صرف حضرت حُسین رضی اللہ عنہ ہی کیوں ؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے ؟

شیعہ حضرات علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے تمام لڑکوں کو چھوڑ کر صرف حسین رضی اللہ عنہ کی ہی مدح سرائی کیوں کرتے ہیں اور انہیں مقدس کیوں مانتے ہیں ؟
کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کیا ؟
کیا اس سے پہلے کبھی آپ کو اس بات پر تعجب ہوا؟

ایسی حقیقت کشا جان کاری جو آپ کو اور عالم اسلام کے بہت سے لوگوں خصوصا عرب کے شیعوں کو حیران و ششدر کر دے ۔

اس اہم سوال کے جواب سے پہلے آئیے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے تمام بیٹوں کے بارے میں تھوڑی معلومات حاصل کر لیں۔

مزید پڑھیں: مفتی منیب الرحمن نے کراچی میں سُنیوں کا سمندر جمع کر لیا

1: حسن بن علی بن ابی طالب
2: حسین بن علی بن ابی طالب
3: محسن بن علی بن ابی طالب
4: عباس بن علی بن ابی طالب
5: ہلال بن علی بن ابی طالب
6: عبداللہ بن علی بن ابی طالب
7: جعفر بن علی بن ابی طالب
8: عثمان بن علی بن ابی طالب
9: عبیداللہ بن علی بن ابی طالب
10: ابوبکر بن علی بن ابی طالب
11: عمر بن علی بن ابی طالب

کیا آپ نے کسی شیعی علم یا بینر پر یا حسن یا محسن یا عباس وغیرہ لکھا ہوا دیکھا ہے؟ یقینا اسکا جواب نہیں میں ہوگا
تو( یاحسین)فقط کیوں ؟

فریاد اور مددطلبی صرف حسین سےہی کیوں؟ جبکہ قطعی طور پر معلوم ہے کہ حسن حسین کے سگے بھائی ہیں دونوں کی ماں فاطمہ زھرااور باپ علی بن ابی طالب ہیں۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اے عرب اور عرب کے شیعہ حضرات! کیا آپ نے یہ سوال کبھی اپنے آپ سے کیا ہے؟
اس سوال کے جواب سے پہلے یہ چونکانے والی بات جان لیجئے

کیا آپ جانتے ہیں؟ کہ روافض کے جو بارہ(١٢)امام ہیں سب کے سب حسین رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں

شیعہ لوگ حسن رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ کے باقی تمام بیٹوں کو چھوڑ کر صرف حسین رضی اللہ عنہ کو ہی مقدس مانتے ہیں کیونکہ حسین نے شاہزناہ نامی ایک ایرانی عورت سے شادی کی تھی جوکہ ایرانی بادشاہ یزدگردکی بیٹی تھی یہ اس وقت کی بات ہے جب ایرانی حکومت کےزوال کے بعد انکے بادشاہ یزدگرد کو قتل کرکے مسلمان اس کی بیٹیوں کو قید کر لائے تھے تو اس وقت کے خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسری کی ایک بیٹی جس کا نام شاہزناہ تھا حسین رضی اللہ عنہ کو ہدیہ دیا تھا جس سے حسین رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی تھی ۔اسی وجہ سے شیعہ لوگ حسین اور ان( بارہ)اماموں کو مقدس مانتے ہیں کیونکہ یہ سب ائمہ اسی فارسی عورت شاہزناہ کی نسل سے ہیں نہ کہ جیسا یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ یہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے آل بیت سے محبت کرتے ہیں۔

پس صحیح بات یہ ہے کہ یہ لوگ کسری کے آل بیت سے محبت کرتے ہیں جو ان تمام بارہ اماموں کا نانا ہے اور یہ سب اپنی اسی پارسی ماں سے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کے پارسی ناناسے محبت کرتے ہیں جو کہ پارسیوں کا بادشاہ تھا نہ کہ حسین رضی اللہ عنہ کے نانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

مزید پڑھیں: تناول ویلفئیر آرگنائزیشن فلاحی سرگرمیاں جاری رکھے گی

امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” البدایة والنهاية” کے جزء٩ باب “سن ٦١ ہجری کے واقعات “کے تحت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے حالات زندگی کے ضمن میں لکھا ہے کہ : ” ابن خلکان نے فرمایا کہ ام سلمہ پارسیوں کے آخری بادشاہ یزدگرد کی بیٹی تھی ۔

زمخشری نے ربیع الابرار میں ذکر کیا ہے کہ یزدگرد کی تین بیٹیاں تھیں جوکہ عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ )کے دور خلافت میں قیدی بنائی گئی تھیں جن میں سے ایک عبداللہ بن عمر کو ملی جن سے سالم پیدا ہوے دوسری محمد بن ابوبکر صدیق کو ملی جن سے قاسم پیدا ہوے اور تیسری حسین بن علی بن ابی طالب کو ملی جن سے علی زین العابدین بن حسین پیدا ہوے ۔تو یہ لوگ(سالم، قاسم، علی زین العابدین )خالہ زاد بھائی ہیں۔”

چنانچہ وہ سارے ائمہ جن کو روافض مقدس مانتےہیں اور انبیاء و معصوم عن الخطا کے درجے پر فائز کرتے ہیں صرف حسین رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں جو انکی پارسی بیوی سے پیداہوےاور انکے تمام بارہ ائمہ اسی پارسی بیوی سے ہیں ۔ یہ لوگ ( شیعہ ) حسین رضی اللہ عنہ اور ان سارے ائمہ سے محبت کادم بھرتے ہیں کیونکہ یہ کہتے ہیں کہ انکے اندر پارسی رگ اور خون ہے نازیہ لوگ شاہان کسری کی خمیرسے ہیں۔

پس لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ شیعہ پارسی بادشاہ یزدگرد کے آل بیت سے محبت کرتے ہیں نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آل بیت سے ۔ اسے خود پڑھ کر کے نہ رہ جائیں بلکہ دوسروں تک پہنچائیں تاکہ شیعہ اور روافض اس حقیقت سے با خبر ہو جائیں اسلئےکہ اکثر لوگ اسے نہیں جانتے کیونکہ اسکو ان سے چھپا کر رکھا گیا ہے اور افسوس کہ ان کے گرو گھنٹال لوگ اپنے اوپر عوام کے اعتماد اور بھروسے کا نا جائز فائدہ اٹھا کر جو کچھ ان کے سامنے بیان کرتے ہیں وہ سب افواہ اور من گھڑت باتیں ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی رشتہ نہیں ۔

Show More

عزت اللّٰہ خان

عزت اللّٰہ خان سینئر رپورٹر ہیں، پشاور پریس کلب کے ممبر ہیں، بعض موضوعات پر ان کی تحقیقاتی رپورٹس صف اول کے اخبارات میں تہلکہ مچا چکی ہیں۔ سرکاری اداروں میں کرپشن پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے، معروف ویب سائٹس پر ان کے معاشرتی پہلوؤں پر بلاگز بھی شائع ہوتے رہے ہیں، آج کل الرٹ نیوز کے لیے لکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close