دین سے دوری ہی جنسی اور معاشرتی جرائم کا سبب

ہمارا معاشرہ خرابی اور بگاڑ کی اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ جرم اور گناہ کی کوئی قسم ایسی نہیں ہے جو عام نہ ہو۔

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

بڑے افسوس اور انتہائی فکر مندی کی بات ہے کہ ایک مسلمان معاشرہ ہونے کے باوجود ہمارا سماج جرائم، سفاکیت، خدا نا ترسی اور گناہوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور آئے دن معاشرے کی خرابیوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ معاشرے میں جرم اور گناہ اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ ان کی شناعت کا احساس تک مٹ چکا ہے۔ بڑے سے بڑا جرم اور گناہ ہوتا ہے مگر عالم یہ ہے کہ نہ جرائم اور گناہوں کے مرتکب افراد کو یہ فکر ہوتی ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور نہ ہی دیکھنے والوں کو کوئی پریشانی ہوتی ہے کہ یہ غلط کام کیوں ہو رہے ہیں۔ ایک نا خوشگوار واقعہ ہو جاتا ہے تو کچھ دن لوگ اس پر مختلف تبصرے کرتے ہیں اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ اس دوران نیا المیہ سر اٹھاتا ہے اور پرانے واقعے کو بھلا دیتا ہے۔ نہ سزا نہ جزا، اللہ اللہ خیر سلا۔ بتائیے کہ ایسے میں مجرم ذہنیت کے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا؟ جرم پروان نہیں چڑھے گا تو کیا ہو گا؟

یوں تو ہمارا معاشرہ خرابی اور بگاڑ کی اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ جرم اور گناہ کی کوئی قسم ایسی نہیں ہے جو عام نہ ہو اور جرم کی ہر شکل اپنی جگہ معاشرے کو کھوکھلا کرنے میں برابر حصہ لے رہی ہے، تاہم ایک ایسا جرم جس کا ذکر کرتے ہوئے بھی ایک شریف انسان کئی بار سوچتا ہے، یعنی جنسی تشدد، المیہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی معاشرتی بے حسی اور لا قانونیت کے باعث یہ سنگین ترین جرم مسلسل پھیل رہا ہے اور اس کا شکار معصوم بچوں، بچیوں اور نوجوان لڑکیوں سے لے کر بڑی خواتین تک سبھی اور ہر جگہ ہو رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں سے لے کر ویرانوں تک کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں موقع ملتے ہی انسان بھیڑیا بن کر معصوموں اور کمزوروں کو نہ کاٹ ڈالتا ہو۔ نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ معصوم کلیاں انسان نما وحشی درندوں کی دستبرد سے محفوظ ہیں اور نہ ہی ناسور زدہ ذہنوں سے (ذکر کرتے ہوئے دماغ مائوف ہو جاتا ہے کہ) محارم کو تحفظ حاصل ہے۔ آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟ معاشرہ جنگل بنتا جا رہا ہے یا وحشی درندوں نے انسانی کھال میں ہمارے معاشرے پر یلغار کر رکھی ہے؟

مذید پڑھیں : حفظ ختم نبوت ﷺ کانفرنس آج جامعہ عثمانیہ شیر شاہ میں ہو گی

جنسی تشدد کے واقعات اس قدر بڑھتے جا رہے ہیں کہ اہل درد ایک واقعے پر کڑھ رہے ہوتے ہیں کہ اس سے بھی سنگین دوسرا واقعہ پیش آ جاتا ہے اور لوگ پہلے واقعے کو بھول کر دوسرے کا نوحہ پڑھنے میں لگ جاتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ چند دنوں کے اندر پیش آنے والے واقعات پر غور کریں۔ کچھ دن پہلے کراچی میں سات سال کی ایک معصوم بچی کو جنسی تشدد کے بعد قتل کردیا گیا۔ درندے نے ادھ کِھلی کلی کو نوچ نوچ کر نہ صرف اپنی ہوس پوری کی، بلکہ معصوم کے جسم کے ٹکڑے کرکے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیئے۔ سوچئے کس قدر سفاکانہ بہیمیت ہے اللہ اللہ۔ اس درندگی پر آسمان بھی رو پڑا ہوگا۔ ابھی قوم اس المناک سانحے کے شاک سے نہیں نکلی تھی کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے کا دلخراش واقعہ پیش آگیا۔ آسمان کیوں نہ ٹوٹا اور زمین کیوں نہ پھٹی کہ ایک ماں کو دو انسان نما درندوں نے اس کے معصوم بچوں کے سامنے بد ترین ظلم و زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ قوم اس درد کو سہلا ہی رہی ہے کہ ملک کے ایک اور کونے سے ایک اور معصوم بنت حوا پر اسی طرح کے ظلم کی خبر آگئی ہے۔

مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اور انہی سے ہمارے گھروں اور کائنات کی رونق اللہ نے قائم کر رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جنس کو معصومیت، نرمی، رحم دلی، سادگی اور نزاکت کا حسین مجموعہ بنانے کے ساتھ مرد کو طاقت اور قوت بخش کر ایک خوبصورت توازن قائم کیا ہے۔ عورت کی جسمانی نزاکت کے مطابق ہلکی ذمے داریاں عائد کی ہیں اور مرد پر اس کی طاقت کے پیش نظر بھاری ذمے داریاں ڈال دی ہیں، جن میں سے ایک عورت کی حفاظت بھی ہے۔ ایک شریف، مہذب، ذمے دار اور سلیم الفطرت مرد عورت پر مہربان اور نگہبان تو ہو سکتا ہے مگر اس کیلئے خطرہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ عورتوں پر ظلم و زیادتی کے مرتکب افراد مرد کہلانے کے ہی مستحق نہیں ہیں۔ ایک ادنیٰ مذہبی رہنما کی حیثیت سے میں پوری ذمے داری سے کہتا ہوں کہ صنف نازک کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنسی، جسمانی اور نفسیاتی زیادتی اور ظلم وہی مرد کر سکتا ہے جس کے اندر عقل و شعور نام کی کوئی چیز نہ ہو اور جس کی فطرت مسخ ہو چکی ہو۔ عورت کے ساتھ زیادتی مرد کے مینوفیکچرنگ ہدایت کے منافی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جو انسان کا خالق ہے، اس نے مرد کو عورت پر قوّام یعنی نگہبان، مہربان اور نگران بنایا ہے۔ کیا نگران اور نگہبان کے یہ کام ہوتے ہیں؟ یہ تو ایسا ہے جیسے چوکیدار ہی چور بن کر گھر کو لوٹ لے اور گارڈ ہی اٹھ کر مالک کی جان کیلئے خطرہ بن جائے۔ خلاصہ یہ کہ مرد کی جانب سے عورت پر زیادتی مرد کی قوامیت کے ہی منافی ہے، یہ کام وہی مرد کر سکتے ہیں، جن کی فطرت سلامت نہ رہی ہو۔

مذید پڑھیں : مولانا فضل الرحمن نواز شریف کی وکالت کیوں کرتے ہیں ؟

سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟ اس سوال کا سادہ سا جواب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سوائے دین سے دوری کے اور کچھ نہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا دین اسلام یہ سکھاتا ہے کہ مرد عورت ماں، بہن، بیٹی، بہو یا خواہ کسی بھی روپ میں ہو، کا نگہبان اور محافظ ہے۔ اگر پوری سوسائٹی کو اسلام کی اس تعلیم کا شعور حاصل ہوجائے اور معاشرے میں خدا کا خوف غالب ہو جائے تو خود سوچئے کوئی عورت مرد سے کیسے غیر محفوظ رہ سکتی ہے؟ یہ صرف فلسفی بات نہیں، دین اسلام پر مسلمان جب پوری طرح عامل تھے اور معاشرے میں اسلامی تعلیمات اور قانون کا غلبہ تھا تو کوئی عورت خود کو غیر محفوظ تصور نہیں کر سکتی تھی۔ اکیلی عورت سونے سنگھار کے ساتھ صنعا سے چلتی کر مکہ پہنچتی تھی مگر کسی مرد کو آنکھ اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی اور آج جب ہم دین اور خدا کے احکامات سے دور ہو گئے تو عالم یہ ہے کہ موٹر وے پر بھی عورت محفوظ نہیں، درندے آکر اسے گاڑی کے شیشے توڑ کر باہر نکالتے ہیں اور بچوں کے سامنے ظلم کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ ثابت یہی ہوا کہ ہماری معاشرتی خرابیوں کی وجہ دین سے دوری ہے اور دین کی پناہ میں آکر ہی ہم اپنی سمت درست کر سکتے ہیں۔

جنسی تشدد کے واقعات کا سدباب کیسے ہو؟ یہ بہت اہم سوال ہے، اس سوال کا جواب ہر کوئی اپنے فہم اور دانش کے مطابق دے رہا ہے۔ لبرل حلقوں کا اصرار ہے کہ عورت کو آزادی دی جائے اور تعلیمی نصاب میں جنسی تعلیم کو شامل کیا جائے تو اس سے ان جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مغرب کی عورت آزاد نہیں ہے؟ بلکہ مغربی عورت سے آزاد دنیا میں کوئی عورت نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنسی تعلیم بھی وہاں نصاب کا حصہ ہے، اس کے باوجود ذرا مغرب کا اندرون جھانک لیجئے، چنگیز سے تاریک تر نظر آئے گا۔

مذید پڑھیں : جامعہ NED انٹری ٹیسٹ میں 9239 امیدواروں کی شرکت کا امکان

امریکا جہاں عورت کو ہر طرح کی آزادی اور خود مختاری حاصل ہے، وہاں حال یہ ہے کہ ہر پانچویں عورت جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہے اور وہاں بلوغت سے پہلے بچیوں کے حاملہ بننے کی شرح شرمناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ثابت ہوا کہ یہ آزادی عورت کو محفوظ بنانے کا وسیلہ نہیں بلکہ اس کی تباہی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری نسل کو اس آزادی کے شرور سے محفوظ اور دور ہی رکھے۔ ہماری نظر میں اس جرم کا سد باب یہی ہے کہ سزا اور تعزیر کے نظام کو سریع العمل بنایا جائے۔ واقعہ ہوتے ہی فوری طور پر قانون حرکت میں آئے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اس کے ساتھ ساتھ علمائے کرام، ائمہ و خطبا سے میری گزارش ہوگی کہ وہ اس جرم کی شناعت اور سنگینی پر اپنے خطبات میں بات کریں اور معاشرے کو خدا خوفی کی طرف لے آئیں۔ معاشرے کو حقیقی معنی میں خدا خوفی کے تصور پر مبنی اسلامی معاشرہ بنا کر ہی ہم ان جرائم اور مجرموں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وطن عزیز کی ہر شر سے حفاظت فرمائے، آمین۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close