برطانوی جاسوس لارنس آف عریبیہ کی رہائش گاہ کو سیاحتی مقام بنایا جائے گا : رپورٹ

لارنس آف عریبیہ 1916 میں عربی زبان و ثقافت سے واقفیت کے باعث عرب سرداروں اور قبائلی زعما کو عثمانیوں کے خلاف نسلی اور لسانی بنیاد پر صف آرا کرتا رہا

رپورٹ : علی ہلال

سعودی عرب کی وزارت سیاحت نے ساحلی شہر ینبع میں مشہور برطانوی جاسوس لارن آف عریبیہ کے زیر رہائش مکان کی ترمیم اور آرائش کے منصوبے کا اعلان کردیا ہے ۔ برطانوی انٹیلی جنس آفیسر لارنس آف عریبیہ بحر احمر کے کنارے واقع سعودی عرب کے شہر ینبع میں واقع ایک مکان میں کچھ عرصہ مقیم رہا ۔

سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت گریٹرعرب وائلیشن کی چنگاریاں بڑھکانے والے اس جاسوس کے مکان کو سعودی حکومت نے اپنی ان اہم تاریخی اورسیاحتی یادگاروں کی فہرست میں شامل کردیا ہے جن کی ترمیم اورتزئین وآرائش کی ریاض حکومت منظوری دے چکی ہے ۔

لارینس آف عریبیہ 1916 میں اس مکان میں اس وقت رہائش پذیر رہا ہے جب وہ عربی زبان وثقافت سے گہری واقفیت حاصل کرکے عربوں سرداروں اورقبائلی زعما کو عثمانیوں کے خلاف نسلی اورلسانی بنیاد پر صف آرا کرنے کی برطانوی جاسوسی مشن کی سربراہی کرر تھا ۔

مزید پڑھیں: سعودیہ میں بوگس چیک دینے کی سزا کیا ہے ؟

عرب میڈیا کا دعویٰ ہے کہ لارنس آف عریبیہ کے گھر میں اس کے بعد کوئی شخص بسیرا نہ کرسکا ۔ لارنس کے جاتے ہی گھر پرآسیب اور جنات نے تسلط جمالیا۔ خوفناک جنات اور شریر ارواح نے اس مکان میں کسی کو رہنے نہ دیا جس مکان کی درو دیوار نے لارنس کی خفیہ سرگرمیوں کا عینی مشاہدہ کیا تھا۔ اوریوں 1916 سے اب تک یہ مکان خالی پڑا رہا جس کے باعث بحر احمر کی نمکین ہوائوں اور گردش لیل ونہار کے تھپیڑوں کا سامنا کرتے کرتے کھنڈر میں بدل گیا ۔

سعودی حکومت کے اس منصوبے کے اعلان پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں ۔جہاں بہت سے افراد نے اسے قابل تحسین قرار دیا ہے وہیں مخالفت کرنے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے ۔

سعودی حکومت کے فیصلے پرحیرت کا اظہار کرتے ہوئے عرب میڈیا سے وابستہ بعض قابل اعتماد ماہرین کا کہنا ہے کہ لارنس آف عریبیہ جدید سعودی عرب کے بانی اور خلافت عثمانیہ کے دور میں ابھرتے ہوئے سعودی حکمران شاہ عبدالعزیز کا مخالف اور ان کے سب سے بڑے حریف کنگ حسین کا حامی تھا۔ لارنس کی برطانوی سیکرٹریٹ کو بھیجی گئی بیشتر رپورٹوں میں شاہ عبدالعزیز پرتنقید کی گئی ہے۔ لارنس نے انہیں انتہا پسند وہابی قرار دیتے ہوئے برطانوی حکومت کو ان سے معاملات نہ کرنے کی تجاویز دی ہیں ۔

دوسری جانب برطانوی میڈیا نے سعودی حکومت کے اس پروجیکٹ کی تحسین کی ہے اور اسے ترکی کے منہ پر طمانچہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے سیاسی حریف ترکی کو زچ کرنے کے لئے لارنس آف عریبیہ کے مکان کو سیاحتی مزار بنا رہا ہے ۔

خیال رہے کہ لارنس آف عریبیہ کو برطانوی میڈیا غیرمعمولی کرشماتی شخصیت کے طورپر نمایاں کرچکا ہے اوربہت سے لوگ اس شخص کو ایک بہت غیرمعمولی شخصیت قراردے رہے ہیں مگر اس کے برعکس عرب اکیڈمک کی ایک بڑی ٹیم کا کہنا ہے کہ برطانوی میڈیا اس شخص کی شخصیت کو سحرانگیز ثابت کرنے کے لئے غیرضروری مبالغہ آمیز ی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق لارنس ایک عام انٹیلی جنس افسر تھا جو یہودیوں اوربرطانوی استعمار کے دوھرے ایجنٹ کے طورپر کام کررہا تھا جس نے برطانوی مفادات کے لئے عربوں اورترکوں کے درمیان لسانی اورنسلی عداوت کو بڑھکا دیا تھا ۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close