ستارہ علم کیلئے ستارہ امتیاز

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

استاد گرامی حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کو حکومت پاکستان نے ان کی عظیم علمی، تحقیقی اور تصنیفی خدمات کے اعتراف میں اعلیٰ سول قومی اعزاز ”ستارہ امتیاز“ سے نواز دیا ہے۔ یہ در حقیقت حضرت شیخ الاسلام مد ظلہم کو نوازنا نہیں ہے، بلکہ یہ کہنا حق بجانب ہے کہ اس اعزاز کو در اصل یہ اعزاز ملا ہے کہ اسے حضرت شیخ الاسلام جیسی عظیم علمی و مذہبی شخصیت کے سینے پر سجا دیا جائے۔ جن لوگوں کیلئے آخرت کی کامیابی اور اللہ اور رسول کی رضا و منشا ہی سب کچھ ہو، حقیقت یہ ہے کہ ان کیلئے دنیاوی اعزازات کوئی معنی نہیں رکھتے، تاہم ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ جہاں ہر سال قومی ایام پر مختلف شعبوں میں کار ہائے نمایاں انجام دینے والے افراد کے اعترافِ کمال میں اعزازات دیے جاتے ہیں.

وہاں اس بار ایک معتبر دینی اور مستند علمی شخصیت کو بھی اس اعزاز کا حقدار قرار دے کر تقسیم اعزاز کی اس روایت کو اعتبار اور وقار بخشا گیا ہے۔ بلا شبہ حضرت شیخ الاسلام مد ظلہم کی علمی اور دینی خدمات اس لائق ہیں کہ ان کی قدر افزائی کی جائے۔ ہم اپنے جس ماضی کو درخشاں اور شاندار کہہ کر اس کی یاد میں آہیں بھرتے ہیں وہ شاندار اور درخشاں اسی لیے تھا کہ تب اہل علم کی سرکاری سرپرستی اور قدر افزائی کی جاتی تھی، جبکہ آج کل کی ترجیح کیا ہے، وہ ہر سال سرکاری اعزاز پانے والوں کی لمبی فہرست دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے۔ اکثر بغیر میرٹ کے محض سفارش یا تعلق کی بنیاد پر اعزاز بانٹ کر اعزاز کی تذلیل کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں : شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو ستارہ امیتاز سے نوازا گیا

حضرت شیخ الاسلام مد ظلہم کی ہمہ جہت دینی و علمی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کے جملہ تصنیفی اور تحقیقی کارناموں سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف دو کا ہی ذکر کیا جائے تو یہ ایسے کارنامے ہیں کہ ان کا کوئی جواب نہیں۔ آپ کی سب سے عظیم علمی کاوش اسلامی معاشیات پر تحقیق ہے جس سے پوری دنیا میں اسلامی بینکاری کا تصور فروغ پایا۔ یہ کس قدر اعزاز کی بات ہے کہ ایک پاکستانی عالم دین اور خالص پاکستانی مدارس کا فاضل پوری دنیا میں اسلامی بینکاری اور اسلامی معاشیات پر اتھارٹی مانا جاتا ہے اور پوری دنیا میں اس شعبے میں آپ کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔

میری نظر میں آپ کی دوسری اور سب سے عظیم خدمت قرآن مجید کا جدید اور عام فہم اسلوب زبان میں ترجمہ ہے، جو ”آسان ترجمہ“ کے عنوان سے معاشرے کے ہر طبقے کیلئے قرآن فہمی کا اہم ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ میں حضرت کو ستارہ امتیاز دینے پر ان کے نام کے مجوزین اور حکومت پاکستان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی خالص میرٹ کی بنیاد پر حقیقی اہل علم و فضل کی عزت افزائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *