سینڈک پروجیکٹ کے ملازمین زبردستی قرنطینہ میں ڈال دیے گئے

کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایل او) کے مرکزی ترجمان نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سات مہینوں سے سینڈک ایس ایم ایل اور ایم آر ڈی ایل کی جانب سے سینڈک پروجیکٹ کے ملازمین کو زبردستی کورونا کے نام پر قرنطینہ کیا گیا جارہا ہے-

انھوں نے بتایا کہ ملازمین کو لیبر قوانین کے برخلاف کام لیا جارہا ہے اور ملازمین کی چھٹیوں پر آمرانہ طور پابندیاں لگائی گئی ہیں جس سے کئی سو ملازمین نفسیاتی طور مشکلات کا شکار ہیں اس عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے-

ترجمان کا کہنا تھا کہ بی ایس او بحثیت قوم دوست تنظیم کے سینڈک پروجیکٹ کے محکوم و محصور ملازمین کے ساتھ ہے اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی-

انھوں نے کہا کہ سینڈک پروجیکٹ میں کورونا کے نام پر شب و روز مائننگ کرکے ملازمین سے کام لیا جارہا ہے اور چھٹیوں کے نام پر ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور چھٹیوں کے لیے درخواست دینے پر تنخواہ میں کٹوتی کی جارہی ہے جو ملازم دشمن عمل ہے-

ترجمان بی ایل او کا کہنا تھا کہ کورونا کے نام پر ہٹس اور دیگر کاموں کے نام پر کرپشن کمیشن خوری کے لیے یہ سارا کورونا کا ڈرامہ ایس ایم ایل کے ایم ڈی اور ایم آر ڈی ایل کے پریذیڈنٹ اور سینڈک کے ایم آر ڈی ایل کے وائس پریذیڈنٹ رچا رہے ہیں جو ناقابل برداشت اعمال ہیں-

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کورونا کے نام پر سینڈبک کے محصور کیے گئے ملازمین کے ساتھ ہے اور ہر فورم پر ان کے بنیادی آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کرے گی اور ان کے حقوق کے لیے سیاسی و جمہوری انداز میں جدوجہد کرے گی-

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *