مضاربہ کیس کا اہم ملزم مفتی عبدالکبیر گرفتار کر لیا گیا

مفتی عبدالکبیر کے تین بینک اکائونٹس سے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے : مدعی ضیا الرحمن

کراچی : جامعہ بنوریہ کے استاذ مفتی عبدالکبیر کو چیک باؤنس ثابت ہونے پرماڈل کورٹ کراچی ایسٹ نے 2 سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 2 ماہ کی سزا بگھتنی ہو گی اورمفتی عبدالکبیر کو کورٹ روم سے ہی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے ۔

مفتی عبدالکبیر نے 28 جون 2013 ضیاالرحمٰن نامی شخص سے 6 لاکھ روپے کا چیک مضاربت ( اسلامک سرمایہ) کی مد میں لیا جس پر مفتی عبدالکبیر نے 23 ہزار 500 روپے ماہانہ پر لاکھ کے حساب سے متوقع منافع لکھا اور مدت معاہدہ 5 جولائی 2013 سے 20 اگست 2013 ڈیڑھ ماہ کے حساب سے 211500 روپے اصل رقم کے ساتھ ڈیڑھ ماہ کے بعد دینے کا معاہدہ کیا تھا ۔

ڈیڑھ ماہ گزرنے کے بعد جب ضیاالرحمٰن نامی شخص اپنی اصل رقم اور پروفٹ لینے مفتی عبدالکبیر کے پاس گیا، پہلے تو مفتی عبدالکبیر نے ٹال مٹول سے کام لیا اور بالآخر نہ صرف پروفٹ بلکہ اصل رقم دینے سے بھی صاف انکار کر دیا اور دھمکیاں دینے لگا اور کہا کہ رقم شفیق الرحمٰن لے کر بھاگ گیا جب کہ NAB کی تحقیقات کے مطابق مفتی عبدالکبیر کے تینوں کروڑوں روپے کے اکاؤنٹ سے ایک روپے کی بھی ٹرانزیکشن شفیق الرحمٰن کے اکاؤنٹ میں نہیں ہوئی ۔

مذید پڑھیں : تحفظ عظمت صحابہ کانفرنس کی تیاریاں مکمل، آج شاہراہِ قائدین پر ھوگی : مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان

جس پر ضیاء الرحمٰن نے 12 نومبر 2013 کو اپنے وکیل کے ذریعے رقم واپسی کا لیگل نوٹس بھیجا اور 26 نومبر 2013 کو مفتی عبدالکبیر نے اسکا جواب اپنے وکیل کے ذریعے دیا ، جس میں مفتی عبدالکبیر نے 6 لاکھ روپے مضاربت کے لئے لینے اور معاہدہ سے بھی صاف انکار کیا اور ضیاء الرحمٰن سے 6 لاکھ روپے کا چیک مضاربت کے طور پہ لینے کا بھی انکار کیا ۔ اس کے بعد مفتی عبدالکبیر چند غنڈوں کے ہمراہ ضیاء الرحمٰن کے گھر گئے ،جہاں ضیاء الرحمٰن کے نہ ملنے پر اس کے بوڑھے والد کو زبردستی لے گئے اور شدید زد و کوب کیا اور دھمکیاں دیں ، پھر بڑی مشکل سے ان لوگوں نے اس کے والد کو چھوڑا اور ضیاء الرحمٰن کو فون پر دھمکیاں دیں گئی ۔ جس پر ضیاالرحمٰن نے پاکستان بازار تھانہ میں عبدالکبیر کے خلاف 28 جون 2013 کو دھوکہ دینے کی FIR کا اندراج کیا ۔

کراچی ویسٹ کی کورٹ میں کیس چلتا رہا ، جس میں عبدالکبیر نے کورٹ میں نہ صرف خود جھوٹ بولا اور بلکہ وقار نامی شخص سے کورٹ میں جھوٹی گواہی بھی دلوائی ، جس نے کورٹ میں کلمہ پڑھ کر عبدالکبیر کی حق میں جھوٹی گواہی دی ۔ کیس ٹرائل کے دوران جب مفتی عبدالکبیر کو اندازہ ہوا کے کیس کا فیصلہ اس کے خلاف آ سکتا ہے تو اس نے ضیأ الرحمٰن کو دھوکے سے اصل رقم واپس کرنے کا وعدہ کیا اور 2 چیک ایک ایک لاکھ روپے کے اپنے اکاؤنٹ بینک الفلاح اونگی ٹاؤن برانچ کے دیئے اور وعدہ کیا کہ باقی 4 لاکھ روپے کی قم بھی جلد دے دیگا۔

مزید پڑھیں : جامعہ کراچی نادیہ اشرف کیس کی کمیٹی ٹوٹ گئی

لیکن جب ان چیکس کو اکاؤنٹ میں ڈیپازٹ کیا تو دونوں چیک باؤنس ہو گئے جس پر ضیأ الرحمٰن نے پہلے چیک کی FIR، 489F کے تحت FIR کا اندراج کرایا ۔ عبدالکبیر نے چیک باؤنس ہونے کے بعد ایک جعلی صلح نامہ پر ضیأ الرحمٰن کے جعلی سائن کر کے اس جعلی صلح نامہ کے ساتھ اپنے دو شاگرد (۱) عبدالبصیر ولد محمد ہارون (۲) نعیم گل ولد گل صاحب شاہ کو کورٹ میں پیش کیا اور ان دونوں سے جھوٹی گواہیاں دلوائیں ، جنہوں نے کورٹ میں کلمہ پڑھ کر عبدالکبیر کے حق میں جھوٹی گواہیاں دیں ۔

نعیم گل نے کورٹ میں جھوٹ بولا اور اپنا ایڈریس غلط بتایا کہ وہ کاج اور اوَر لاک کا کام کرتا ہے اور عبدالکبیر کی جامعہ مسجد غوثیہ کے پاس اقبال بلوچ بلوچ کالونی اورنگی ٹاؤن کا رہائشی ہے اورعبدالبصیر نے بھی کورٹ میں غلط ایڈریس دیا اور جھوٹ بولا کہ وہ BA کی تیاری کر رہا ہے اور اقبال بلوچ کالونی اورنگی ٹاؤن کا رہائشی ہے ۔

ضیأ الرحمٰن کے اس جعلی صلح نامہ پر اعتراض کرنے پر کورٹ نے اس جعلی صلح نامہ کو فرانزک ڈیپارٹمنٹ سائن ویری فکیشن کے لئے بھیجا ۔ فرانزک کی رپورٹ کے مطابق جعلی صلح نامہ پر ضیأ الرحمٰن کے سائن جعلی ثابت ہو گئے جس پر یہ صلح نامہ اور عبدالکبیر کے پیش کردہ دونوں گواہان جھوٹے ثابت ہوئے ۔

مذید پڑھیں : خیبر پختون خوا کے IG ثناءاللہ عباسی خود کرپٹ نکلے

نعیم گل اور عبدالبصیر دونوں ہی جامعہ بنوریہ میں زیر تعلیم ہیں، وفاق المدارس کی ویب سائٹ پر ان دونوں کا رول نمبر، رجسٹریشن نمبر، مدرسے کا نام، مدرسے کا الحاق نمبر، حاصل کردہ نمبر پرسنٹیج کے ساتھ موجود ہے ۔ عبدالکبیر کئی سالوں سے جامعہ بنوریہ میں پڑھاتا آ رہا ہے اور اس کے دونوں کورٹ میں پیش کردہ گواہان بھی کئی سالوں سے اسی جامعہ بنوریہ میں پڑھتے آ رہے ہیں اور اسی جامعہ بنوریہ کے ہاسٹل میں رہائش پزیر ہیں ۔

عبدالکبیر کا جھوٹا گواہ عبدالبصیر ولد محمد ہارون اس سال جامعہ بنوریہ میں درجہ عالمیہ سالِ دوئم (2nd year) میں زیر تعلیم ہے اور 2016 سے اسی جامعہ بنوریہ میں پڑھتا آ رہا ہے ۔ عبدالبصیر اس سال درجہ عالمیہ سال دوئم کا امتحان پاس کرنے میں نا کام رہا اور صرف 380 نمبر لے کے فیل ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔ عبدالبصیر کا رول نمبر5779، رجسٹریشن نمبر1434-05-005612 ہے۔ عبدالبصیر کا شناختی کارڈ پر ایڈریس ڈبریاں ڈاکخانہ ڈبریاں بالا کوٹ ضلع مانسہرہ کا ہے ۔

عبدالکبیر کا جھوٹا گواہ نعیم گل ولد گل صاحب شاہ اس سال جامعہ بنوریہ میں درجہ عالمیہ سالِ دوئم (2nd year) میں زیر تعلیم ہے اور جس نے اس درجہ عالمیہ سالِ اول کا امتحان دیا اور اسکا رول نمبر9083 رجسٹریشن نمبر1434-05-013424 ہے ، جامعہ بنوریہ کے استاذ مفتی عبدالکبیر نے سیکڑوں لوگوں سے کروڑوں روپے مضاربت (اسلامک سرمایہ کاری) کے نام پر اکٹھے کیئے۔ مفتی عبدالکبیر کے اکاؤنٹ کی تفصیل درج ذیل ہے ۔

مذید پڑھیں : جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کے سابق رئیس دارلافتا مفتی عبداللہ شوکت کو نیب نے دبئی سے گرفتار کرلیا ۔

(۱) اکاؤنٹ نمبر00100080899500012الائیڈ بینک میٹرو ول برانچ کراچی میں 16-01-2013 سے 05-07-2013 کے قلیل عرصے میں Rs.44,500,200 (چار کروڑ پینتالیس لاکھ دو سو روپے) اکٹھے کیئے ۔

(۲) اکاؤنٹ نمبر000204186171 یونائیٹڈ بینک میٹرول ول سائٹ برانچ کراچی میں 31-12-2012 سے 11-07-2015 کے درمیان Rs.53,591,669 ( پانچ کروڑ پینتیس لاکھ اکیانوے ہزار چھ سو انہتر روپے) مضاربت کی مد میں اکٹھے کیئے۔

(۳) اکاؤنٹ نمبر205517662 یونائیٹڈ بینک سائٹ برانچ کراچی میں 11-03-2013 سے 19-12-2016 کے درمیان Rs.32,742,571(تین کروڑ ستائیس لاکھ بیالیس ہزار پانچ سو اکہترروپے) مضاربت کی مد میں اکٹھے کیئے۔

معلوم رہے کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور اسلام کے قلعے میں بیٹھے چند لوگ جو نہ صرف دین اسلام کو بد نام کر رہے ہیں بلکہ مسلک دیوبند کو بھی داغدار کر رہے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مفتی نعیم رحمہ اللہ کے صاحب زادے اور جامعہ بنوریہ سائٹ A کے مہتمم مولانا نعمان نعیم جامعہ بنوریہ میں بیٹھے عبدالکبیر اور اپنے ان دو شاگردوں کے خلاف کیا شرعی کاروائی عمل میں لاتے ہیں یا پھر خاموشی اختیار کر کے اس سارے معاملے سے چشم پوشی کرتے ہوئے ان کے گناہ میں برابر کے شریک ہو جاتے ہیں یا پھر مفتی عبدالکبیر اور جامعہ بنوریہ کے دونوں طالبِ علموں کا انفرادی فعل کہہ کر جان چھڑا لیں ۔

مذید پڑھیں : نیب ایگزیکٹو بورڈ نے 1 بدعنوانی ،2 انویسٹی گیشن رینفرنسز سمیت 4 انکوائریوں کی منظوری دے دی

یاد رہے کہ جامعہ بنوریہ مضاربہ اسکینڈل کا مرکز رہا ہے جہاں کے دوسرے مفتی بھی NAB کی حراست میں ہیں جامعہ بنوریہ کے رئیس دارالافتاء کے مفتی عبداللہ شوکت کو NAB نے مضاربت کے نام پر اربوں روپے کا فراڈ کر کے ملک سے بھاگ جانے پر دبئی سے اریسٹ کر کے پاکستان لایا ۔ اگر کسی نے بھی مفتی عبدالکبیر کے پاس مضاربت کے لئے انویسٹمنٹ کی ہے تو NAB ہیڈ کواٹر کراچی سے رابطہ کرے ۔ NAB اس کے خلاف تحقیقات کر چکا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مزید متاثرین سامنے آئیں، تاکہ NAB کی کاروائی عمل میں لائی جا سکے۔

Show More

شہزاد ملک

شہزاد ملک سینیئر صحافی اور اینکر پرسن ہیں، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے ممبر یں۔ آپ رائل نیوز، روز ٹی وی، کیپیٹل ٹی وی پر اینکر رہ چکے ہیں۔ آپ نے صحافت کا اغاز 10 برس قبل پاور 99 ایف ایم ریڈیو اسلام آباد سے کیا تھا، آج کل وہ آئن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ وابستہ ہیں اور الرٹ نیوز کیلئے ان کی تحقیقاتی خبریں آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close