اختیارات پر قابض ہونے کے بجائے منتقل کیا جائے : پروفیسر ڈاکٹر کامران عظیم

کراچی : پاکستان کے اعلی تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں شخصیات کی اجارہ داری ایک موذی مسئلہ بن چکا ہے، مختلف تحقیقی اور تعلیمی اداروں میں گزشتہ پچاس برس سے مختلف شخصیات نے اپنی اجارہ داری قائم کر کے اداروں پر اپنے تسلط کو دوام دینے میں مصروف نظر آتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی کے ڈین فیکلٹی آف لائف سائنسز ، پروفیسر ،ڈاکٹر کامران عظیم نے گزشتہ روز یونیورسٹی کے پروگرام کارپوریٹ لاؤنج میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ کچھ شخصیات اپنی گوناگوں صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسا نظام قائم کررکھا ہے جس سے ادارہ پر ان کا تسلط، قبضہ یا اثر ایک کی طرح مسلط ہو جاتا ہے ۔

مزید پڑھیں: قائمقام VC جامعہ اردو کے اکیڈمک کونسل کے فیصلے نامنظور قرار

انہوں نے کہا کہ اختیارات کو مختلف حیلے بہانوں سے بتدریج اپنے قبضے میں کرنا اور ان کا ارتکاز اپنی ذات تک محدود رکھنا ان شخصیات کا خاصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے یہ لوگ بیوروکریسی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ان کو یہ باور کراتے ہیں کہ اگر ان کی اہمیت کو نظرانداز کیا گیا تو قیامت برپا ہو جائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ ان عناصر کی ان حرکتوں سے ادارے کمزور ہوجاتے ہیں اور ان کی طاقت اور گرفت مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے جس کو قائم رکھنے کے لیے ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو اس ضمن میں ان کی مدد کرتے ہیں، میرٹ پر سمجھوتا ہوتا رہتا ہے اور اصل حقدار کی حق تلفی ہو تی ہے۔

مزید پڑھیں: جامعہ NED انٹری ٹیسٹ میں 9239 امیدواروں کی شرکت کا امکان

انہوں نے کہا کہ اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لیے یہ لوگ اس بات کا پورا بندوبست کرتے ہیں کہ کوئی دوسرا فرد ان اداروں کو چلانے کے لیے تیار نہ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں اس طرح کے فرسودہ خیالات اور جاگیردارانہ سوچ کی قطعی گنجائش نہیں ہے، سماجی علوم کے ماہرین لیڈرشپ کی نئی تعریف اور خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دور میں بااثر سربراہ کی صفات میں اپنے ماتحتوں میں خدمت کا جذبہ، سب کو جوڑ کر چلنا اور شراکت اختیارات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اختیارات پر قابض ہونے کے بجائے ان کو منتقل کرنے کی روش سود مند ثابت ہوتی ہے، ٹیکنالوجی کی گرفت کے زمانے میں اداروں میں رہنمائی کے لیے نئے اصول درکار ہیں، بنی نوع انسان اپنے جس ارتقائی دور سے گزر رہے ہیں اس میں حاکمانہ انداز اور ٹاپ ڈاؤن لیڈرشپ ماڈلز کی گنجائش نہیں ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *