بھارتی دھمکی اور ہمارا قومی فریضہ

بھارتی دھمکی اور ہمارا قومی فریضہ!

تحریر: عبدالجبار ناصر

بھارتی آرمی چیف نے ایک بار پھر پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکی دی ہے۔ اگرچہ ہمارے فوجی ترجمان نے بہت بہتر انداز میں اس کا جواب دیا یے مگر اسی پر خاموش رہنے کی بجائے دشمن سے چوکنا رہنے اور دفاعی کی بجائے اقدامی پوزیشن اختیار کی جائے تو تاکہ دشمن ہمارے سیاسی خلفشار کو ہماری کمزوری نہ سمجھے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب کا ایک جواب جائے اور ایک مد لل جواب کے لئے حکومت پاکستان، عدلیہ، قومی سلامتی کے اداروں اور سیاسی و مذہبی قوتوں کو چند سنجیدہ اقدام کرنے ہونگے۔

(1) حکومت کو غیر سنجیدہ اور کمزوری والے بیانات سے گریز کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کا ایک روز قبل ٹیوٹر میں بیان انتہائی بچکانہ اور غیر سنجیدہ تھا، اس کے مقابلے میں فوجی ترجمان کا بیان دو ٹوک اور مناسب جواب تھا۔
(2)وزیر اعظم پاکستان اپنے حکومتی ترجمان کو قابو میں رکھیں اور دفاع و خارجہ امور کے حوالے سے ردعمل متعلقہ شعبوں کے سنجیدہ حکام کے ذریعے ظاہر کیا جائے۔

(3)قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر آل پارٹیز سربراہی کانفرنس بلاکر متفقہ موقف اختیار کیا جائے۔

(4)حکومت، سیاسی و مذہبی قوتیں اور حکومتی و دیگر ادارے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو غدار ی اور وفاداری کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنا بند کردیں۔

(5)عدلیہ اور قومی سلامتی کے ادارے بھی اپنی توجہ مبینہ سیاسی مخالفین کی بجائے ملکی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت پر مرکوز رکھیں۔

(6)ملکی سیاسی و مذہبی جماعتیں حالیہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ بے جا مداخلت، سلیکشن، امتیازی سلوک، جانبداری اور دیگر الزامات کو ایک طرف رکھ کر ملکی سلامتی و بقا کے لئے حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں۔

(7)حکومت فوری پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے اور بھارتی منفی رویہ سے آگاہ کرنے کے لئے دنیا بھر وفود بھیج دے اور دنیا بھر میں کشمیر کے ایشو کو اجاگر کرنے کے لئے قانونی و اخلاقی مہم کو منظم کرنے کے لئے اقدام کرے۔

(8)اگر اب بھی موقع ہے تو وزیر اعظم خود اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کریں اور دنیا بھر میں اپنی مشہوری اور تعلقات کا فائدہ حاصل کرکے دنیا کو اپنے موقف سے آگاہ کرے، اگر موقع نہیں ہے تو وزیر خارجہ مد لل انداز میں اپنا موقف پیش کریں۔

(9)ملک کے اندر بھی قومی اتحاد و یکجہتی کے لئے مناسب اقدام کئے جائیں۔

(10)بین الاقوامی اور قومی میڈیا میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور مہم چلائی جائے۔

(11)بھارت کو واضح پیغام دیا جایے کہ کوئی غلط قدم اٹھا نے کی کوشش کی تو پھر ہم آخری حد تک جائیں گے۔

(12)پڑوسی ممالک بالخصوص چین اور ایران کو اعتماد میں لیا جائے،جبکہ افغانستان پر واضح کیا جائے کہ وہ بھارتی ایجنٹ بننے کی کوشش نہ کرے۔
اسی طرح دیگر کئی مثبت اقدام کی فوری ضرورت ہے۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری وزیراعظم عمران خان پر عائد ہوتی ہے اور بیشتر کام ان کی حکومت کے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *