کافر نیوزی لینڈ اور مُسلم پاکستان

معاشرتی تفریق پر لکھی گئی موجودہ حالات کے تناظر میں لکھی گئی تحریر

سال بھر پہلے نیوزی لینڈ میں نسل پرست قاتل نے مسجد میں گولیاں چلا کر درجنوں نمازی شہید کئیے ، نیوزی لینڈ کی سرکار نے مٹی پانے کے بجائے سنجیدہ اقدامات اتھائے مظلوموں کو سنا مجرم پکڑا عدالتی کاروائی شروع کی ورثاء کو بھی شریک رکھا اور سانحے کے سال بعد اپنے قانون کے مطابق قاتل کو عمر قید کی سزا سنا دی کہ اب اسکی لاش ہی جیل سے نکلے گی۔ ایک طرح سے یہ موت سے بھی زیادہ سخت سزا ہے ۔

اب آ جائیں مملکت خداد پاکستان کی طرف گیارہ ستمبر 2012 کراچی میں ایم کیوایم کے بھتہ خور ونگ نے بلدیہ گارمنٹس فیکٹری سے پیسے مانگے سودا نہ ہونے پہ اسے آگ لگائی گئی پلک جھپکتے 250 سے اوپر بندے جن میں مرد عورتیں بچے جوان بزرگ سب شامل تھے زندہ جلا دئیے گئے پورے آٹھ سال گزر چکے کل نواں برس شروع ہوجائے گا اب تک سارے نامزد قاتل پکڑے جا سکے نہ ہی مقدمے کا فیصلہ ہوسکا ۔

مزید پڑھیں: معاشرتی تصویر میں رنگ کیسے بھریں – وجاحت مسعود

کل کلاں فیصلہ ہوا بھی تو اسے پہلے ہائی کورٹ پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا یوں مزید کچھ سال گزر جائیں گے جاں بحق افراد کے ورثاء میں بہت سے انتقال کر گئے انصاف کی شمعیں کبھی روشن نہ دیکھ پائے ویسے بھی یہاں ایک روز میں کئی کئی حادثے ہوتے ہیں ، پرانا کون کب تک یاد رکھے ؟۔ شعلوں کی نذر ہونے والوں میں کسی آرمی چیف کا بچہ تھا چیف جسٹس کا اور نہ وزیراعظم کا ۔۔۔۔۔ ایسے میں تو ایسا ہی انصاف ہوگا نا پھر ۔؟

کسے فرق پڑتا ہے صاحب ۔۔۔۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close