حضرت مولانا انیس الرحمان درخواستی شہید کی دینی و تبلیغی خدمات

آپ شیخ الحدیث والتفسیر کے نام سے بھی مشہور تھے

تحریر : ابن شہید محمد عثمان انیس درخواستی ۔

اللہ تعالی نے انسانیت کی رشدو ہدایت اور فوزو فلاح کے لئے انبیاء اور رسل بھیجے، سب سے آخر میں حضور اکرم ﷺکو نبوت عطا فرمائی اور اعلان فرمادیا کہ آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں عطا کی جائے گی، آپ ﷺ خاتم الانبیاء کے اعزاز سے نوازے گئے اب قیامت تک آپ ہی کی نبوت کا سکہ رائج رہے گا، اس لئے آپ کی امت کی رہنمائی کے لئے اللہ تعالی نے ہر دور میں ایسی ہمہ گیر شخصیات کو پیدا فرمایا جو اس امت کی ہر میدان میں رہنمائی فرمائیں، آنحضرت ﷺکا ارشاد مبارک ہے،

العلماء ورثۃ الانبیاء ۔
ترجمہ۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں

انہی وارثین انبیاء جامع کمالات شخصیات میں سےایک ایسی شخصیت کوتاریخ شیخ التفسیر محدث جلیل حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی شھیدکےنام سے جانتی ہے۔

“مختصر سوانحی خاکہ”
تاریخ پیدائش : 1963-08-03 بروز جمعرات بستی درخواست میں ہوئی۔
نام :- انیس الرحمان۔
والد کا نام: ولی کامل حضرت مولانا عبدالروف درخواستی رحمۃ اللّٰہ علیہ، جو ایک نہایت متقی شریف النفس، شب بیدار، قرآن و حدیث سے سچی محبت کرنے والے تھے، آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مولانامحمد عبداللہ درخواستی کی سب سے بڑی صاحبزادی اور رابعہ وقت ہونے کے ساتھ “ام العلماء” ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا، اپنے والد محترم سے قرآن مجید مکمل حفظ کیا، حفظ مکمل کرنے کے بعد پہلی مرتبہ جب رمضان المبارک میں نماز تراویح میں قرآن مجید کی تکمیل ہوئی تو آپ کے والد محترم نے خوشی میں لوگوں کی بڑی دعوت کی ، اور جب جامعہ مخزن العلوم خانپور کی جامع شاہی مسجد میں تراویح میں مکمل قرآن سنایا تو آپ کے نانا جان حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی نے خوشی میں پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا، درس نظامی کی ابتدائی تعلیم جامعہ مخزن العلوم خانپور سے حاصل کی اور مختلف علوم وفنون میں مہارت تامہ حاصل کی، زمانہ طالب علمی میں اساتذہ کے ادب و احترام ان کی قدرومنزلت بھی خوب کرتے تھے، اسی وجہ سے ان کے منظور نظر تھے، تعلیم کے دوران آپ کایہ معمول تھا کہ ہر جمعرات کو اسباق سے فراغت کے بعد شام کے وقت قرب وجوارکے گاؤں میں درس قرآن وحدیث دیتے اور عوام الناس کے عقائد واعمال کی اصلاح کرتے۔

مزید پڑھیں : تحفظ ناموس رسالتؐ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے : شائستہ چوہدری

دور حدیث :1982 میں دورہ حدیث کی تعلیم حاصل کرکے سند فراغت اور دستارفضیلت حاصل کی، دورہ تکمیل: 1983 میں علوم اسلامیہ کی قدیم درسگاہ مدرسہ انوریہ طاہر والی میں پیکراخلاص وسادگی مخدوم العلما ء حضرت مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ علیہ سے تکمیل کے اسباق پڑھے۔

معروف اساتذہ حدیث وتفسیر :-
میں (1) شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمۃ اللّٰہ علیہ (2) شیخ الحدیث حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستی رحمۃ اللّٰہ علیہ (3) امام اہلسنت حضرت مولانہ سرفراز خان صفدر رحمۃ اللّٰہ علیہ (4) شیخ الحدیث حضرت مولانا امیر محمد تونسوی صاحب (5) جامع المعقول والمنقول حضرت مولانا واحد بخش رحمۃ اللّٰہ علیہ (6) حضرت مولانا محمد نادر رحمۃ اللّٰہ علیہ (7) شیخ الحدیث مولانا مفتی حبیب الرحمان درخواستی صاحب شامل ہیں ۔

تدریسی و تبلیغی زندگی کی جھلک
تحصیل علم سے فراغت کے بعد امام الاولیاء حضرت مولانا محمد عبداللہ بہلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مدرسہ اشر ف العلوم شجاع آباد ضلع ملتان سے تدریس کا آغاز کیا دو سال وہاں پر اتنے احسن اندازسےتدریس کے فرائض سرانجام دیئے کہ ان دو سالوں میں بڑے مدرسین کی صف میں شمار ہونے لگے، اور امام الصرف والنحو کے نام سے مشہور ہو گئے ،1986 میں دار العلوم اسلامی مشن بہاولپور میں تدریس کے تیسرے سال ہی ابو داؤد شریف طحاوی شریف کے ساتھ مختلف علوم اور فنون کے بہت سے اسباق پڑھاے اور صرف ونحو کے اسباق خصوصی طور پر دیئے گئے ، اور جامع مسجدقدسیہ بہاولپور میں امامت وخطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ۔اس وقت بہاولپور کے لوگ ابھی تک یادکرتے ہیں. پھر دو سال جامعہ مخزن العلوم خانپور میں بھی بڑے بڑے اسباق پڑھاتے رہے، پھر جامعہ انوار القران آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں تقریبا چار سال پڑھایا، یہاں آپ کے اسباق میں سے مشکواۃ، ہدایہ، جلالین، ان تین اسباق میں شمولیت کے لئے علماء، قابل مدرسین بطور خاص شامل ہوتے تھے، اور آپ کے انداز تدریس و انداز تفہیم سے مستفید ہوتے تھے، پھر جامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور میں بطور نائب مہتمم و ناظم تعلیمات بلا لئے گئے، اور یہاں تین سال تک تدریس اور نظامت کے فرائض بحسن خوبی سرانجام دیئے، کہ جامعہ ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں شمار ہونے لگا ۔

مذید پڑھیں : اربابِ اقتدار اور مقتدر حلقوں کے نام کھلا خط

1993 میں حضرت مولانا فدا الرحمان درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کی خواہش اور اصرار اور حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رح کے حکم پر دوبارہ جامعہ انوار القران کراچی میں بطور شیخ الحدیث ، شیخ التفسیر ، صدر المدرسین، دینی خدمات سرانجام دیتے رہے، اللہ تعالی نے انہیں علماء طلباء میں قبول عام عطا فرمایا تھا، تشنگان علوم نبویہ دیوانہ وار اس ابرعلم کے سائے میں آتے اور خوب خوب سیراب ہوتے، و ہ علم عمل کے پیکر اور زہدواتقا ء کا مجسمہ تھے، ان سے اپنے بھی خوش اور پرائے بھی مانوس وہ اپنی سادگی سے ہر ایک کو اپنا گرویدہ اور علم ادب کی جولانی سے اپنا اسیر بنالیتے ، ان کے حلقہ وعظ میں ایک بار شریک ہوکر انہیں بھلایا نہیں جا سکتا ۔

ان کا بیان ہر طبقہ میں یکساں مقبول تھا، پڑھے لکھے اور بے پڑھے، جوان بوڑھے، عورتیں اور مرد اس میں اپنے لئے عجیب کشش اور لذت اور چاشنی محسوس کرتے مسلک حقہ مسلک علماء دیوبند کے حقیقی سفیر اور اپنے نانا جان حضرت درخواستی کے سچے جانشین تھے، تصوف سلوک میں حضرت خواجہ خواجگان ، حضرت مولانا خان محمد رحمت اللہ علیہ، سجادہ نشین کندیاں شریف پنجاب سے بیعت وارادت کا تعلق تھا، ا ن کی مجلس میں حاضر ہوکر ادب وفنایت کا یہ عالم ہوتا کہ گھنٹوں حضرت کی مجلس میں بیٹھتے مگرمجال ہے کہ زبان سے بے وجہ کو ئی بات نکلے، صرف یہ ہی نہیں بلکہ پوری نشست میں دوزانوں اور گردن جھکائے بیٹھے رہنا ان کا معمول تھا، سینکڑوں طلبہ علماء کو ظاہر ی و باطنی علوم سے فیض یاب کیا، اور ساتھ ہی جامع مسجد الہدیٰ بفر زون کراچی میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دینا شروع کئے، ابھی دو چار مہینے ہی گذرے تھے، کے ہر خاص و عام ادنیٰ اور اعلیٰ علماء طلبہ سب کی زبانوں پر ان کا نام آنے لگا، اور آپ کا انداز خطابت اور طریق بیان نرالا اور مجتہدانہ تھا، جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے چند ہی دنوں میں وہ مقبولیت و محبوبیت اور عزت بھی جو برسوں میں بھی مشکل سے نصیب ہوتی ہے، ظاہری وضع قطع اور شکل و صورت سے لے کر آپ کی تدریس و تقریر بیان مضامین اور مطالب کی تشریح و تفسیر ہر چیز میں الگ راہ الگ انداز تھا ۔

آپ کے دورس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا ، ہفتہ میں تین دن اپنی مسجد الہدیٰ اور باقی تین دن مختلف علاقوں کی مساجد میں دروس دیتے، اور ہر جمعرات بعد نماز ظھر خواتین کو بیان فرماتے اور ہر جمعہ بعد نماز عصر اپنی مسجد میں درس حدیث ارشاد فرماتے، ان کے ہر درس میں عوام الناس کی بھرپورحاضری ہوتی، جب کہ محلہ کے مختلف گھروں میں اور دینی مدارس وجامعات کے پروگراموں میں باقائدگی سے شرکت کرتے تھے، آپ کے کارہائے نمایاں میں سے یہ بھی ایک کارنامہ ہے جو کراچی میں عموما اور جامع مسجد الہدیٰ بفرزون سیکٹر 15-A۔4 کراچی میں خصوصا یادگار رہے گا، ابھی تک لوگ اس وقت کو یاد کرکے آنسوں بہاتے نظر آتے ہیں، وہ ہے ” اصلاح اعمال کا انقلاب” جو یکا یک مولانا شہید کی دعوت سے پیدا ہوگیا، نوجوانوں کی پیشانیاں دربار الہیٰ میں جھکنے لگیں، برزرگوں کی بزرگی میں ذکر اللہ ، تلاوت کلام اللہ کا ذوق داخل ہوگیا، ان کے چہرے سنت نبوی سے مزین ہونے لگے،عورتوں کے سروں پر حیا کی چادریں آنے لگیں، برقعہ کے ساتھ دستانے بھی استعمال ہونے لگے، مردوں عورتوں کے عقائد کی اصلاح ہوتی گئی، اور ہر خاص وعام کے دل میں بات اتر گئی کہ ہماری دینی دنیاوی ، کامیابی و سرفرازی کی صرف وہی راہ ہوسکتی ہے، جو قرآن اور حدیث کی رہنمائی سے معمور ہو ،

مذید پڑھیں : ” صحابہ کرام کا ادب و احترام “

انہوں نے زندگی کی ہر بات میں قرآن آور سنت کی تعلیم دنیا کے آگے پیش کردی، اور قوم کو ہر طرف سے ہٹا کر سچی راہ پر لگا دیا، اس سلسلے میں انہوں نے کامیاب حکمت عملی اختیار کی، جس کی وجہ سے نوجوان طبقہ ان کا گرویدہ تھا، بوڑھے عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرتے تھے، بچے ان کی شفقت سے مانوس تھے، علماء طلبہء ان کی تدریس کے عاشق اور مدرسہ کے ارباب حل وعقد ان کی قابلیت کے مداح تھے ۔

آپ کو خواب میں کئی مرتبہ حضور اکرم ﷺ کی زیارت کی سعادت بھی نصیب ہوئی، اور آ پ نے مصافحہ بھی کیا تھا جس کی وجہ سے آپ کے ہاتھوں سے اور چہرے سے نورانیت محسوس ہوتی تھی، جسے جامعہ خیرالمدارس ملتان کے مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی عبدالستار نے پہچان کر آپ کے احترام میں کھڑے ہوگئے تھے، اور ہاتھوں کو بوسہ بھی دیتے رہے، اس وجہ سے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کو بیان کرتے تو ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے سامنے چہرہ نبوی کو دیکھ دیکھ کر بیان کررہے ہیں۔

آپ دومرتبہ حج بیت اللہ اور کئی مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل کر چکے تھے، آپ ہر دینی کام کرنے والے سے محبت فرماتے اور ہر دینی کام میں حصہ لیتے تھے، ختم نبوت، عظمت صحابہ، نفاذ اسلام ، دفاع اسلام، دینی مدارس و مساجد کے اجراء وتعمیر و غیرہ پر دینی خدمات سے سرفراز ہوئے یعنی اس کم عمری میں زہد وتقوی ، اخلاص، اخلاق، وتواضع ، علم و عمل، اور حق کی جدوجہدغرضیکہ کے ہر شعبہ میں یہ شخصیت اعزاز کا تمغہ حاصل کر چکی تھی، آپ کو حافظ ، قاری ، محقق ، محدث، مفسر، مفتی، علوم عقلیہ ونقلیہ کے بہترین مدرس ، پیر طریقت ، خطیب، واعظ پر تاثیر ، امام، مہاجر، مجاہد، حاجی، نمازی، غازی، اور شھید سب کچھ کہا جا سکتا ہے، اور عاشق الحرمین ، ایسے کے مدینۃ الرسول میں باوجود تیز دھوپ کے ننگے پاؤں چلتے تھے ، پاؤں میں چھالے پڑ جاتے تھے، لیکن حدود حرم میں جوتے نہیں پہنتے تھے، اور ایک عجیب جذب کی کیفیت طاری رہتی تھی ۔

* برادارن *
(1) شیخ الحدیث التفسیر عارف بااللہ حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستی رحمت اللہ علیہ
(2) شیخ الحدیث التفسیر حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمان درخواستی
(3) پیر طریقت خطیب اسلام حضرت مولانا پیر سیف الرحمان درخواستی رحمت اللہ علیہ ۔

اولاد:
آپ کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔
(1) مولانا قاری محمد ابوبکر درخواستی صاحب مہتمم مدرسہ ابوہریرہ راجنپور پنجاب
(2) مولانا محمد عمر درخواستی صاحب مدرس جامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور، امام و خطیب جامع بلال مسجد خانپور، خلیفہ مجاز محبوب العلما والصلحا حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب
(3) راقم الحروف محمد عثمان انیس درخواستی بھی عالم اور حافظ ہے
(4) حافظ قاری محمد علی درخواستی
(5) حافظ قاری محمد معاویہ درخواستی
اور تین بیٹیاں ہیں جو الحمد اللہ دینی علوم کی تدریس میں مصروف ہیں،
آپ کی اہلیہ محترمہ بھی حیات ہیں، جنہوں نے اپنی اولاد کو دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا ان کی تعلیم و تعلم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،

مزید پڑھیں : مہمند میں سنگ مرمرکی کان بیٹھ گئی، 17 کان کن جاں بحق

آپ الحمد اللہ ایک عابدہ، زاہدہ، مجاہدہ ، صابرہ خاتون ہیں، دعا ہے کہ اللہ تعالی میری والدہ محترمہ کو صحت و عافیت اور سلامتی والی زندگی نصیب کریں۔

تصانیف :
(1)کلمہ حق
(2)الاربعین للدرخواستی یعنی چہل احادیث ۔
(3)فضائل شب قدر

افادات:
(1)موعظ درخواستی شہید رح
(2)تنقیح البیان فی تفسیر القرآن
(3)دروس سورہ فاتحہ
(4)دروس ترمذی
(5)مخزن الصرف شرح ارشاد الصرف
(6) خلاصۃ القرآن
(7)مقدمۃ القرآن
(8)مقدمۃ الحدیث
(9)تقریرمشکوۃ

مذید پڑھیں : تحفظِ ناموسِ صحابہ و اہلِ بیت کی تاریخ ساز ریلی ہفتہ 12 ستمبر کو منعقد ہوگی

*شہادت *
اللہ تعالی نے آپ کو غالبا شہادت سے پہلے آگاہ فرما دیا تھا، چند دن پہلے ایک خواب دیکھا جس کے بعد بڑے مستعد اور مسرور رہنے لگے، خوشی سے چہر کھلا ہوا تھا، گھر میں بچوں کو کہا ایک بہترین پاکیزہ خواب دیکھا ہے دعا کرو پورا ہوجائے، شہادت سےچند دن پہلے حدیث کا سبق پڑھا تےہوےطلباء کو دین پور شریف کے قبرستان اور اکابر علما ء کے حالت وواقعات اور شہادت کی موت پر والہانہ انداز میں تبصرہ کیا پھر طلباء حدیث کو دعا کرنے کا کہا کہ اللہ تعالی مجھے بھی شہادت کی موت نصیب کرے اور دینپور شریف کے قبرستان میں دفن ہونا نصیب کرے طلباء حدیث نے آمین کہا اور دعا قبول ہوگئی۔ بوقت شہادت راقم الحروف بھی ساتھ تھا، جیسے ہی گردن میں پہلی گولی لگی تو خوشی سے چہرہ کھل اٹھا ، دوسری گولی بائیں آنکھ کر قریب لگی، اور تیسری گولی پیٹ میں لگی نیچے گرتے ہی دائیں کروٹ پر لیٹ کر رب تعالی کی دیدار میں محو ہوکر اللہ اللہ کی ضربیں شروع کر دیں، تاآخر رتبہ شہادت سے سربراہ ہوکر خالق حقیقی سے جا ملے، آج بھی وہ منظر میری نگاہوں کے سامنے ہیں، جب بھی یہ وقت یاد آتا ہے تو بے ساختہ آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں، اب بھی بوقت تحریر آنسوں جاری ہیں، اور دل سے دعا ہے اللہ مجھے بھی اپنے والد محترم شہید رحمت اللہ علیہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اور شہادت کی موت نصیب کرے. آپ کی شہادت بروز جمعہ 17 جمادی الاول1418 ھجری بمطابق 19 ستمبر 1997 کو کراچی میں ہوئی۔

آپ کی نمازجنازہ خان پور کے وسیع وعریض نارمل اسکول کے گراؤنڈ میں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی رح کی امامت میں اداکی گئی جس ملک بھرسے اکابرین عظام دینی جماعتوں کے قائدین اور لاکھوں لوگوں نے شرکت کی تھی ۔تدفین دین پور شریف کے خاص احاطہ میں کی گئی. تعزیت کے موقع پر شاعر اسلام عبد الخالق مستانہ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک نظم پیش کی تھی جس کے چند اشعار ملاحظہ کریں ۔

عشق احمدسے مزین صاحب کردار تھا-حضرت درخواستی کو جس سے بے حد پیار تھا
بچھڑا وہ ہم سے اچانک امرربی مان کر – راہ حق پہ جان دی رتبہ شہادت جان کر
نانا کا پہلو میں سویا سونی چادر تان کر – یا خدا اس شخص کو جنت کا تو مہمان کر
دم شہادت جس کے لب پے ذکراذکار تھا- حضرت درخواستی کو جس سےبی حد پیار تھا۔
درجوانی توبہ کردن شعر کی تفسیر شخص- حضرت درخواستی کی ہو بہو تصویر شخص
اتنی کم عمری میں اتنا علم اللہ کا کرم – بحر قلزم کی طرح سینہ منور دم بدم
تیرے بغیر حضرت انیس سونا پڑا ہے سارا گھر- مدرسہ انوار القران کے روتے ہیں دیوار و در

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close