آزادکشمیرکےطلبہ نے آواز اور اشاروں سےچلنےوالی ویل چئیرتیارکرلی

رپورٹ :جاوید اقبال
آزادکشمیرجموں و کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ کے طلبہ نے انسانی آواز اور ہاتھ کے اشارے سے چلنے والی اپنی نوعیت کی منفرد وِیل چیئر بنالی ہے.

طلبہ کےایک گروپ جس میں راجہ عاصم سلیم، عماد میر، راجہ سیف علی اور تاشف ابرار شامل تھے نے اسسٹنٹ پروفیسر انجینئر فیصل محمود بٹ کی زیرِ نگرانی یہ خود کفیل وِیل چیئر کا پروجیکٹ اپنی ڈگری کے آخری سال میں بنایا ہے.

بتایا جاتا ہے کہ یہ وِیل چئیر مریضوں، ضعیف العمر بزرگوں اور معذور افراد کی سہولت کے لیے بنائی گئی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مدد آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں. یہ خودکفیل وِیل چیئر ہاتھ کے اشارے اور آواز سے چلتی ہے. اسے چلانے والا شخص پہلے کرسی پر بیٹھتا ہے، پھر اسے چلانے کے لیے اپنی مرضی کا طریقہ اپنانے کے بعد اسے چلاتا ہے.

ہاتھ کے اشاروں سے چلانے کے لیے ایک دستانہ پہننا ہوتا ہے جس پر ایک چِپ(IC) نصب کی جاتی ہے جو کہ زمین کے مدِ مقابل حرکت کو محسوس کر کے وِیل چیئر کو اس مخصوص سمت میں چلاتی ہے۔ اس ویل چئیر کو آواز سے چلانے کے لیے کالر پر مائیکروفون لگا کر اپنی آواز میں مخصوص سمت کے احکامات ریکارڈ کرواتے ہوئے بولا جاتا ہے. مائیکروفون سے چلانے والے فرد کا حکم ملنے پر وِیل چیئر اُس حکم کے مطابق کام کرتی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *