ضیاء الدین یونیورسٹی بورڈ‌ میں میٹرک تا انٹر پاس کا پیکج متعارف

کراچی : ضیاء الدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے تحت جاری ہونے والے میٹرک کے سالانہ امتحانات میں سینگین بے قاعدگیاں سامنے آ چکی ہیں ، اور پیسوں کے عوض سیکڑوں امیدواروں کے نتائج تبدیل کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔

بورڈ کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر محمد اختر غوری نے اپنے سابق فرنٹ مین محمد دبیر کو نتائج کی تیاری کا کام سونپ دیا تھا، جب اختر غوری انٹر بورڈ کراچی کے چئیرمین تھے تو اس وقت محمد دبیر انٹر بورڈ کراچی کے قائم مقام ناظم امتحانات تھے، دونوں نے مل کر پری میڈیکل کے 200 طلبہ کے نتائج تبدیل کرنے کے عوض 6 کروڑ روپے وصول کر لیئے تھے مگر اینٹی کرپشن نے بروقت چھاپہ مار کر محمد دبیر کے دفتر سے 6 کروڑ روپے اور 200 سے زائد طلبہ کی فہرست اپنے قبضے میں لیکر ایف آئی آر درج کر لی تھی جس کا کیس اب تک زیر سماعت ہے اور دبیر ضمانت پر ہیں ۔

مذید پڑھیں : قائمقام VC جامعہ اردو کے اکیڈمک کونسل کے فیصلے نامنظور قرار

اختر غوری کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہو گئی تھی جس میں وہ اس وقت کے ناظم امتحانات پر نتائج تبدیل کرنے کے لیئے دبائو بھی ڈال رہا تھا ۔ اسی وجہ سے اختر غوری کو بورڈ کے چئیرمین کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا، دبیر کے ریٹائرمنٹ اور اختر غوری کے ضیاء الدین ایگزامینیشن بورڈ کا ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بننے کے بعد یہ جوڑی اب ضیاءالدین ایگزامینیشن بورڈ کے نتائج کے فروخت میں مصروف ہے ۔

دبیر ضیاءالدین ایگزامینیشن بورڈ کا ملازم نہ ہونے کے باوجود اختر غوری نے انہیں نتائج کی تیاری کا حساس کام سونپ دیا ہے ۔ اب انٹر میڈیٹ کے نتائج بھی وہی تیار کر رہے ہیں ۔ زرائع کے مطابق 50 ہزار فی رول نمبر کے عوض نویں نتائج میں رد و بدل کر کے سینکڑوں امیدواروں کو اعلی گریڈز سے نوازا گیا ہے، جب کہ دیگر بورڈز کی نوی اور فرسٹ ائیر کی جعلی مارکس شیٹس کی بنیاد پر ہزاروں امیدواروں کو میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحان میں شرکت کرا کر اے ون اور اے گریڈز دیئے جا رہے ہیں ۔

بورڈ کے اگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد اختر غوری اور محمد دبیر کی نا اہلی اور کرپشن کا اندازہ اس بات پر لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آئی بی سی سی کی جانب سے اے ون اور اے گریڈ کے لیئے طے شدہ حدود و قیود کا بھی خیال نہیں رکھا، قواعد کے مطابق اے ون گریڈ 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو دیا جاتا ہے ۔ جب کہ 70 فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو اے گریڈ دیا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں : تعلیمی اداروں پر ”چھاپے“ کیوں مارے جا رہے ہیں ؟

محمد اختر غوری اور محمد دبیر نے 76،77،78 اور 79 فیصد نمبر حاصل کرنے والے متعدد امیدواروں کو اے ون گریڈ سے نواز دیا ہے جب کہ 65 سے 69 فیصد نمبر حاصل کرنے والے متعدد امیدواروں کو اے گریڈ سے نواز دیا ہے ۔ انہوں نے طے شدہ قاعد پر پیسوں کے عوض کی جانے والی کمیٹمینٹ کو ترجیح دی ہے اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ گزٹ میں امیدوار کے مجموعی نمبر کتنے ہیں ۔

ضیا الدین یونیورسٹی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اختر غوری صرف بی ایس سی پاس ہیں اور سرکاری سطح پر کسی بھی بورڈ کا چئیرمین بننے کے لیئے کم سے کم ماسٹرز کی ڈگری شرط ہے ۔ اس لحاظ سے اختر غوری اس عہدے کا اہل ہی نہیں ہے، نا اہل و کرپٹ اگزیکٹیو ڈائریکٹر اختر غوری ضیاالدین یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کی بد نامی کا سبب بن رہے ہیں ۔

تعلیمی حلقوں نے ضیالدین یونیورسٹی اورایگزامینیشن بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر عاصم حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کرپٹ ای ڈی کو فی الفور برطرف کر کے بورڈ کی ساکھ خراب ہونے سے بچائیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *