عورت درندگی کا شکار کیوں ؟

اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے آ کر عورت کو جینے کا حق دیا اور معاشرے میں اس کو حقوق دئیے اور عملا ان کو نافذ کر کے دنیا کو دکھایا

تحریر : محمد سعد سعدی

اسلامی معاشرے کی امتیازی صفات اور خصوصیات میں سے ایک یہ رہی ہے کہ عورت کو جو عزت و مقام ایک اسلامی معاشرے میں ملتا ہے وہ دنیا کے کسی خطے اور کسی کونے میں نہیں ملتا۔ کیوں کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس نے آ کر عورت کو جینے کا حق دیا اور معاشرے میں اس کو حقوق دئیے اور عملا ان کو نافذ کر کے دنیا کو دکھایا۔ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں جو محبت و اخوت اور احترام کے رشتے قائم کئے، اس پہ غیر مسلم عورتیں رشک اور حسرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور آج تک دنیا اس کی نظیر پیش نہیں کر سکی۔

آج ہمیں ان اسباب اور عوامل پر غور کرنے کی جس کی وجہ سے عورت ایک بار پھر نیلام ہوئی اور اس کی عزت و عصمت کو تار تار کیا گیا۔ دنیا کے نقشے پر جب تک اسلام کا عملی نظام نافذ رہا اس وقت تک عورت کو معاشرے میں نمایاں مقام اور عزت دی جاتی رہے لیکن جب ہمارے حکمرانوں نے دینی اقدار و روایات پس پشت ڈالتے ہوئے جب اپنی خواہشات کی پیروی شروع کر دی اور عیاشیوں اور رنگینیوں میں مست ہو گئے تو عورت ایک بار پھر زمانہ جاہلیت کی طرح ان کی جنسی تسکین اور فرحت و سرور کا سامان بن کر رہ گئی۔ بعد ازاں رفتہ رفتہ ایک منظم انداز سے عورت کو اپنے حقوق کی حصولی کا جھانسہ دے کر گھر کی چار دیواری سے باہر نکالا گیا جس کے نتیجے میں خواتین کا بہت بڑا طبقہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے چادر و چار دیواری کا تقدس چھوڑ کر سربازار نکل آیا اور حوس کے پوجاریوں نے عورت کی نازکی اور کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ رفتہ رفتہ نوکری ملازمت اور کاروبار سمیت تمام جگہوں پر عورت کو مرد کے شانہ بشانہ کھڑا کر دیا گیا اور اس کو بہت بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: ایبٹ آباد لوئر تناول میں طبی کیمپ سے 300 مریضوں کا مفت علاج

اس طریقے سے عورت کو ایک معزز اور قابل احترام ذات سے نکال کر اسے پروڈکٹ بنایا دیا گیا اور اپنی تجارت اور کمائی کے لئے سربازار بڑے بڑے سائن بورڈز پر نازیبا اور نیم برہنہ لباس میں ملبوس عورتوں کی تصاویر لگا کر اس کی تضحیک کی گئی اور اسے صرف ایک جسمانی ساخت کا مجموعہ بنا کر پیش کیا گیا، پھر اس سے اگلا قدم اٹھاتے ہوئے کمائی کا بوجھ عورت کے سر پہ ڈال کر اسے ملازمت کے لئے آمادہ کیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہسپتال سے لے کر بازار تک، چوکوں چوراہوں سے لے کر دفاتر و آفس تک کوئی جگہ ایسی نہیں کہ جہاں زیب و زینت سے آراستہ نیم برہنہ لباس میں آپ کو خواتین نہ ملیں۔ دوسری طرف مرد کو نظر جھکانے، حیا اور پاکدامنی کا درس دینے کی بجائے فحش اور نازیبا فلموں، ڈراموں اور موسیقی کے ذریعے اسے رنگ برنگی حسین مناظر دیکھنے کا عادی بنا دیا گیا اور رفتہ رفتہ مرد کی کوششوں اور خوابوں کا حاصل بھی فقط ایک جنسی خواہش کی تکمیل ہو کر رہ گئی۔

یہی وہ تمام تر حقائق ہیں جس نے عورت کی حیثیت کو مرد کی نظر میں صرف ایک پرکشش جسمانی چیز بنا دیا جو صرف مرد کی جنسی تسکین کے لئے بنائی گئی ہے اور مرد کو وحشی درندہ۔ اس کے نتیجے میں عورت کی عصمت کی پامالی اور جنسی درندگی کے واقعات روز بروز بڑھنے لگے اور مرد انسانیت کی تمام حدود پار کرتے کرتے حیوان سے بھی بدتر ہوچکا۔

گزشتہ دنوں جو عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا اس کی ہم مذمت کرتے ہیں، لیکن آخر مذمت سے ہوتا بھی کیا ہے؟ کیا واقعات رک جائیں گے یا درندگی ختم ہو جائے گی؟ ہرگز نہیں بلکہ اصل کام یہ ہے کہ سب سے پہلے ان مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا دی جائے اور پھر ان واقعات کے اسباب کی طرف غور کر کے ان کی اصلاح کی جائے۔ مجرموں کو سزا دینا حاکم وقت کا کام ہے اور اب حکمرانوں سے توقعات رکھنا عبث ہے اس لئے ہم جو کام کر سکتے ہیں وہ کریں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، وہ کرنے کا کام اصلاح ہے۔

مزید پڑھیں: موٹر وے زیادتی کیس، ملزم وقار نے گرفتاری دیدی

اصلاح کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ ہم شریعت کو دین اور قانون سمجھ کر ہر شعبے میں اس پر عمل کرنے کی اور اس کو اپنے اوپر نافذ کرنے کی کوشش کریں۔ ابتداء سے ہی بچوں کو غیر محرم کے سامنے نظر جھکانا اور بچیوں کو شرم و حیا اور حجاب کا درس دیں اور اس کے علاوہ بچوں اور بچیوں کی تربیت سے متعلق جتنے احکامات شریعت ہیں ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک پرامن، باحیا اور مثالی معاشرہ قائم نہ کر سکیں۔

موجودہ واقعہ کو بھی دیکھا جائے تو وہ عورت اپنے بچوں کے ساتھ تنہا سفر کر رہی تھی جبکہ شریعت بغیر محرم کے تنہا سفر کرنے سے سختی سے منع کرتی ہے، اس سے بھی سبق اور نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ ہر شریعت کے ہر حکم حکمت پر مبنی ہے اس پہ عمل کرنے میں ہی فلاح اور راحت ہے۔ اللہ تعالی ہم سب شریعت کے تمام تقاضوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close