” صحابہ کرام کا ادب و احترام “

صحابہ کرام وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے گلشن اسلام کو اپنے خون سے سینچا

تحریر: محمد ع ثمان انیس درخواستی۔

صحابہ کرام وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے گلشن اسلام کو اپنے خون سے سینچا اسلام کی اشاعت و ترویج کے لیے اپنی جان مال اولاد کو قربان کر دیا ،مشرکین مکہ کے مظالم برداشت کرتے ہوئے تو حید کا پرچار کیا اور مشن رسالت پرثابت قدم رہے، کبھی صحن حرم میں انہیں لہولہان کیا گیا، تپتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا،جلتی ہوئی آگ میں ڈالا گیا، جسم کے اعضا کو کاٹا گیا، ابلتے ہوئے تیل کے کڑاہے میں ڈالا گیا،تختہ دار پر لٹکا یا گیا،طعن وتشنیع کی گئی ۔

دین اسلام کی بقا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور بات کی حفاظت اس انداز سے کی کہ اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید میں ان جیسا ایمان لانے کو معیار قرار دیتے ہوئے ساڑھے سات سو آیات میں ان کے فضائل و مناقب، موافقات، دفاع، دل جوئی، صلہ رحمی، سخاوت، صدق واتقا، محبت، قیامت کی سختی سے حفاظت، جہاد و قتال، رائے کا احترام، مشورہ کا حکم، عفت و عصمت، قبولیت توبہ، خدا کا سلام، انفاق فی سبیل اللہ، مشیر رسول، تسلیات، کفر و عصیان، فسق سے محفوظ، ایفاۓ عہد،جذبہ شہادت، بیعت رضوان ، رضا خداوندی کے متلاشی ، نصرت خداوندی، مغفور، محفوظ، تنبیہات، ان کے گھوڑوں کی قسمیں، رشد و ہدایت، فوز و فلاح، سراپا ادب، پیکر تقوی، رزق کریم، خدائی لشکر، بلندی درجات، عفو و درگذر، اطاعت، عبادت، کامیابی و کامرانی، راہ خدا کے حکمت و بصیرت سے معمور راہی ایثار، محبت خداوندی، رحم دلی، سکون و اطمینان کا نزول، چہروں کی چمک دمک، پیشانیوں پرعبادت کے آثار، رضاء الٰہی کے طلب گار، تورات و انجیل میں مثالیں،عزت و عظمت سے معمور اور آپس میں انتہائی پیار و محبت کرنے والے، کافروں پر سخت،خیر و بھلائی کا مصداق جیسے بے شمار اوصاف بیان کرنے کے ساتھ ہمیشہ کے لئے اپنی رضا کا پروانا جاری کرکے ان کے دشمنوں کو جواب دینے اور دفاع کرنےکا انداز بھی خود بتلا دیا ۔

مذید پڑھیں : سی پی این ای اراکین کے اخبارات کو اشتہارات کے واجبات کی فوری ادائیگی کی جائے: سندھ ہائی کورٹ

ان کے دشمنان منافقین، مشرکین کو سفیہ( بے وقوف)،جاھل، بے شعور، وادی سر کشی کےاندھے، بہرے، گونگے، دربدر بھٹکتے راہی، گمراہ ،فاسق ،فاجر، بے حیا،کذاب، بدبخت، شقی،عذاب الیم درد ناک عذاب کی وعید، دوغلے، دھوکہ باز، شیطان کا لشکر، دوزخی، مسخرے باز، طعن وتشنیع کے دلدادہ، خدائی رنگ سے محروم،عزت و عظمت سے دور، اور افواہوں کو حقیقت بتانا ،طنزواستہزاء کرنے والے،ذلیل ترین ،ضدی ،جیسے مضمون اوصاف کوبیان کرکے واضح کر دیا کہ صحابہ کرام وہ مقدس ہستیاں ہیں جوان تمام بری عادات سے بری ہیں اور مخالفین خود اس کے حقدار ہیں ۔

مزید پڑھیں: ‏مجلس علمائے کراچی کے تحت یوم عظمت صحابہ منایا گیا

“صحابہ کرام کا ادب واحترام”

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتےہیں. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! میرے صحابہ کو کو برا نہ کہنا ان پر اعتراض نہ کرنا انہیں گالی گلوچ نہ دینا کیوں کہ کے اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو صحابہ کے ایک کلو اور آدھا کلو کا مقابلہ نہیں کرسکتے یہ ان کے اخلاص کا کمال ہے ۔

حضرت حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے ہے صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا میرے صحابہ کے بارے میں میں اللہ سے ڈرنا جس نے ان سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت کی وجہ سے ان کو محبوب بنایا ۔ جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے ساتھ بعض رکھنے کی وجہ سے ان کو مبغوض رکھا جس نے صحابہ کو گالی،تنقیدکا نشانہ بناکر تکلیف دی اس نے مجھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ کو تکلیف دی پھر ان کی گرفت اللہ ہی کریں گے۔

مذید پڑھیں : تحفظِ ناموسِ صحابہ و اہلِ بیت کی تاریخ ساز ریلی ہفتہ 12 ستمبر کو منعقد ہوگی

حضرت حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں جو کسی کے طریقہ کی اقتداء کرنا چاہتا ہے تو وہ ان کے طریقہ کی اقتداء کرے جو دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں کیوں کہ زندہ شخص فتنوں سے محفوظ نہیں ہو سکتا ۔ تو کون لوگ ہیں جو دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم ان کی اقتداء کریں۔ فرمایا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی جماعت ہے ان کی اقتدا کرو اس لئے کہ صحابہ کرام پانچ خصوصیات کی وجہ سے تمام امتوں سے افضل ہیں ہیں۔

(1) وہ دلوں کے اعتبار سے نیک تھے ہے(2) گہرے علم والے تھے(3)ان میں تکلف ،تصنع،بناوٹ بالکل نہ تھی (4)اللہ نے ان کو اپنے پیارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے لیے پسند کرلیا (5)اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لئے پسند کر لیا تھا اس لیے قیامت تک آنے والے لوگوں کو فرمایا یا کہ(1) صحابہ کرام کی فضیلت کوپہچانو۔(2) ان کے نقش قدم پر چلو (3)ان کے اخلاق و عادات کو ہر حال میں اپنی زندگی میں شامل کرو۔ کیونکہ صحابہ کرام سیدھے سچے راستے پر تھے اس لئے ان کا ادب و احترام کریں ان کی اتباع کریں تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔ (مشکواۃ شریف)

مزید پڑھیں: عظمتِ صحابہ مارچ تاریخ ساز ہو گا : کراچی علماء کمیٹی

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اصحاب محمد کو برا نہ کہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی ایک لمحہ بھر کی رفاقت تمہاری ساری زندگی کے نیک اعمال سے بہتر ہے۔ (سنن ابن ماجہ) حضرت سعید بن زید( جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) فرماتے ہیں اللہ کی قسم کسی صحابی رسول کے ایک غزوہ میں شریک ہونا جس میں صرف اس کے چہرے پر مٹی اڑ کر آئی ہو تمہارے سارے اعمال سے افضل ہے خواہ تمہیں حضرت نوح علیہ السلام کے برابرعمر دے دی گئی ہو۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتا ہے کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تیری تیاری کیا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو جس سے محبت کرے گا قیامت کے دن اس کے ساتھ ہوگا تو حضرت انس فرماتے ہیں ہمیں آپ علیہ السلام کے اس فرمان کی بڑی خوشی ہوئی پھر فرمایا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں اور ابوبکر و عمر سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ اسی وجہ سے قیامت کے دن ان کے ساتھ ہوں گا۔

مزید پڑھیں : صحافیوں کے پلاٹس پر ترقیاتی کام کروانا ترجیح ہے، ناصر خان

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا وقت آئے گا جیسا بنی اسرائیل پر آیا تھا دونوں کی حالت اس طرح ایک جیسی ہو جائے گی جس طرح ایک جوتا دوسرے جوتے جیسا ہوتا ہے ۔بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی تھی میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی ایک فرقے کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے ، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کون سا فرقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر چلنے والا ہو گا (سنن ترمذی ) جو شخص ان کے مقام ومرتبہ کو پہچانے گا ان کا ادب و احترام کرے گا تو وہ خود بھی ادب و احترام کے لائق ہو گا ۔

مزید پڑھیں: تحفظ عظمت صحابہ کانفرنس کی تیاریاں مکمل، آج شاہراہِ قائدین پر ھو گی : مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان

“صحابہ کرام کی بے ادبی کا انجام” جوشخص صحابہ کرام جیسی مقدس شخصیات کی عیب جوئی، حرف گیری، طعن وتشنیع، تنقید و تنقیص کرے گا تو دنیا و آخرت میں عبرت کا نمونہ بنے گا۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ پر ایک عورت جس کا نام اروی بنت اویس تھا نے ناحق زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا تو انہوں نے اس عورت کے بارے میں آنکھوں کی بینائی ختم ہونے اور زمین میں دھنسنے کی دعا کی تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کی بینائی بھی چھین لی اور گہرے کنویں میں گر کر مر گئی (صحیح مسلم ص 33ج 2 ، الاصابہ ص 88ج 3 )

ابو رجاء عطاردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں تم حضرت علی کو برا نہ کہو اور نہ ہی ان کے گھر والوں کو ہمارا ایک پڑوسی کوفہ سے آیا تھا سیدنا حسین کے متعلق کہنے لگا تم تم اس فاسق ابن فاسق کو نہیں دیکھتے جسے اللہ نے ہلاک کر دیا ہے پس اس گستاخی کی وجہ سے اللہ تعالی نے اس کی آنکھ میں دو کیل پھینکے اور اسے اندھا کر دیا۔( فضائل الصحابہ از امام احمد بن حنبل)۔

مذید پڑھیں : کراچی میں 4 منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہو گئی

امام مستغفری ایک بزرگ کا ارشاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے ملک شام میں ایک امام کے پیچھے نماز ادا کی جس نے نماز کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر کی شان میں بے ادبی کرتے ہوئے بددعا کی دوسرے سال جب میں کسی مسجد میں نماز کے لئے آیا تو امام نے نماز کے بعد شیخین کے حق میں دعا کی میں نے نمازیوں سے پوچھا تمہارا پرانا امام کہاں ہے؟ تووہ مجھےاپنے ساتھ ایک مکان میں لے گئے جہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کی شکل کتے جیسی ہو چکی تھی اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے میرے لوگوں نے کہا یہی وہ امام ہے تو اس نے سر ہلا کر جواب دیا ہاں میں ہی وہ شخص ہوں۔ (شواہدالنبوۃ)۔

ابن ابی الدنیا نے اپنے معرکۃ الآرا رسالہ “من عاش بعد الموت” میں کئی ایسے لوگوں کے واقعات نقل کیے ہیں کہ مرتے وقت انہوں نے آگ آگ چلانا شروع کر دیا اور جب ان کو کلمہ پڑھنے کی تلقین کی گئی انہوں نے جواب دیا کہ ہم کلمہ نہیں پڑھ سکتے اس لیے کہ ہم ایسی جماعت سے متاثر تھے جو حضرات شیخین پر سب و شتم کیا کرتے تھے۔ کربلا میں حضرت حسین کو پانی پینے سے روکنے پر موت کے وقت کئ ٹب پانی کے پینے کے باوجود پیاس ختم نہ ہوئی اسی حالت میں دنیا سے چلا گیا ۔

حضرت سعد بن ابی وقاص پر بنی عبس کی مسجد میں ابو سعدہ اسامہ نامی شخص نے بہتان تراشی کی تو حضرت سعد نے اس کے لئے تین بد دعائیں کی(1) لمبی عمر (2)فقروفاقہ (3)فتنوں میں مبتلا ہونا یہ دعائیں اور یہ شخص گھر مارا مارا انتہائی بڑھاپے کی حالت میں لڑکیوں کو چھیڑتا اور بھوک و افلاس میں مبتلا رہا (البدایہ والنہایہ ص 470 ج7 ) یہ چند واقعات ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں ورنہ واقعات تو بہت ہیں جس نے بھی صحابہ کرام کی توہین ،تنقیص،تنقیدکی توان کی شکلیں ذلیل جانوروں کی شکل میں تبدیل کردی گئی۔

مزید پڑھیں : ستارہ علم کیلئے ستارہ امتیاز

اللہ تعالی ہم سب کو صحابہ کرام کی تعلیمات پر عمل کرنے اور ان کی زندگی کو قرآن و حدیث اور صحیح اسلامی تاریخ کی روشنی میں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ان مقدس مسلم شخصیات کی ذرہ سی بھی بے ادبی و گستاخی و توہین تنقید تنقیص سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں

Show More

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close