کراچی کالجز کے اساتذہ رینجرز کیخلاف DJ کالج گراؤنڈ میں جمع

کراچی : ڈی جے سائنس کالج کے ساتھ ملحقہ گراؤنڈ پر قبضہ کی کوشش ناکام بنا دی گئی ۔ کامرس اینڈ اکنامکس کالج کے ساتھ متصل کالج میں رینجرز اور کالج اساتذہ آمنے سامنے آ گئے ۔ کامرس اینڈ اکنامکس کالج کے ساتھ واقع گرائونڈ سے رینجرز نے دیوار گرا دی اور گیٹ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

ڈی جے کالج کے ہاسٹل میں گزشتہ 10 سے 15 برس قبل پاکستان رینجرز سندھ نے اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کیا تھا ۔ جس کے بعد سرکاری ہاسٹل میں طلبا کی سہولیات ختم ہو گئی تھیں ۔ اب 15 برس بعد گرائونڈ پر ہی قبضہ کیا جا رہا ہے جس پر سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کراچی کے اساتذہ سراپا احتجاج بن گئے ہیں اور سپلا سندھ کے صدر منور عباس کی قیادت میں دھرنا جاری ہے ۔

مذید پڑھیں : معروف شیعہ اسکالر ضمیر اختر انتقال کرگئے

سپلا ایکشن کمیٹی کی جانب سے کل بروز منگل ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے گراﺅنڈ پر قبضے کے خلا ف صبح گیارہ بجے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ طلبا و طالبات ، کالج اساتذہ اور تمام کالج اساتذہ تنظیمیں ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے گراﺅنڈ پر قبضے کے خلاف صبح گیارہ بجے ڈی جے پہنچیں گی ۔

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا ایکشن کمیٹی ) کے اراکین پروفیسر یعقوب چانڈیو ، پروفیسر محمد ظفر یار خان، پروفیسر اسلم پرویز خاصخیلی، پروفیسر منیر عالم خان، پروفیسر محمد منصور، پروفیسرنجیب لودھی ، پروفیسر حسین مسرت شاہ، پروفیسرعقیل احمد ، پروفیسر ایاز ہالیپوٹہ، پروفیسر جہاں آرا، پروفیسر ڈاکٹر رضوانہ صدیقی، پروفیسر حسین فاطمہ، پروفیسر سید کرار رضا کاظمی، پروفیسر آصف مسعود، پروفیسرعقیل احمد پروفیسر عمرخا ن ، پروفیسر ڈاکٹر نوید الرب، پروفیسر شمس الدین ابڑو، پروفیسر زرقا سیتھو ، پروفیسر غلا م محمد، پروفیسر توصیف احمد ، پروفیسر عظمی وقار، پروفیسر کوکب بشیر، پروفیسر نثار احمد، پروفیسر محمد کاشف ، پروفیسر یاسمین صدیقی ،پروفیسر ڈاکٹر محمدطیب، پروفیسر عبد الرشید، پروفیسر شہزاد مسلم خان اور دیگرنے اپنے مشترکہ بیان میں رینجرز کی جا نب سے ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے گراﺅنڈ کی دیوار گرا کر ڈی جے کالج کے گراﺅنڈ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔

مذید پڑھیں : جمعیت کے زیر اہتمام جامعہ کراچی میں کورونا بچاؤ اسپرے کیا گیا۔ ترجمان جمعیت، جامعہ کراچی

ماضی میں بھی ڈی جے سند ھ گورنمنٹ سائنس کالج کے گراﺅنڈ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئیں مگر طلباء اور اساتذہ کے اتحاد سے اور اس وقت کے پرنسپل کی بروقت کا روائی سے قبضہ کی ہر کوشش نا کام ہوئی ہے ۔ سپلا ایکشن کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کی تعلیمی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ یہ سندھ دھرتی کا تاریخی کالج ہے۔ ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی اپنی مادر علمی ہے ۔

ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کا گراﺅنڈ ڈی جے کالج کے تین ہزار سے زائد طلبا ء کے کھیلوں کی سرگرمیوں کا واحد ذریعہ ہے اگر اس گراﺅنڈ پر بھی قبضہ کر لیا گیا تو تین ہزار سے زائد طلبا وطالبات اپنی کھیلوں کی سرگرمیوں کہاں انجام دیں گے ؟ سپلا ایکشن کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ پہلے ہی ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کا لج کے انٹرنیشنل ہاسٹل کی عمارت پر رینجرز نے قبضہ کیا ہوا ہے اور ڈی جے سندھ گو رنمنٹ سائنس کالج کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اور اسکول ایجوکیشن کا قبضہ ہے ۔

مذید پڑھیں : ابتدا سے تضادات پیدا کر دئیے گئے ۔۔۔!!!

اس پس منظر میں اب ڈی جے سندھ گو رنمنٹ سائنس کالج کے گراﺅنڈ پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیاجا سکتا ۔ سپلا ایکشن کمیٹی کے اراکین صدر پاکستان ،وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس سپریم کورٹ ، چیف آف آرمی اسٹاف ،گورنر سندھ ، وزیر اعلی سندھ ،کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز سندھ ، وزیر تعلیم سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے گراﺅنڈ، انٹرنیشنل ہاسٹل اور کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ پر کیے جانے والے قبضوں کو فوری طور ختم کروائیں ۔ سپلا ایکشن کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ کل بروز منگل طلبا و طالبات ، ڈی جے کالج کے اساتذہ اور تمام کالج اساتذہ تنظیمیں ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے گراﺅنڈ پر قبضے کے خلاف صبح گیارہ بجے ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے گراﺅنڈ پر احتجا جی مظاہرہ کریںگی ۔

معلوم رہے کہ رات گئے تک سپلا کراچی کے صدر منور عباس گرائونڈ پر قبضے کی کوشش کو ناکام بنانے کے خلاف گرائونڈ میں ہی دگرنا دیکر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ جن کے ساتھ پروفسیر امین لاشاری ، پروفیسر منان بروہی ، پروفیسر عزیز میمن ، پروفسیر اے مجید ٹانوری ، پروفیسر مطیع اللہ سہران ، پروفسیر مقصور میمن ، پروفیسر توحید علوی ،پروفیسر اصغر چنا سمیت دیگر بھی موجود ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *