امریکی یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ طلبہ بھارتی ہیں ،دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ بیرونی طلبہ چین کے ہیں

امریکی یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ طلبہ بھارتی ہیں ،دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ بیرونی طلبہ چین کے ہیں

رپورٹ :نوید طارق

غیر ملکی طلبہ کو داخلے دینے والی دنیا کی 30بڑی یونیورسٹیوں میں 16برطانوی ہیں ،جبکہ ایک بھی امریکی نہیں ہے،لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس ’’میں 150ممالک کے طلبہ زیر تعلیم ہیں،بیرون ممالک تعلیم کے حصول میں مصروف طالب علموں میں چینی سرفہرست ہیں جبکہ امریکہ میں زیرتعلیم غیر ملکیوں میں نصف سے زائد طالب علم بھارتی ہیں۔عالمی سطح پر امریکہ 18 جبکہ برطانیہ 11فیصد غیر ملکی طالب علموں کے میزبان ہیں۔

بہتر روز گارکی خاطر بیرون ملک جانے کے رجحان کی تاریخ تو زیادہ پرانی نہیں لیکن حصول علم کے لیے دیار غیر کارخ کر نے کی روایت قدیم ہے لیکن دور حاضر میں سفر کی مشکلات میں کمی اور اعلی تعلیم کے لیے سہولتوں کی فراہمی نے عام آدمی کے لیے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے یہی وجہ ہے کہ15برس میں دیگر ممالک جا کر تعلیم حاصل کر نے والوں کی تعداد 21لاکھ سے 138فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 2014ء میں 50لاکھ ہو چکی ہے ۔

بیرون ممالک تعلیم کے حصول میں مصروف طالب علموں میں چینی سرفہرست ہیں جبکہ امریکہ میں زیرتعلیم غیر ملکیوں میں نصف سے زائد طالب علم بھارتی ہیں۔عالمی سطح پر امریکہ 18 جبکہ برطانیہ 11فیصد غیر ملکی طالب علموں کے میزبان ہیں۔ علم کے حصول کی خاطر10ممالک کے 14لاکھ 69ہزار 200طالب علم بیرون ممالک زیر تعلیم ہیں ،ان میں سے 6لاکھ 94ہزار چینی ہیں ۔ ویزہ پالیسیوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر 2024ء تک برطانیہ میں غیر ملکی طالب علموں میں دوسری پوزیشن بھارتیوں کی بجائے نائجیریا کے طالب علم لے لیں گے کیونکہ اس عرصے کے دوران بھارتی طالب علموں کی تعداد 24ہزار جبکہ نائجیریا کے طالب علموں کی29ہزار ہو جائے گی۔

غیر ملکی طالب علموں کی سب سے زیادہ شرح والی 30اولین جامعات میں 16برطانوی ہیں جبکہ ایک بھی امریکی نہیں ہے ۔ 70فیصدغیر ملکی طالب علموں والی لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں 150ممالک کے طالب علم زیر تعلیم ہیں ۔ جنگ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل نے طلبہ کے عالمی دن کے تناظر میں بیرون ممالک زیر تعلیم’’انٹر نیشنل اسٹوڈنٹس‘‘ کے حوالے سے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق نصف کروڑ طالب علم اپنے وطن چھوڑ کر بیرون ممالک تعلیم حاصل کر رہے ہیں تاہم ویزہ پالیسیوں اور بھاری فیسوں کی وجہ سے معروف تعلیمی ادارے دوسرے ممالک میں ذیلی کیمپس کھول رہے ہیں یا ان ممالک میں قائم تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک کار کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی رپورٹ ’’انٹر نیشنل ٹرینڈز ان ہائر ایجوکیشن 2015ء ‘‘کے مطابق برطانوی Lancaster University 2010ء سے پاکستانی COMSATSکے ساتھ بزنس ، کمپیوٹنگ اور انجینئرنگ میں مشترکہ ڈگری پروگرام کے تحت معاہدے میں ہے۔ برطانیہ کی ’’ یونیورسٹی آف نوٹنگھم ‘‘ کا چینی شہر ننگبو اور امریکہ کی ’’ نیو یارک یونیورسٹی ‘‘ کا ابو ظہبی میں کیمپس ہے۔ برطانوی ’’ Lancaster University‘‘اور’’ University of Strathclyde‘‘ نے مئی 2009ء میں لاہور کے نالج پارک میں اپنے کیمپس کھولنے کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے ۔برطانوی Lancaster University کا برانچ کیمپس گھانا میں ہے ۔یونیورسٹی آف نیو انگلینڈ نے مراکش کے شہر طنجہ میں نیا کیمپس کھولا ہے ۔

بیرون ممالک تعلیم حاصل کر نے والے طالب علموں کی زیادہ تر تعداد ایشیا ئی ممالک چین ، بھارت اور جنوبی کوریا سے ہے ۔ بیرون ممالک جا کر تعلیم حاصل کر نے والے 6میں اسے ایک چینی طالب علم ہے جبکہ 53فیصد کا تعلق چین اور ایشیائی ممالک سے ہے ۔ جاپان میں 81اور جنوبی کوریا میں 75فیصد غیر ملکی طالب علموں کا تعلق مشرقی ایشیائی ممالک سے ہے ۔ برطانیہ میں زیر تعلیم سب سے زیادہ طالب علم چین اور دوسرے نمبر پر بھارتی ہیں ۔

برٹش کونسل کی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں آئندہ ایک دہائی میں چینی طالب علموں کی تعداد میں 44فیصد اضافہ ہو جائے گا ۔ امریکہ میں غیر ملکی طالب علموں میں سے نصف سے زائد بھارتی طالب علم ہیں ۔ دنیا کی 800بہترین جامعات میں سب سے زیادہ غیر ملکی طالب علموں کی شرح والی 30یونیورسٹیوں کے حوالے سے ’’ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ ‘‘کی تحقیق کے مطابق متحدہ عرب امارات کی شارجہ کی ’’امریکن یونیورسٹی شارجہ ‘‘ کے 82فیصد طالب علم غیر ملکی ہیں ۔

برطانیہ کی لند ن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کے 70 فیصد طلبہ ’’ رائل کالج آ ف سر جنز ان آئر لینڈ کے 63 فیصد طلبہ ، سوئٹزر لینڈ کی
de Lausanne Ecole Polytechnique Federale‘‘کی 54فیصد طلبہ ،یونیورسٹی آف لیگزمبرگ کے 52 فیصد طلبہ ،ایمپیریل کالج لندن کے 51 فیصد طلبہ ، سٹی یونیورسٹی لندن کے 50فیصد طلبہ ، ہالینڈ کیMaastricht University کے 54فیصد طلبہ ،برطانیہ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوزکے 47 فیصد طلبہ ، یونیورسٹی کالج لندن کے 46 فیصد طلبہ ،آسٹریلیا کی ’’Macquarie Universityکے 44 فیصد طلبہ ،برطانیہ کی مڈل سیکس یونیورسٹی کے 44 فیصد طلبہ ،برطانیہ کی یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے 43فیصد طلبہ ،آسٹریلیا کیMurdoch University‘کے 43 فیصد طلبہ ، برطانیہ کی میریٹ واٹ یونیورسٹی کے 43 فیصد طلبہ ’ قطر یونیورسٹی کے 42 فیصد طلبہ ،کوئین میری یونیورسٹی آف لندن کے 40 فیصد سوئٹزر لینڈ کی یونیورسٹی آف جنیوا کے 39 فیصد ،برطانیہ کی یونیورسٹی آ ف ایکسیس کے 39، فیصد ،آسٹریلیا کی University of Innsbruckکے 39فیصد طلبہ ، یرکبیک ،یونیورسٹی آف لندن کے 38 فیصد طلبہ ،یو زی لینڈ کی آکلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے 38 فیصد ،آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی قق کے 38فیصد طلبہ ،یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے 38، فیصد طلبہ ،برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے 38 فیصد طلبہ ، برونل یونیورسٹی لندن کے 36 فیصد طلبہ ،کنگز کالج لندن کے 37، سوئٹرز لینڈ کی ای ٹی ایچ زیوریخ فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی زیوریخکے 37، رائل ہالووے ، یونیورسٹی آف لندن کے 37اوربرطانیہ کی University of Warwick‘‘ کے37فیصد طالب علم غیر ملکی ہیں۔

یونیسکو کے مطابق بیرون ممالک تعلیم حاصل کر نے والے 7فیصدطالب علم فرانس ، 6 فیصد آسٹریلیا، 5 فیصدجرمنی ، 4فیصدروس ، 4فیصدجاپان ، 3فیصدکینیڈا ، 2فیصدچین اور2فیصد غیر ملکی طالب علم اٹلی کا رخ کرتے ہیں ۔ایک لاکھ 89ہزار بھارتی ، ایک لاکھ 23ہزار کورین ، ایک لاکھ 17ہزار جرمن ، 62ہزار سعودی ، 62ہزار فرنچ ، 58ہزار امریکی ، 53ہزار ویت نامی اور 51ہزار سے زائد ایرانی طالب علم دیگر ممالک کا سفر کرتے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *