واٹر بورڈ‌ کے چیف انجنیئر سیوریج سعید شیخ ابھرتے ہوئے ارب پتی افسر نکلے

کراچی : چیف انجینئر سیوریج سعید شیخ نے اپنی نوکری کی شروعات کورنگی سے کی تھی ، یہ اس دور کی بات ہے جب وہاں ایم کیو ایم حقیقی اپنے مکمل آب و تاب میں تھی ۔ سعید شیخ نے اس وقت کے ایکسئین افتخار احمد جن کی حلال روزی کے بارے میں سب گواہ تھے ،( افتخار احمد ڈی ایم ڈی ٹی ایس کی پوسٹ سے ریٹائرڈ ہوئے ) کے خلاف سازش کر کے ان کو پھنسانے کی بھر پور کوشش کی ۔ سعید شیخ الیکٹرانکس کے انجینئر ہیں ، وہ داؤد کالج کے اس وقت کے اسٹوڈینٹ تھے جب وہاں کلاشنکوف رکھ کر امتحان دیا جاتا تھا۔

سعید شیخ‌ کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ان کو موٹریں اور پمپوں‌ کی مرمت کی لائن میں ہونا چائیے تھا ۔ لیکن سعید شیخ‌ شروع ہی سے بہت جوڑ توڑ کے ماہر مانے جاتے ہیں اور کسی نا کسی طرح اپنی وکٹ بچانے میں بہت مہارت رکھتے ہیں اور اپنے کئیے ہوئے کام کا سارا ملبہ دوسروں پر ڈالنا ان کے لئیے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔

ذرائع کے مطابق سعید شیخ کچھ ہی مہینے پہلے یعنی مون سون کی بارشوں سے پہلے ایک سینئر افسر کو ہٹا کر خود سب سے جونئیر ہوتے ہوئے چیف انجنیئر سیوریج کی سیٹ پر برا جمان ہو گئے تھے اور ان جیسے تمام افسر نے جو واٹر بورڈ کو دودھ دینے والی گائے سمجھتے ہیں ، نے کوئی احتجاج نہیں کیا کہ ہم اس جونئیر کے ماتحت کام نہیں کریں گے ۔ اصل بات یہ ہے کہ احتجاج ہوتا بھی تو کس کے سامنے جو ایم ڈی سندھ خالد محمود شیخ‌ گورنمنٹ نے لگایا ہے وہ خود 19 گریڈ کے افسر ہیں اور واٹر بورڈ کو پرائیویٹ کرنے کے پروگرام کے تحت لائے گئے ہیں اور تقریباً 20 گریڈ کے ایک درجن افسر ان کے ماتحت کام کر رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں : واٹر بورڈ ہائیڈرنٹ ٹھیکدار نے گلشن اقبال کھیل کے گراونڈ پر ٹینکر کھڑے کرا دیئے

ذرائع کے مطابق سعید شیخ کے کارناموں میں سے ایک یہ کارنامہ بھی ہے کہ موصوف نے تمام پانی کا رخ جو لانڈھی اور کورنگی کے مکینوں کا حق تھا اس کو انڈسٹریز کی طرف موڑ دیا اور مزید ستم ظریفی یہ کی کہ زیر زمین غیر قانونی کنکشنز دے کر پورے علاقے کے پانی کو غیر منصفانہ طریقے سے بیچنا اور بھتہ لینا شروع کر دیا تھا ۔

الرٹ نیوز ذرائع کا کہنا ہے کہ سعید شیخ نے اس پلان کو کامیاب بنا کر نیا پلان تشکیل دیا کہ لوگوں کو پانی کس طرح بیچنا ہے ،انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور روڈ بلاک کروایا اور پھر مزید بلک سے ایک نیا کنکشن لے لیا اور اس کنکشن کی لائن لوگوں کے پیسوں سے ڈلوائی اور فائل بنا کر ٹھیکدار سے پیسے بٹور لئیے ، ان کی یہی پالیسی کئی سال تک چلتی رہی اور پھر ناجائز ٹینکر مافیا سے گٹھ جوڑ شروع ہوا اور یہاں بھی موصوف پیچھے نہ رہے کم و بیش 7 ہائیڈرنٹ لگا کر دن رات پیسے بٹورنے لگے ۔

معلوم رہے کہ سپریم کورٹ نے ہائیڈرنٹس پر پابندی لگائی تو ہائیڈرنٹس کم کر دئیے گئے ، ان کے پرانے دست راز نور محمد عرف نورا فیوچر ہائیڈرنٹ پر سعید شیخ کے حصے کی نگرانی کرتے ہیں ۔ باقاعدہ فیوچر ہائیڈرنٹ کی جگہ تبدیل نہ ہونے کے لئیے اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ اگر فیوچر ہائیڈرنٹ بند ہوتا ہے تو تمام علاقے لانڈھی کورنگی شاہ فیصل ڈی ایچ اے سب جگہ پانی وافر مقدار میں پہنچ جائے گا ۔ لیکن اگر ایسا ہوگیا تو فیوچر ہائیڈرنٹ کی دکان کیسے چلے گی کیونکہ سارا پانی انہی علاقوں میں جاتا ہے جو فیوچر کالونی کے بعد آتے ہیں۔

مذید پڑھیں : واٹر بورڈ کے 7 با اثر انجینئرز نے تبادلے رکوا دیئے

سرکاری دستاویزات کے مطابق غیر ملکی شہریت بیش بہا گاڑیوں اور بنگلوں کے مالک سعید شیخ کی نظراب چیف انجینئر واٹر بورڈ بنے پر ہے ۔ چند ماہ بعد چیف انجنیئر واٹر غلام قادر عباس کی ریٹائرڈ منٹ کے بعد وہ چیف انجنیئر واٹر کا چارج بھی لینے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق پانی کا چیف انجنیئر بننے کے بعد کراچی میں پانی کے مسائل مذید گھمبیر ہو جائیں گے ۔ سعید شیخ اپنے بارے میں افسران میں کھلم کھلا بتاتے ہیں کہ وہ وزیر تعلیم و محنت سعید غنی ، وزیر بلدیات و اطلاعات سید ناصر حسین شاہ اور وزیر اعلی کے معاون خصوصی بیرسٹر مرتضی وہاب کے بہترین تعلقات ہیں ۔

ابھی چند روز قبل سرجانی ٹائون کے ایکسئین اخلاق احمد بیگ اور سپرٹینڈنٹ انجنیئر غلام محمد حب نے موصوف سے مل کر یہ بات گوش گزار کی کہ 72 انچ قطر کی سیوریج لائن چوک ہے ۔ اس کا کام کرنا ضروری ہے اور یہ بارش میں سپورٹ بھی کرے گی ، ورنہ نقصانات ہونگے تو موصوف نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ شہر ڈوبتا ہے تو ڈوبنے دو ، لائن بارش کے بعد کھولنا اگر ابھی کھول دی تو ایم ڈی صاحب فائل نہیں بنانے دیں گے۔ واضح ہے کہ سعید شیخ اگر چوک لائن کا کام ہونے دیتے تو کئی گھروں میں سیوریج کا پانی داخل نہ ہو پاتا ۔

الرٹ ذرائع کے مطابق لانڈھی فیوچر کالونی ہائیڈرنٹ پر میٹر کی ٹیمپرنگ ، ہائیڈرنٹ سے ملحقہ پمپنگ اسٹیشن سے پانی کی سپلائی سمیت دیگر کئی معاملات کو وہ براہ راست ڈیل کرتے ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ سعید شیخ نے فیوچر کالونی ہائیڈرنٹ سے شراکت دار نور محمد عرف نورا کے ساتھ ملکر حال ہی میں پنجاب میں بڑے پیمانے پر زمین خریدی ہے جو سعید شیخ کی فیملی کے نام کی گئی ہے ، اس زمین کا سودا نور محمد عرف نورا نے کرایا ہے ۔ نور محمد عرف نورا اورسعید شیخ اور دونوں کی فیملی ایک ہی گاڑی میں کراچی واپس آ رہے تھے کہ اس دوران کی گاڑی کو حادثہ بھی پیش آیا تھا تاہم اللہ تعالی نے ان کو محفوظ رکھا تھا ۔