حیدر آباد موٹروے پر وین الٹنے سے 13 افراد شہید

کراچی : حیدر آباد موٹروے (ایم 9) پر نوری آباد تھانے کی حدود میں مسافر وین میں الٹنے کے بعد آگ لگنے سے 13 افراد جھلس کر شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ۔

ایڈیشنل آئی جی موٹروے پولیس ڈاکٹر آفتاب پٹھان نے الرٹ نیوز کو بتایا کہ وین میں کم از کم 20 افراد سوار تھے اور وہ لکی سیمنٹ فیکٹری سے قبل حادثے کا شکار ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حادثے میں بچ جانے والے 7 افراد میں سے 5 کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد دی جا رہی ہے ۔

آئی جی موٹرووے کا کہنا تھا کہ 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں ، جب کہ بچ جانے والوں میں وین ڈرائیور اور بچہ بھی شامل ہے ۔ ابتدائی طور پر لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے ۔ ڈاکٹر آفتاب پٹھان نے کہا کہ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ اس نے وین کے آگے موجود گاڑی کا بونٹ ٹوٹنے کے بعد وین سے ٹکرانے کے باعث بریک لگایا تھا۔

مذید پڑھیں : واٹر بورڈ‌ کے چیف انجنیئر سیوریج سعید شیخ ابھرتے ہوئے ارب پتی افسر نکلے

نوری آباد کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نذر دریشَک نے کہا کہ وین حیدر آباد سے کراچی جارہی تھی اور حادثہ حیدر آباد سے 63 دور پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ وین نے الٹنے کے بعد کئی قلابازیاں کھائیں جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ لاشیں جل کر سیاہ ہو گئی ہیں ۔

کراچی اور ایدھی ہوم سے ایدھی کی ایمبولینسز موقع پر پہنچیں جب کہ آگ بجھانے کے لیے فائر ٹینڈرز کو طلب کیا گیا تھا ۔ حادثے کے بعد موٹروے پولیس نے ایم 9 کا حیدر آباد ، کراچی سیکشن بند کر دیا جس کے باعث اس پر ٹریفک معطل ہو گئی ۔

واضح رہے کہ سڑکوں کی خراب صورت حال، خستہ حال گاڑیوں اور ڈرائیونگ کے دوران لاپرواہی کے باعث ملک میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات میں ہر سال ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ روٓں سال کے اوائل میں نیو کراچی کے علاقے میں چلتی ہوئی وین میں آتشزدگی سے چار بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق اور 5 شدید زخمی ہوئے تھے ۔