ابتدا سے تضادات پیدا کر دئیے گئے ۔۔۔!!!

آی جی موٹر وے کلیم امام کو سنا اس کہ بعد واقعات کی سیریز کچھ یوں بیان کی گیی ہے

آج FIR دیکھی ، موقع پر پہنچنے والے ڈولفن اہلکار کا بیان سنا ، آی جی موٹر وے کلیم امام کو سنا اس کہ بعد واقعات کی سیریز کچھ یوں بیان کی گیی ہے ۔۔۔!!!

بمطابق( FIR ) مستغیث مقدمہ سردار شہزاربیانی ہیں کہ مسمات ث نے تقریباً 3 بجرات فون کیا کہ میری گاڑی موٹروے پہ خراب ہو گی لوکیشن بھی بتاہی میں نے اپنی عزیزہ کو کہا کہ وہ 130 پہ کال کرے جبکہ میں اپنے دوست کہ ساتھ تقریباً 4 بجے موقع پر پہنچا تو دیکھا گاڑی کا ڈرہیونگ سیٹ والا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور سڑک سے نیچے دیکھا تو مسمات ث اپنی بچوں سمیت سڑک کی طرف آ رہی تھی اس نے بتایا کہ میرے ساتھ دو نامعلوم جن کو سامنے آنے پر شناخت کر سکتی ہوں ملحقہ جنگل میں لے جا کر زیاتی کی ہے ۔۔۔!!!

بمطابق کلیم امام آی جی موٹروے پولیس ، اپ نے فرمایا کہ ہمیں 2:01 منٹ پہ کال موصول ہوی کہ میری گاڑی فلاں مقام پہ پیٹرول نہ ہونے کہ باعث بند ہے میری ہیلپ کریں جس پر ہمارے سٹاف نے اسے بتایا کہ یہ ہماری جیوریڈیکش میں نہیں ہے اور ساتھ ہی کال پہ FWO کو لے کر ان کو آگا کیا یعنی 2:01 منٹ پہ ۔۔۔!!!

مزید پڑھیں : بریکنگ اورریٹنگ کے بھیڑ میں ضابطہ اخلاق کہیں کھو گیا

بمطابق ڈولفن اہلکار 15 پہ ہم کو 2:49 منٹ پہ کال آہی تو ہم 2:53 منٹ پہ موقع پہ پہنچے تو دیکھا گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہو تھا بچے کا جوتا پڑا ہوا تھا ہم نیچے کی طرف گہے 6 فاہیر کیے اور کوی ادھر ہے تو آواز آی بھای ، خاتون بچوں کو سمیٹے ہوے تھی ڈری ہوی تھی ہم مے سڑک پہ لاہی تو اس کی حالت خراب ہو گی اور بے ہوش ہو گیی پانی پلانے کہ بعد ہوش میں آیی اور بعد ازاں پولیس بھی پہنچ گیی موقع پر ۔۔۔!!!

مزکورہ بیانات کی روشنی میں سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہکہ 2:01 منٹ سے 2:53 منٹ تک ( اگر ڈولفن کہ بیان کو درست مانا جاے) کوی مدد کہ لیے کیوں نہ آیا FWO اور موٹروے کیوں خاموش رہے اور اگر رات 2 بجے آے بھی تو دو ریپسٹ، ڈکیت جو جنگل سے نکل کر آے اور پھر جنگل میں ہی غاہب ہوے یہ اتفاق کیسے ممکن ہے ( اگر گاڑی یا باہیک پہ آتے ملزمان تو شاہد یہ قیاس نہ بنتا) اب ان ڈکیتوں کو اطلاع کس نے دی کہ اس مقام پر گاڑی خراب ہے اور عورت اکیلی ہے کیونکہ اس چیز کی خبر تو صرف موٹر وے پولیس اور FWO کہ واہیرلس(کال) ہینڈلر کہ علاوہ کسی دوسرے کو نہیں تھی لہذا سب سے پہلے تفتیش ان سے کرنی چاہیے کہیں وہ سہولت کار تو نہیں تھے کیونکہ ایسا بعید از قیاس نہیں ریپ کہ معاملہ میں نہ بھی قرین قیاس ہو لیکن ڈکیتی کہ معاملہ میں قرین قیاس ہے ۔۔۔!!!

مزید پڑھیں : موٹر وے زیادتی کیس، ملزم وقار نے گرفتاری دیدی

دوسرا سوال جب موقع پہ ڈولفن اہلکا 2:53 منٹ پہ پہنچ کر خاتون کو ریسکو کر چکے تھے تو پھر مستغیث شہزاد کا یہ کہنا کہ اس نے 4 بجے موقع پر پہنچ کر خاتون کو سڑک کی طرف لایا جبکہ متعلقہ پولیس بھی موقع پر پہنچ چکی تھی تو FIR جو ظاہر ہے ایسے معاملات میں پولیس کی مشاورت سے لکھی جاتی ہے جان بوجھ کر غلط حقاہق کیوں لکھے گہے ظاہر ہے 15 کال ریکارڈ ، ڈولفن اہلکار شہزاد سب گوہان کی لسٹ میں شامل ہونگے اور ان کہ بیانات میں وقوعہ کہ روز ہی ایک تضاد پیدا کر کہ کس کو فاہدہ پہنچانے کی کوشش کی گیی ۔۔۔!!!

یہ کیسں بڑی حد تک ڈی این اے رپورٹ پہ ڈیپنڈ کرتا ہے ورنہ ان تضادات کی وجہ سے اور اور ابتداہی مراحل میں ہی تضادات پیدا کر کہ یوں لگتا ہے کسی کو شک کا فاہدہ دینے کو کوشش کی جا رہی ہے ۔۔۔!!! اللہ کرے یہ خدشات تضادات سب غلط ثابت ہوں اور ملزمان 6 ماہ کہ اندار پھانسی گھاٹ تک پہنچیں ۔۔!!!😓

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close