اسرائیل کو تسلیم کریں یا نہیں؟

بحیژیت قوم ہمارا قومی موقف کیا ہونا چاہیے

تحریر: محمدعامر خاکوانی

سوال بڑا سادہ ہے، اس کے دو متعین جواب ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو بھی متحدہ عرب امارات کی طرح اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے یا ہمیں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرے حصے کا ایک ترمیمی جواب بھی ہوسکتا ہے ،یعنی اسرائیل کو فی الحال تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔ہماری عرض صرف یہ ہے کہ آپ کا جو بھی نقطہ نظر ہو، دلیل کے ساتھ اسے بیان کریں اور اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی کوشش کریں۔

اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مقدمہ تین چار بڑے دلائل پراستوار کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑی دلیل جو بعض ٹھیٹھ روایتی مذہبی موقف رکھنے والے دیتے ہیں، قرآن کریم کا وہ حکم جس میں مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ سمجھنے کا کہا گیا ، اسے بنیاد بنا کر یہ بات کہی جاتی ہے۔ قرآن میں جو بھی کہا گیا، وہ ظاہر ہے حرف حرف درست ہے۔یہ بات البتہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب اس کے ساتھ دوستی یا محبت کا رشتہ قائم ہونا نہیں ۔ قرآنی حکم صرف یہودیوں کے لئے نہیں ، نصاریٰ کا بھی ذکر ہے ، لیکن ہمارے بے شمار مغربی مسیحی ممالک سے سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں۔ اسلامی ریاست کے دوسری ریاستوں کے ساتھ ایسے معمول کے تعلقات اسلام کے ابتدائی دور سے چلے آر ہے ہیں۔کسی ملک کو تسلیم کرنے یا سفارتی تعلقات قائم کرنے کا مقصد اسے دوست یا محب سمجھنا نہیں ہوتا۔

قائداعظم نے فلسطینیوں کے حق میں کھل کر بات کی تھی۔ قائداعظم کا یہ اصولی موقف ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔ان کے فرمودات کا ایک خاص گہرا نفسیاتی اثر اور اس کی بے حد توقیر ہے۔ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ قائدمحترم نے پچھتر ، اسی برس پہلے یہ بات کہی تھی ، زمانہ بہت آگے چلا گیا، سیاسی حالات تبدیل ہوجاتے ہیں، ممالک کو بھی کبھی اپنا موقف وقت کے ساتھ بدلنا پڑتا ہے۔نظری طور پریہ بات مانی جا سکتی ہے، تاہم ہمیں قائداعظم کی بالغ نظری اور دوراندیشی کو داد دینا پڑتی ہے کہ انہوں نے مسئلہ فلسطین کی سنگینی کابہت پہلے اندازہ لگا لیا تھا اور ایک ایسا اصولی، مضبوط موقف اپنایا جو پون صدی گزرنے کے باوجود آج بھی مستحکم ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی سازش کامیاب، UAE اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے

اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی سب سے بڑی اور مضبوط وجہ اس کا ظالم اور غاصب ہونا ہے۔ فلسطینیوں کے ساتھ صریحاً ظلم ہوا۔ جس جگہ وہ رہتے تھے، وہاں سے فوجی قوت کے ذریعے انہیں نکال باہر کیا گیا اور وہاں دنیا بھر سے یہودی وہاں آباد کئے گئے۔جدید دور میں اس کی اور مثال نہیں ملتی۔ دلائل انتہائی بوگس اوربین الاقوامی قوانین سے بے خبر ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماضی میں کبھی یہودی یہاں رہتے تھے، وہ نکالے گئے تھے ، اب ان کے پاس طاقت آگئی ہے تو واپس آگئے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہ کہنا کہ ہر مذہب اور طاقت دنیا پر برتری چاہتا ہے، مسلمان بھی ایسا کرتے تھے ، عیسائی کرتے رہے اور اب یہودیوں کے پاس قوت ہے تو وہ بھی ایسا کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جو لوگ یہ دونوں دلیلوں کے حوالے دیتے ہیں ، انہیں مشورہ ہے کہ جدید اصول قانون اور بین الاقوامی معاہدوں، قوانین کا مطالعہ کریں۔ ماضی میں کون کہاں غالب تھا ، آج یہ کوئی حوالہ یا دلیل نہیں بن سکتی۔انٹرنیشنل لا کے تحت قبضہ کرنے والے مقبوضہ اراضی کے مالک نہیں بن سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے بے پناہ اثرورسوخ کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے فورمز میں اسرائیل کی کبھی پزیرائی نہیں ہوسکی۔اسرائیلی دلائل کو خود مغربی دنیا نے مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیل کے حوالے سے زیادہ خطرناک بات اس کا توسیع پسندانہ ایجنڈا ہے، جسے کبھی چھپانے کی بھی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کی سرحدیں متعین نہیں اور اسرائیل اپنے لئے کسی بھی قسم کی حدود طے نہیں کرنا چاہتا۔ وہ فلسطینیوں کو کچھ بھی سپیس دینے کو تیار نہیں۔ اسرائیل نے فلسطین کے علاقوں پر 1948ءمیں قبضہ کیا گیا تھا،بعد کی دونوں جنگوںمیں اسرائیل نے جو علاقے غزہ، غرب اردن، بیت المقدس ،گولان کی پہاڑیاں وغیرہ عرب ممالک (مصر، اردن، شام)سے چھینے، انہیں بھی وہ اپنا حصہ بنا چکا ہے اور اس پر بھی قانع نہیں۔ان مقبوضہ علاقوں میں نئی یہودی بستیاں بسانے کا عمل ختم نہیں ہوا، صرف التوا میں ڈالا گیا ہے۔ دو ریاستی حل فلسطینیوں پر ظلم ہے۔ کسی کے گھر پر قبضہ کر کے آدھاحصہ قابض رکھ لے، باقی آدھااصل مالک مکان پر احسان کرتے ہوئے واپس کر دے تو اسے کون انصاف مانے گا؟ افسوس کہ اسرائیل اس کے لئے بھی تیار نہیں۔

پاکستان کے لئے یہ دوہرا معاملہ ہے، ایک طرف فلسطینیوں کی مظلومیت اور دوسری طرف کشمیر کے المیہ کے ساتھ مماثلت۔ جس طرح اسرائیل نے فلسطین پر فوجی قوت سے قبضہ جما رکھا ہے، بالکل یہی کام بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کر رکھا ہے۔ پاکستان دنیا بھرکی اقوام سے یہ اپیل کرتا رہتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے المیہ کو سمجھیںاور انہیں سپورٹ کریں، صرف اپنے تجارتی، اقتصادی مفادات کی خاطر بھارت کے ظلم پر خاموشی اختیار نہ کریں۔ پاکستان ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر خالصتاً انسانی، اخلاقی بنیادوں پر اٹھاتا ہے۔ اب ہم اگر خود فلسطین کے معاملے پر اس کے برعکس کریں تب دنیا کو کیا کہہ سکیں گے؟ اپنے” ممکنہ“ مالی مفادات کی خاطر فلسطینیوں کے المیہ کو نظرانداز کر کے اسرائیل کو مان لیں تو یہ اپنے کشمیر کے موقف کو تباہ کرنے کے مترادف ہوگا۔

مزید پڑھیں: بھارت و اسرائیل کے لڑاکا طیارے تباہ کرنے والے واحد پائلٹ انتقال کرگئے

مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، اومان، سوڈان ، بحرین یا کویت وغیرہ کو کسی مسئلہ کشمیر کا سامنا نہیں۔ انہیں بھارت جیسے کسی طاقتور، خطرناک اور توسیع پسند ملک کے پڑوسی ہونے کا مسئلہ بھی نہیں۔ ان کے اپنے معروضی حالات اور مسائل ہیں۔ وہ سب مغرب ، خاص کر امریکہ کے بہت زیادہ زیراثرآ چکے ہیں۔ ایک اور اہم فیکٹر یہ کہ جن عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا یا وہ کرنے جار ہے ہیں، وہاں کوئی فوجی آمر مسلط ہے یا پھر کئی عشروں سے چلی آنے والی شہنشاہت ہے۔ وہاں کے سربراہوں کو اپنے اقتدار کی مضبوطی اور طوالت کے لئے امریکی سپورٹ درکار ہے۔ ماضی میں کسی نہ کسی بہانے وہ ایسا کرتے رہے ہیں۔ کسی نے امریکہ کوفوجی اڈے دئیے تو کسی نے نہایت مختصر فوج ہونے کے باوجود کئی سو ارب ڈالر کا اسلحہ خریداتاکہ امریکی حکومتیں اور وہاں کی طاقتور اسلحہ ساز لابی(ڈیفنس ملٹری کمپلیکس) ان سے خوش رہے ۔

ان تمام عرب ممالک کی ایران سے شدید مخاصمت ہے۔ ایران اور اس کے زیراثر ممالک (عراق، شام، حزب اللہ کی صورت میں لبنان، یمن میں حوثی)کااچھا بھلا بلاک بن چکا ہے۔ جو سنی عرب ممالک اسرائیل کے قریب ہوئے ہیں، انہیںاپنے مخصوص مائنڈ سیٹ اور عرب عجم کے روایتی تصادم کے پیش نظر ایران اپنا اصل دشمن اور اسرائیل سے زیادہ بڑا خطرہ لگ رہا ہے۔ممکنہ طو رپر اسرائیل کے ساتھ ان کی قربت آگے جا کر اینٹی ایران بلاک میں تبدیل ہوجائے گی۔ پاکستان کے ساتھ یہ مسئلہ نہیں۔ ایران پاکستان کا ایسا پڑوسی ہے، جس کے ساتھ ہم ہمیشہ خوشگوار تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ عرب، ایران تصادم میں پاکستان ہمیشہ غیر جانبدار رہا ہے۔ہم ایران مخالفت میں عرب اسرائیل اتحاد کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟

مزید پڑھیں: قومی دن کے موقع پر اسرائیل کا دبئی میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

ہمارے ہاں ایک رائے ہے کہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کی وجہ سے پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ براہ راست تعلقات قائم کرنے چاہئیں تاکہ بھارتی ایڈوانٹیج نیوٹرلائز ہوسکے۔ یہ اہم نکتہ ہے، مگر ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ پاکستان چاہے یا نہ چاہے وہ ایک بڑے اسلامی ملک، مضبوط فوج ، دورمار میزائل صلاحیت اور واحد مسلم نیوکلیئر قوت ہونے کے ناتے اسرائیل کے لئے ہمیشہ ایک امکانی خطرہ(Potential Threat)رہے گا۔ پاکستان اور اسرائیل کبھی فطری اتحادی نہیں بن سکتے،بھارت کے ساتھ اسرائیل کا فطری اتحاد بنتا ہے۔دوسرا بھارت اپنی بڑی تجارتی منڈی اور زیادہ سامان (اسلحہ، پرزے وغیرہ)خریدنے کی استعداد کے پیش نظر پاکستان پر سبقت رکھتا ہے۔ ہم کبھی بھارت جتنا دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے ، اس لئے اسرائیل کو اپنی سائیڈ پر کرنا یا بھارت کی طرف جانے سے بازر کھنا ممکن نہیں۔

یہ درست کہ اقتصادی، تجارتی مفادات کے پیش نظر ممالک اپنی پالیسیاں بناتے ہیں،کبھی انہیں کسی خاص پہلو سے آنکھ بند بھی کرناپڑتی ہے۔ ایسے بعض کمپرومائز پاکستان نے بھی کئے ہیں،ہم اپنے بعض دوست ممالک کے اندرونی معاملات پر کمنٹ کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ اس سب کے باوجود موجودہ صورتحال میں اسرائیل کو تسلیم کرنا نامناسب، ناجائز اور نہایت عاجلانہ اقدام ہوگا۔ اس عجلت سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنے معروضی حالات کے ساتھ اخلاقی ، انسانی اور سب سے بڑھ کر اسلامی بنیاد پر فلسطینیوں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے کئی اطراف سے خطرات درپیش ہیں۔ہمیں کسی نہ کسی موڑ پر جارحیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہم مظلوم طبقات میں سے ہیں، ظالم ہونا یا ظالموں کا ساتھی بنناافورڈ بھی نہیں کر سکتے۔ خالصتاًاقتصادی مفادات کے لئے بے رحم ، سفاک رویہ اپنانا پاکستانی سٹائل نہیں۔عربوں کے اپنے مسائل، اپنے تحفظات ہیں، انہیں اپنے فیصلے کرنے دیں۔ہم اپنے معروضی حالات، اپنے علاقائی اتحادیوںاور اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق موقف اپنائیں۔ابھی تک کچھ ایسا نہیں ہوا کہ ہمیں اپنے اصولی موقف میں یوٹرن لینا پڑے۔ ہمیں چاہیے کہ فلسطینیوں کو سپورٹ کریں۔اسرائیل کو فلسطینیوں کے لئے گنجائش نکالناپڑے گی۔ایسا ہو جائے تو دیگر مسلم ممالک اور فلسطینی تنظیموں کے بعد یا ان کے ساتھ ہم بھی اسے تسلیم کر سکتے ہیں۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close