کراچی کے اعلیٰ سائنس کالج میں نااہل اور متنازع پرنسپل تعینات

کراچی: شہر قائد کے ”ٹاپ“ سرکاری سائنس کالج "آدم جی سائنس کالج” میں سفارش اور سیاسی اثرروخ کی بنیاد پر پرنسپل کی تعیناتی کردی گئی ہے جس سے نامور اور مقبولِ عام اور ساٸنس کی تعلیم و تدریس کے حوالے سے نمبر ون تصور کئے جانے والے اس کالج کے معیار اور ساکھ کو شدید نقصان و خطرات لاحق ہوگئے ہیں-

تفصیلات کے مطابق ساٸنس کے ذہین ترین اور میٹرک کے امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طلبا ٕ کی انٹر میڈیٹ میں داخلے کے لیے پہلی پسند آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج ہی ہوتا ہے-

اس کالج میں اب پروفیسر مشتاق مہر کو پرنسپل تعینات کردیا گیا ہے جن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں خلافِ ضابطہ سندھ پبلک سروس کا امتحان پاس کئے بغیر گورنمنٹ سٹی کالج (شام) میں سندھی کے لیکچرار مقرر کئے گئے تھے-

اپنی ملازمت کے 32 سالوں کے دوران سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہوں نے ایک طالب علم کو بھی نہیں پڑھایا اور ایک روز بھی کلاس روم میں داخل ہوئے بغیر گریڈ 20 میں پہنچ کر آدم جی کالج کے پرنسپل مقرر ہوگئے-

پروفیسر مشتاق مہر پر ماضی میں گورنمنٹ سٹی کالج (شام) میں بحیثیت پرنسپل تعیناتی کے دوران بدعنوانی کے متعدد الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے متعلقہ محکمے کی اجازت کے بغیر سٹی کالج کی عمارت کو ٹیکنیکل بورڈ سمیت متعدد امتحان منعقد کروانے والے اداروں کے حوالے کرکے امتحانات منعقد کرواکے خطیر رقم حاصل کی-

بتایا جاتا ہے کہ پروفیسر مشتاق مہر کی جانب سے بحیثیت پرنسپل سٹی کالج کی گئی مالی بے قاعدگیوں کی وجہ سے کوئی بھی پروفیسر اس کالج میں پرنسپل تعینات ہونے کیلئے تیار نہیں ہے-

یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں ہمیشہ آدم جی ساٸنس کالج کے پرنسپلز سائنس کے سینئیر اور اعلٰی تعلیم یافتہ پروفیسر ہی پرنسپل تعینات ہوتے رہے ہیں-

گزشتہ دس سالوں میں سائنس میں پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل پروفیسر ڈاکٹر رفیق صدیقی، پروفیسر ڈاکٹر ناصر انصار اور پروفیسر ڈاکٹر معظم حیدر آدم جی سائنس کالج کے پرنسپل تعینات رہے ہیں-

یاد رہے کہ مذکورہ تینوں پروفیسرز بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ کے منصب پر بھی فاٸز ہوئے-

کراچی میں ساٸنس کے مضامین کے متعدد سینئیر پروفیسرز کی موجودگی میں پروفیسر مشتاق مہر کی آدم جی کالج کے پرنسپل تقرری سے ساٸنس کے سینئیر اساتذہ اور تعلیمی حلقوں میں شدید بددلی اور مایوسی پھیل گئی ہے-

نامور اور مقبول ترین سائنس کالج میں ایسے شخص کو تعینات کیا گیا جو سائنس کا پروفیسر نہ ہونے کے ساتھ کالج میں پڑھانے کا ایک دن کا بھی تجربہ نہ رکھتا ہو، مزید براں اس پر بدعنوانی اور اختیارات کے ناجاٸز استعمال کے ناقابلِ‌تردید الزامات بھی ہیں-

ایسے شخص کو آدم جی ساٸنس کالج جیسے تعلیمی ادارے کا سربراہ مقرر کرنا حکومتِ سندھ اور محکمہ تعلیم کالجز کی بد ترین کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے-

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *