بریکنگ اورریٹنگ کے بھیڑ میں ضابطہ اخلاق کہیں کھو گیا

کونسے اور کتنے ایسے مشہور واقعات ہیں جس پر نیوز چینل کی بریکنگ اثرانداز ہوئی اور بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا

پاکستان میں جب سے پرائیویٹ چینل کی بہتات ہوئی ہے تب سے خبر میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے اور ریٹنگ کی خاطر عجیب وغریب ڈرامائی صورتحال سامنے آتی رہتی ہے، بریکنگ نیوز اور سنسنی خیزی کے باعث ضابطہ اخلاق بری طرح مسل دیا جاتاہے۔
جہاں یہ کسی کی ذلت و رسوائی کا سبب بنتی ہے وہیں یہ بسا اوقات تحقیقات اور یہاں تک کہ سیکیورٹی رسک بھی بنتا ہے۔
کونسے اور کتنے ایسے مشہور واقعات ہیں جس پر نیوز چینل کی بریکنگ اثرانداز ہوئی اور بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا
اس پر بی بی سی اردو نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا ایک اقتباس درج ذیل ہے۔

’’لاہور میں مناوا پولیس حملے کی میڈیا پر براہ راست کوریج نے حملہ آوروں کو پولیس کی درست پوزیشن معلوم کرنے میں مدد دی اور یوں اس کوریج سے پولیس کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
سوات میں فوجی آپریشن کے دوران جب ایک نجی ٹی وی چینل نے کچھ فوجیوں کی شناخت ظاہر کی تو نتیجہ ان کی ہلاکت کی صورت میں سامنے آیا۔

راولپنڈی میں کالعدم تنظیم کے شدت پسندوں نے فوجی ہیڈ کواٹر پر حملہ کیا تو مناظر ٹی وی سکرین پر لمحہ بہ لمحہ چلتے رہے، جس سے حملہ آوروں کو بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے میں مدد ملی۔ کوریج کی وجہ سے یہ آپریشن مزید طوالت بھی اختیار کر گیا۔

ایسے ہی کچھ مناظر 2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد فوجی آپریشن کے دوران بھی دیکھنے کو ملے جس کا رد عمل ملک کے مختلف علاقوں سے سامنے آیا۔

گذشتہ حکومت کے دور میں فیض آباد کے مقام پر ایک مذہبی جماعت نے دھرنا دیا تو چند دنوں بعد پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کیا۔

میڈیا یہ سب کارروائی براہ راست دکھا رہا تھا۔ اس دوران پتھراؤ سے زخمی ہونے والے پولیس افسران بھی دکھائے گئے، جس کے بعد پیمرا کو چند گھنٹوں کے لیے تمام چینلز کو بند کرنا پڑا۔ تاہم ٹی وی پر آپریشن کے مناظر دیکھ کر باقی جگہوں سے بھی تازہ دم مظاہرین فیض آباد پہنچے اور انھوں نے آپریشن کی جگہ سے پولیس کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا‘‘
بی بی سی اردو کے نمائندے اعظم خان گجرہ پور والے کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ
’’گجرہ پور جیسے واقعات میں قانونی طور پر جب تک کسی کے خلاف کوئی جرم عدالت میں ثابت نہ ہو جائے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی مگر میڈیا پر گجر پورہ میں ہونے والے ریپ کے واقعے میں ملوث ملزمان کی نہ صرف مکمل شناحت ظاہر کی گئی بلکہ ان کے شہر، محلے، گھر اور رشتہ داروں تک کی تفصیلات بھی مہیا کر دی گئیں۔
جن سے دو بنیادی سوالات نے جنم لیا کہ کہ میڈیا کا ضابطہ اخلاق کیا ہے اور اگر ہے تو پھر اس پر عملدرآمد کس حد کیا جاتا ہے‘‘

Show More

شاکر احمد خان

شاکر احمد خان نوجوان صحافی ‛ بلاگر اور سماجی کارکن ہیں۔ حال ہی میں جامعہ کراچی سے شعبہ ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا ہے۔ وفاق المدارس کے بھی فاضل ہیں۔ آپ ایک بہترین معلم بھی ہیں۔ سماجی و معاشرتی مسائل سے متعلق لکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close