ڈاکٹر سردار تیمور خان سے ایک نشست

انٹرویو : حافظ سرفراز ترین

ڈاکٹر سردار تیمور خان کا بطور سائنس ٹیچر شروع ہونے والا دور ‛ ملازمت ان کی بطور پرنسپل ریٹائرمنٹ پر اختتام پذیر ہو گیا ۔ بطور استاد، ہیڈ ماسٹر، پرنسپل اور ڈپٹی ڈی ای او ان کا دور کیسا رہا ، ان کے بارے میں بہتر آراء تو ان کے شاگرد ان کے تعلیمی سربراہان اور ان کیساتھ یا ماتحت کام کرنے والے اساتذہ ہی دے سکتے ہیں اگرچہ میری ان سے شناسائی بہت زیادہ پرانی نہیں تاہم میں نے انھیں سکاؤٹنگ اور سپورٹس کی سرگرمیوں میں ہمیشہ انتہائی فعال اور متحرک کردار ادا کرتے دیکھا ہے ان کے اندر کام کی سپرٹ آج بھی جوانوں سے زیادہ پائی جاتی ہے ۔

اگر 63 سالہ مدت ملازمت کا فیصلہ نافذ ہو جاتا تو آپ نے مزید تین سال ملازمت کے لیے کم کس رکھی تھی بے دھڑک بات کرتے ہیں ۔ اکثر آپ کی باتیں زبان وبیان کی پابندیوں سے آزاد ہوتی ہیں طویل القامت ہیں ۔ چہرے پر سجی سفید داڑھی نے آپ کی شخصیت کو زیادہ پرکشش اور بارعب بنا دیا ہے ۔ آپ کے والد برٹش آرمی میں ملازم تھے اور اس کے بعد کراچی میں قیام پذیر ہو گئے اس لیے آپ کی تقریباً ساری تعلیم کراچی کی ہے ۔

تاہم جب 1984 میں والدین ہری پور آبائی گاؤں پھرہالہ منتقل ہوئے تو آپ بھی بھائیوں کے مشورے سے ان کی خدمت کے لیے ہری پور آ گئے اور پھر یہیں پر ملازمت ہو گئی اور ہری پور کے ہی ہو کر رہ گئے۔ سکول آفیسرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ریٹائر پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹر زکے اعزاز میں دیے گئے الوداعی ظہرانے کے موقع پر سردارتیمور خان سے ملاقات ہوئی تو انھیں باضابطہ ملاقات کی دعوت دی وہ میرے پاس سکول میں تشریف لائے ، اس دوران ان باضابطہ ملاقات کے دوران ان کی تعلیم اور سروس کیریئر کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی ۔

ڈاکٹر سردار تیمور خان کا آبائی گاؤں پھرہالہ ہے اور آپ کا تعلق کڑلال قوم سے ہے ، آپ 15 اکتوبر 1959ء کو پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول پھرہالہ سے حاصل کی ۔ مزید تعلیم کے لیے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 ہری پور میں داخلہ لیا تاہم جلد ہی کراچی شفٹ ہو گئے ۔ جہاں آپ کے والدین قیام پذیر تھے ۔ چونسر ویلج سکول میں پنجم جماعت میں داخلہ لیا اور اسی سکول کے احاطے میں واقع سے مڈل تک ہشتم جماعت کا امتحان پاس کیا ۔ میٹرک 1977ء میں بیگم رفیعہ چوہدری پاکستان نیوی سکول کراچی سے کی جبکہ ایف ایس سی اسلامیہ کالج کراچی سے کی کراچی یونیورسٹی سے 1983ء میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور 1988 جامعہ ملیہ کراچی سے بی ایڈ اور 1989ء میں جامعہ کراچی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر ز کی ڈگری حاصل کی ۔

اسی دوران NILAT کراچی سے لیبر ایڈمنسٹریشن اینڈ انڈسٹریل ویلفیئر میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ حاصل کی۔ اس کورس کے دوران آپ نے قرآن او رصنعتی تعلقات کے موضوع پر ریسرچ پیپر لکھا ۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج کا شوق چرایا تو کیپیٹل ہومیو پیتھک میڈیکل کالج اسلام آباد سے ڈی ایچ ایم ایس کا کورس کر لیا اور اپنی امتیازی پوزیشن کی وجہ سے اس وقت کے نگران وزیر اعظم ملک معراج خالد سے گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ آپ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم ایڈ (سائنس ایجوکیشن) کی ڈگری حاصل کی اور ہائی و ہائیر سیکنڈری سکولز میں سائنسی آلات کی دستیابی کے موضوع پر ریسرچ پیپر لکھا ۔

سردار تیمورخان نے پاک آرمی میں کمیشنڈآفیسر کے لیے قسمت آزمائی کی لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید زیادہ ذہین ہونے کی وجہ سے ان کا انتخاب نہ ہو سکا ۔ تاہم آپ کی تعلیمی قابلیت دیکھ کر کسی نے سکول ماسٹر بھرتی ہونے کا مشورہ دیا چونکہ اس زمانے میں سائنس گریجویٹ مشکل سے ملتے تھے اور منسٹر ایجوکیشن کی سفارش بھی شامل تھی ۔ لہذا بآسانی آپ کو ان ٹرینڈ ایس ای ٹی سائنس (بی پی ایس 15) کی پوسٹ پر بھرتی کر لیا گیا ۔ 16 اکتوبر 1986 کو آپ کی پہلی تعیناتی گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ (خان پور) میں ہوئی ۔ جہاں آپ 7 اگست 1987 تک تعینات رہے ۔ اسی دوران بغیر چھٹی لیے کراچی بی ایڈ کرنے کے لیے چلے گئے ۔ ایک سال بعد واپس آئے تو ہیڈ ماسٹر نے واپس لینے سے انکار کر دیا ۔ کیونکہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے آپ قواعد وضوابط کے مطابق باقاعدہ اجاز ت اور چھٹی لیکر نہیں گئے تھے ۔ خیر ڈائریکٹوریٹ سے رابطہ کیا، چھٹی کی منظوری کروائی اور دوبارہ 10 مئی 1988 کو گورنمنٹ ہائی سکول ڈنگی میں تعینات کر دیا گیا ۔ جہاں آپ 31 جولائی 1989 تک تعینات رہے ۔ اس کے بعد آپ کا تبادلہ گورنمنٹ نوردی میں ہو گیا ۔ جہاں آپ نے 13 جنوری 1990 تک خدمات سر انجام دیں ۔

مزید پڑھیں : آہ ! ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی

بطور سائنس ٹیچر آپ کی ملازمت کا زیادہ عرصہ گورنمنٹ ہائی سکول کاگ میں گزرا ۔ جہاں جنوری 1990 سے فروری 1999 تک تعینات رہے ۔ فروری 1999 میں سردار تیمور خان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہیڈ ماسٹر (بی پی ایس 17) سلیکٹ ہو گئے اور گورنمنٹ ہائی سکو ل نورپور میں تعینات ہوئے ۔ تاہم تقریباً چھ ماہ بعد ہی آپ کا تبادلہ گورنمنٹ ہائی سکول کاگ میں ہو گیا ۔ جہاں آپ فروری 2002 تک تعینات رہے۔ چار فروری 2002 کو آپ کو ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ہر ی پور تعینات کر دیا گیا ۔ اس پوسٹ پر آپ نے 25 جون 2005 تک کام کیا ۔ جون 2005ء سے مئی 2010ء تک کا عرصہ آپ نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول خیر آباد میں بطور وائس پرنسپل گزارا اور اس کے بعد آپ کا تبادلہ گورنمنٹ ہائی سکول نور پور ہو گیا ۔ 2010ء میں ہی آپ کو گریڈ 18 میں ترقی دی گئی اور اسی سکول میں پوسٹ اپ گریڈ کر کے پرنسپل تعینات کر دیا گیا ۔ 2016ء میں آپ کو پرنسپل بی پی ایس 19 کی پوسٹ پر ترقی دیکر گورنمنٹ ہائی سکول ککوتری میں بطورپرنسپل تعینات کر دیا گیا ۔ جہاں سے آپ اپنی 60 سال عمر پوری ہونے پر 16 مار چ 2020 کو ملازمت سے سبکدوش ہو گئے ۔ یوں آپ کا 33 سالہ دور ملازمت اختتام کو پہنچا ۔

ڈاکٹر سردار تیمورخان چونکہ شروع ہی سماجی ذہانت کے حامل او رتنظیمی ذہن رکھنے والے تھے ۔ لہذا بطور سائنس ٹیچر آپ نے 1989 میں سائنس ٹیچر ز ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور مسلسل دس سال تک ضلعی اور ڈویژنل تنظیم کے سربراہ جبکہ ایس ٹی اے کے صوبائی سینئر نائب صدر رہے۔ بطور ٹیچر آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے الیکشن میں حصہ لیا ۔ مسلسل دوبارہ 1993-95 اور 1995-99 تک تحصیل ہری پور کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔ 1999ء میں آپ کو ہیڈماسٹرز ایسوسی ایشن کا ضلعی صدر منتخب کر لیا گیا۔ 2010ء میں آپ کو سینئر سٹاف ایسوسی ایشن کا تین سال کے لیے صدر منتخب کر لیا گیا ۔ اسی دوران آپ ہزارہ ڈویژن کے تمام سکولوں کی طرف سے ثانوی تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد کے ممبر منتخب ہوئے ۔ 2020ء میں آپ کو ایس او اے کا چیئرمین منتخب کیا گیا ۔

بطورسپورٹس مین سردار تیمورخان کھیلوں کی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی لیتے رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گورنمنٹ ہائی و ہائیر سیکنڈری سکولز ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے آپ کو 2016 سے 2018ء تک مسلسل ضلعی ٹورنامنٹ سیکرٹری اور 2017 میں صوبائی سپورٹس سیکرٹری منتخب کیا گیا ۔ آپ باسکٹ بال ایسوسی ایشن کے ضلعی چیئرمین کے طور پر باسکٹ بال کے فروغ میں اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں ۔

سردار تیمورخا ن سکاؤٹنگ کی سرگرمیوں میں بھی ضلعی سکاؤٹ سیکرٹری بوائز سکاؤٹ ایسوسی ایشن حاجی ذوالفقار احمد کے شانہ بشانہ بھرپور حصہ لیتے نظر آتے ہیں ۔ آپ نے ایڈوانس یونٹ لیڈر کورس بوائے سکاؤ ٹ سیکشن 1999ء میں کالام، سکاؤٹ ووڈ بیج ٹریننگ کورس 2011 میں تکیہ کیمپ ایبٹ آباد جب کہ ووڈ بیج ری یونین کورس بھی 2014 میں ایبٹ آباد سے کیا ۔

سردار تیمورخان کو ان کی بہترین تعلیمی اور انتظامی خدمات کے اعتراف میں ضلعی تعلیمی افسران کی طرف سے متعدد مرتبہ تعریفی اسناد اور ایوارڈز سے نواز گیا ۔ آپ کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ نے بطور ڈپٹی ڈی ای او 2003ء میں پہلی مرتبہ پرائمری سکولز کے ضلعی سطح پر ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا اور پرائمری سطح پر انگلش میڈیم سکول کا تصور دیکر سات سکولوں میں انگلش میڈیم کلاسز شروع کیں ۔ اساتذہ کو تنخواہ کی مینوئل طریقہ سے ادائیگی سے کمپیوٹرائزڈ طریقہ کارپرمنتقلی او رجی پی فنڈ کی دو اقساط کی بجائے یکمشت اساتذہ کے اکاؤنٹ میں منتقلی کو بھی سردار تیمور اپنے دور کا یادگار کارنامہ قرار دیتے ہیں ۔

سردار تیمورخان کے بڑے بھائی میجر جنرل ریٹائر جہانگیر خان (تمغہ امتیاز ملٹری) آرمی سے ریٹائر ہونے کے بعد آج کل نسٹ یونیورسٹی میں بطور پروریکٹر کام کررہے ہیں ۔ سردار کے تیمور کے صاحبزادے سردارفہداللہ خان پاک آرمی میں کیپٹن ہیں ۔ جب کہ سردارسمیع اللہ نسٹ میں ملازم ہیں ۔ چھوٹے صاحبزادے سردار کلیم اللہ ہری پور یونیورسٹی سے بی ایس ایگریکلچر کر رہے ہیں ۔ جبکہ ایک ہی بیٹی ہے جو ایم ایس سی کرنے کے بعد ورکنگ فاکس گرامر سکول میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *