عصمت دری کا بڑھتا رجحان پر ہمیں لائیبیریا سے سیکھنا ہو گا

بلاگ : علی ہلال

براعظم افریقہ کے مغربی ملک لائیبیریا کے صدرنے جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بیخ کنی کے لئے فیصلہ کن آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے ملک گیر جنسی ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے ۔

2018 میں ملک کے صدر بننے والے صدر جورج ویا نے پراسیکیوشن جنرل کی سربراہی میں ایک سپریم قانونی کونسل تشکیل دے دی ہے جس کے تحت ملک بھر میں قانونی کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں۔ یہ قانونی کمیٹیاں سیکورٹی فورسز کے تعاون سے ملک بھر کے ایسے افراد کی مستقل لسٹیں بنائیں گی جو جنسی تشدد کے واقعات میں ملوث رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی ریپ کے مرتکب عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے سخت سزاوں کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام کی اطلاعات ہیں۔

ملک بھر میں پولیس ،فوج اور دیگر فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کے بیانات جمع کئے جانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں : میٹروویل میں افغان لڑکوں نے خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

خیال رہے کہ جنسی تشدد کے خلاف نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے والے صدر جورج ویا نے 2018 میں صدارتی منصب سنبھالا ہے ۔ جورج ویا اس سے قبل فٹبال کے عالمی کھلاڑی تھے اور عالمی شہرت کے حامل تھے ۔

لائیبیریا 1989 تا 2003 تک بدترین خانہ جنگی کا شکار رہا ہے جس کے نتیجے میں اڑھائی لاکھ سے زائد انسان اس خانہ جنگی میں جان کی بازی ہارگئے ہیں۔

مگر خانہ جنگی سے زیادہ لائیبیریا کے باشندوں کی زندگی جس مصیبت کے سبب عذاب بنی رہی وہ جنسی تشدد کے واقعات تھے ۔لائیبیریا کے قبائل ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال کرتے رہے۔ جس کے باعث جنسی تشدد اس ملک کی عالمی شہرت بن گئی ۔

سال 2016 کےاعدادوشمار سے متعلق عالمی ادار ے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک برس کے دوران جنسی تشدد کے 803 واقعات رجسٹرڈ ہوئے ۔ اس کے بعد بھی یہ حیوانی سلسلہ جاری رہا۔

لائیبیریا 2014 سے 2016 تک عالمی وائرس ایبولا کا بھی شکار ہوا اس دوران بھی جنسی تشدد کے واقعات جاری رہے۔

مزید پڑھیں : موٹر وے زیادتی کیس، ملزم وقار نے گرفتاری دیدی

سال 2016 میں عالمی ادارے اقوام متحدہ نے سروے کر کے جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق 45 لاکھ آبادی والے لائیبیریا میں ایک برس کےدوران جنسی تشدد کے 803 واقعات رجسٹرڈ ہوئے ۔یہ وہ واقعات تھے جو رپورٹس کیے گئے ۔ مگر پریشانی یہ رہی کہ حکام نے کسی ایک واقعہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی نہیں کی۔ ریپسٹ کے خلاف حکام کی مجرمانہ خاموشی نے ملک کے نوجوان طبقے کی حوصلہ افزائی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان لڑکوں نے منظم جھتےبنا کر منظم طریقے سے خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی عزتیں لوٹنے کا سلسلہ شروع کردیا ۔قد آور لڑکوں کے یہ آوارا گروپس بستیوں ،ویرانوں اور عام شاہراہوں پر دندناتے پھرتے اور راہ چلتی خواتین کو اغوا کر کے ہوس کا نشانہ بناتے ۔ جس سے لائیبیریا میں بھیانک خوف اور بدامنی کاراج ہو گیا ۔ خواتین کے لئے یہ ملک ایک جہنم بن گیا۔ لوگ جنسی تشدد کے باعث ملک چھوڑنے لگے ۔غیر ملکی کمپنیوں نے اپنے دفاتر ملک سے منتقل کئے کیونکہ فیمیل ملازمین نے ملازمت سے معذرت کی تھی۔

جنسی تشدد کے خلاف عوام نے حکام سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیئے ۔دو سال کے عرصے میں متعدد احتجاجی مظاہروں کے بعد صدر جورج نے بالآخر اس شرمناک رجحان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا تاہم سیکورٹی ماہرین اور قانونی مشیروں نے صدر کو بتا دیا کہ لائیبیریا کے بیشتر افراد کو جنسی ہوس کا چسکہ لگ چکا ہے لہذا اس کی روک تھام صرف کسی غیر معمولی اقدام کے ذریعے ممکن ہے ۔

مذید پڑھیں : سندھ یونیورسٹی میں فتح محمد برفت کو VC شپ سے ہٹا دیا گیا

ماہرین کے مشورے کے پیش نظر صدر جورج نے ریپ کو ایبولا اور کورونا وائرس کی طرح وباء قرار دے دیا ہے ۔اور 10 ستمبر کو ملک گیر ایمرجنسی نفاذ کا اعلان کیا ہے۔جنسی تشدد میں ملوث افراد کے ملک سے نکلنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے لئے بڑے سخت اقدامات کر دیئے گئے ہیں اور یوں لائیبیریا دنیا بھر میں جنسی تشدد کو روکنے کے لئے ایمرجنسی نافذ کرنے والا پہلا ملک بن کر ابھر گیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *