طاہر صدیق چوہدری نے EOBI اور NCOC انتظامیہ کو ماموں بنا دیا

کراچی : ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوٹ کے چہیتے افسر نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر اسلام آباد کو ماموں بنا دیا ۔ لاک ڈائون میں دفتر سے غیر حاضری کے باوجود NC&OC اسلام آباد کی بھیجی گئی رپورٹ میں‌ خود کو حاضر ظاہر کر کے حاضر ہونے والے افسران کی حق تلفی کی ہے ۔

الرٹ نیوز کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق چیئرمین او بی آئی کے چہیتے افسر اور ڈیپوٹیشن پر تعینات ہونے والی ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ کے اسٹاف افسر طاہر صدیق المعروف طاہر چوہدری لاک ڈاؤن کے دوران تقریباً ڈھائی ماہ تک ڈیوٹی سے بلا اطلاع غیر حاضر رہے ہیں ۔

ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن کے سرکاری ریکارڈ میں طاہر صدیق کا اصل نام لکھا ہوا ہے ۔

سرکاری اختیارات اور کلیدی عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے 30 جون کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر اسلام آباد کی جانب سے لاک ڈاؤن کے 100 دنوں کی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کے جواب میں صدیق چوہدری نے اپنا نام سر فہرست شامل کیا ہے ۔ دستاویزات کے مطابق مارچ تا جون کورونا وائرس کے عروج کا دور تھا جس میں اپنی زندگی کو خطرات میں ڈال کر دفتر آنے اور اپنے فرائض منصبی انجام دینے والے ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ کے فرض شناس افسران اور اسٹاف ملازمین کو یکسر نظر انداز کر کے طاہر صدیق عرف صدیق چوہدری نے اپنا نام سرفہرست رکھ کر اعلیٰ افسران کی آنکھوں میں دھول جھونکی ہے ۔

مذید پڑھیں : وزیر اعظم کمرشل امپورٹرز کو صنعت کا درجہ دیں : PCDMA کا مطالبہ

ایک سینئر ملازم نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 2014 میں بلا کسی تجربہ اور انٹرویو بھرتی ہونے والے جونئیر ترین اسسٹنٹ ڈائریکٹر طاہر صدیق المعروف طاہر چوہدری نے پس پردہ مقاصد کے تحت اپنے زبردست اثر و رسوخ کے ذریعہ ادارہ کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ میں گھس کر لاقانونیت کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ طاہر صدیق نے خلاف ضابطہ طور پر اپنا کیڈر فنانس سے تبدیل کر کے آفس کیڈر میں تبدیل کرایا اور پھر بعض اعلیٰ افسران کی مکمل آشیر باد سے سینئر اور تجربہ کار افسر شاکر علی ڈپٹی ڈائریکٹر کو ایچ آر ڈپارٹمنٹ سے بیدخل کرا دیا ۔ اس کی سیٹ سنبھال لی ۔ جس کے بعد ایچ آر ڈپارٹمنٹ تیزی سے زوال پذیر ہے ۔

اسلام آباد NCOC کا بھیجا گیا لیٹر اور اس کے جواب میں طاہر صدیق کا تیار کردہ جواب کا عکس

بتایا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن سے قبل طاہر صدیق نے 16 مارچ تا 20 مارچ تک اتفاقیہ رخصت حاصل کی اور اپنے آبائی علاقہ چلے گئے ۔ بعد ازاں طاہر صدیق پورے ماہ اپریل اور مئی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے اور لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد یکم جون کو ڈیوٹی پر حاضر ہوئے ۔ جب کہ کورونا وائرس کے عروج کے دور میں ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے باقی افسران اور اسٹاف ملازمین اپنی زندگی خطرات میں ڈال کر باقاعدگی سے دفتر آ کر اہم دفتری کام نمٹاتے رہے ۔ ان میں بعض ملازمین کی عمر 50 سال سے بھی زائد ہے ۔

ان میں نائب قاصد خورشید خٹک کا ایک اہم کردار رہا ہے ۔ جس نے ماہ مارچ میں لاک ڈاؤن کے دوران ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور ادارہ کے ملازمین کی تنخواہوں کے چیک بر وقت 5 بینکوں میں پہنچائے اور اسی طرح شیراز نامی نائب قاصد نے ڈیوٹی پر دفتر آنے والے افسران کی فوٹو کاپیوں، ڈاک کی تقسیم میں بھرپور معاونت کی اور ان کے کھانے پینے کا برابر خیال رکھا ۔

مذید پڑھیں : واٹر بورڈ‌ کے چیف انجنیئر سیوریج سعید شیخ ابھرتے ہوئے ارب پتی افسر نکلے

ڈائریکٹر جنرل کے پی اے محمد راشد ( اسپیشل پرسن ) ، ذیشان سعید سینئر اسسٹنٹ اور نسیم حیدر اور دیگر اسٹاف ملازمین باقاعدگی سے دفتر آتے رہے ہیں ۔ اگرچہ ایچ آر ڈپارٹمنٹ میں 8 افسران اور 16 اسٹاف ملازمین اور 5 معطل شدہ اعلیٰ افسران ہیں ۔ معطل اعلیٰ افسران میں کروڑوں روپے کے غبن میں ملوث ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس محمد ایوب خان ، 34 ارب کے میگا لینڈ اسکینڈل کا مرکزی کردار آصف آزاد ، ڈائریکٹر فنانس، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عاصمہ عامر اور دیگر ملازمین شامل ہیں ۔

محمد ایوب خان، آصف آزاد اور عاصمہ عامر کافی عرصہ سے معطل ہیں اور گھر بیٹھے بھاری تنخواہیں، پرکشش مراعات، ہر ماہ ہزاروں روپے کے میڈیکل بلز، سرکاری گاڑی معہ پٹرول مال مفت دل بے رحم کے مصداق حاصل کر رہے ہیں ۔ ادارہ کے ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ تینوں خلاف ضابطہ بھرتی شدہ اعلیٰ افسران ای او بی آئی کی بدنامی کا باعث اور زبردست بوجھ بن گئے ہیں ۔ لیکن طاہر صدیق نے اعلیٰ افسران کو گمراہ کرتے ہوئے 20 افسران اور اسٹاف ملازمین کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف 4 ملازمین کا نام ڈال کر اور اپنا نام سر فہرست دکھا کر بقیہ افسران اور اسٹاف ملازمین کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے ۔

ای او بی آئی کی آفسیر ایسوسی ایشن کے پروگرام میں تقریر کرنے کا اسٹائل بناتے ہوئے فوٹو

جس کے باعث ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے سینئر اور فرض شناس ملازمین میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ ان متاثرہ افسران اور ملازمین کا کہنا ہے کہ طاہر صدیق کو کس اعلیٰ افسر نے گھر بیٹھ کر کام انجام دینے کے احکامات دیئے اور انہوں نے آخر ایسا کون سا اہم کارنامہ انجام دیا اور وہ گھر بیٹھ کر کام انجام دینے کے ای میلز کا ثبوت پیش کرے ۔

مذید پڑھیں : پنشنرز کی پنشن میں EOBI نے 2 ہزار روپے کمی کر دی

واضح رہے کہ ایچ آر ڈپارٹمنٹ میں جونئیر افسران کے راج کے باعث حاضری اور رخصت کے ریکارڈ کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں ہے ۔ کافی عرصہ سے ای او بی آئی کا ایچ آر ڈپارٹمنٹ ادارہ کی انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور چشم پوشی کا شکار ہے ۔ یہاں کچھ عرصہ بعد خلاف ضابطہ طور پر ڈیپوٹیشن پر اعلیٰ افسران آتے ہیں اور وقت گزاری کر کے چلے جاتے ہیں یا ادارہ کے کسی افسر کو بطور سزا ایچ آر ڈپارٹمنٹ تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں خلاف ضابطہ طور پر ڈیپوٹیشن پر تعینات خاتون ڈائریکٹر جنرل تعینات کی گئی ہیں ،جن کی عدم دلچسپی اور منظور نظر افسران پر خاص عنایات کی بناء پر جس کی جب مرضی آتی ہے منہ اٹھا کر آ جاتا ہے ۔ خصوصاً 2007 اور 2014 میں بھرتی ہونے والے افسران کے ادارہ میں کلیدی عہدوں پر فائز رہنے کے باعث ان افسران کے گروپ اپنے آبائی علاقوں میں ہفتوں اور مہینوں جی رخصت گزارنے کے بعد آتے ہیں اور غیر حاضری کے باوجود پوری تنخواہ اور بھاری مراعات اور میڈیکل سہولیات کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

ابھی حال ہیں میں طاہر صدیق عیدالاضحیٰ سے کافی دن قبل ہی 27 جولائی سے رخصت پر اپنے آبائی گھر چلا گیا اور پھر17 اگست جو ڈیوٹی پر پہنچا ۔ بتایا جاتا ہے کہ طاہر صدیق اپنے آبائی علاقے کے لئے رخصت کے دوران بعض اعلیٰ افسران کی ساز باز سے اسے سرکاری دورہ ظاہر کر کے بھاری ٹی اے ڈی اے بھی بٹورتا ہے ۔ اگر اس تین برسوں کے ٹی اے ڈی اے کی تحقیقات کی جائیں تو سنسنی خیز انکشافات سامنے آئیں گے ۔

طاہر صدیق کے پاس بیک وقت اسٹاف افسر ٹو ڈی جی ایچ آر ڈپارٹمنٹ، ڈسپلنری ایکشن، ٹرانسفر اینڈ پوسٹنگ اور ٹریننگ کے چارج ہیں ۔ طاہر صدیق کے متعلق ابھی مزید انکشافات باقی ہیں ۔

مذید پڑھیں : ای او بی آئی انوسٹمنٹ کمیٹی کا 259واں اجلاس

ایچ آر ڈپارٹمنٹ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ڈائریکٹر جنرل کی عدم دلچسپی اور جونئیر افسران کے تسلط کے باعث ایک طویل عرصہ سے اپنی جائز ترقیوں کے منتظر ملازمین، ادارہ میں دوران ڈیوٹی وفات پاجانے والے درجنوں ملازمین کے بے آسرا بچوں کی بھرتی اور 2017 میں 300 سے زائد افسران و ملازمین کی بھرتی جیسے اہم معاملات زیر التواء ہیں ۔

ای او بی آئی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ملازمین 20 اور 25 برسوں سے اپنی جائز ترقیوں سے محروم ہیں ، متعدد ملازمین ترقی کی تمناء لئے ملازمت سے ریٹائر ہو چکے ہیں ۔ ادارہ کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے دوران ڈیوٹی وفات پاجانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتی کی منظوری دیدی ہے ۔

بورڈ آف ٹرسٹیز کی جانب سے EOBI کے دوران ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتی کی منظوری کا فیصلہ

متوفی ملازمین کے بچے اپنے حق کے لئے بار بار چکر لگا کر تھک چکے ہیں، لیکن ایچ آر ڈپارٹمنٹ کے متعلقہ سنگ دل افسران انہیں بہانوں سے ٹرخا دیتے ہیں۔ 2017 میں ای او بی آئی نے 300 خالی آسامیوں پر بھرتی کے لئے اخبارات میں اشتہار دیا تھا ،جس کے جواب میں ہزاروں درخواستیں موصول ہوئی تھیں لیکن ادارہ کو یرغمال بنائے ہوئے 2007 اور 2014 کے افسران محض اپنے ذاتی مفاد کی خاطر سن بھرتیوں میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں کیونکہ اس گروپ کو ڈر ہے کہ ان کی بھرتی سے ان کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ ای او بی آئی کی اصول پرست اور دیانتدار فنانشل ایڈوائزر ناصرہ پروین خان کی سربراہی میں قائم سنیارٹی لسٹ کی سفارشات میں سیریل نمبر 24 پر طاہر صدیق کی جانب سے خلاف ضابطہ طور پر فنانس کیڈر سے آفس کیڈر کی تبدیلی کے متعلق ریمارکس موجود ہیں ۔