکھیں گی ۔

کیلیفورنیا کی ماؤنٹین ویو میں واقع گوگل ہیڈ آفس کے باغات میں موجود بکریاں

” بڑھتا ہوا کاروبار ”

گوگل 2010 سے اوسطاً ہر ہفتے ایک کمپنی خرید رہا ہے ۔جی میل، گوگل میپس، گوگل ڈرائیو، گوگل کروم بنانے کے علاوہ گوگل 2010 سے اوسطاً ہر ہفتے ایک کمپنی خرید رہا ہے ۔

آپ کو شاید یہ معلوم نہ ہو لیکن 70 دیگر کمپنیوں کے علاوہ اینڈروئڈ، یو ٹیوب، ویز اور ایڈ سنس جیسی کمپنیاں بھی گوگل ہی کی ہیں۔

” ڈوڈل ”

سب سے پہلا گوگل ڈوڈل 30 اگست 1998 میں استعمال کیا گیا یہ محض یہ پیغام دینے کے لیے تھا کہ ’دفتر میں نہیں ہوں گے‘۔یہ خیال لیری اور سرجی کو اس وقت آیا جب وہ نیواڈا میں ’برننگ مین فیسٹیول‘ پر گئے اور جاتے ہوئے انہوں نے صارفین کو یہ بتانے کے لیے وہ دفتر میں نہیں ہوں گے اپنی ای میل میں ’برننگ مین‘ کا ڈوڈل بنایا۔تب سے گوگل میں ڈوڈل ایک روایت بن گئی ہے کہ اہم دن یا شخصیات کے حوالے سے خاص طور پر تیار کردہ آرٹ ورک کا ڈوڈل بنایا جاتا ہے۔

” گوگل کے لیے کوٸ خریدار نہیں تھا”

سنہ 1999 میں لیری اور سرجی گوگل کو دس لاکھ ڈالر میں فروخت کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن خریدار کوئی نہیں تھا حتی کہ ان دونوں نے قیمت بھی کم کی تھی ۔گوگل کی اس وقت قدر 300 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ کسی کو تو افسوس ہو رہا ہو گا کہ یہ موقع ہاتھ سے کیوں جانے دیا۔

” اصول عمل ”

گوگل کمپنی کا ایک اصول عمل یہ ہے کہ ‘کسی کو نقصان نہ پہنچائیں’۔ کیا کمپنی نے اس پر عمل کیا ہے؟ اس کا فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔

"خوراک کی اہمیت ”

گوگل کے آغاز پر کمپنی کا پسندیدہ ترین کھانا ‘سویڈش فش’ تھی ۔امریکی جریدے فوربز کے مطابق گوگل کے بانی سرجی برِن نے کمپنی بنانے کے فوری بعد ہی یہ سوچ لیا تھا کہ اس کمپنی کا کوئی دفتر کھانے کی جگہ سے 60 میٹر سے زیادہ کے فاصلے پر نہیں ہو گا۔کہا جاتا ہے کہ گوگل کے آغاز پر کمپنی کا پسندیدہ ترین کھانا ’سویڈش فش‘ تھی۔ لیکن آج کل گوگل کے ملازمین کو مختلف قسم کے کھانوں اور بہترین کافی تک رسائی حاصل ہے۔

” گوگل کا بہترین دوست ”

ملازمین کو اپنے پالتو جانور دفتر لانے کی اجازت ہے ۔گوگل کمپنی میں پرانے ملازمین کو گوگلرز کہا جاتا ہے جبکہ نئے ملازمین کو نوگلرز کہا جاتا ہے۔ دونوں ہی قسم کے ملازمین کو اپنے پالتو جانور دفتر لانے کی اجازت ہے اگر یہ جانور تربیت یافتہ ہیں اور دفتر میں گندگی نہیں کریں۔

"لیگو ”

کیا آپ کو معلوم ہے کہ گوگل کو لیگو بہت پسند ہے اور اتنا زیادہ پسند ہے کہ گوگل کا پہلا کمپیوٹر سٹور کرنے کا کمرہ لیگو سے بنا تھا ۔اگرچہ گوگل کی سرچ کرنے کی صلاحیت میں 1999 کے مقابلے میں 100 گنا اضافہ ہوا ہے لیکن وہ اس کو 10 ہزار گنا تیزی سے اپ ڈیٹ کرتے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *