پنجاب میں عربی مضمون پڑھانے کیخلاف شریعت کورٹ کا فیصلہ کالعدم

پنجاب میں عربی مضمون پڑھانے کیخلاف شریعت کورٹ کا فیصلہ کالعدم

سپریم کورٹ میں پنجاب میں عربی مضمون پڑھانے کے خلاف شریعت کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پنجاب مں عربی مضمون لازمی پڑھانے کے شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت کی گئی تھی ۔

پنجاب حکومت کے وکیل قاسم چوہان نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ شریعت کورٹ کو فیصلے کا اختیار نہیں تھا۔ معاملات اور عبادات میں فرق ہے اور عبادات کا نفاذ ہو سکتا ہے لیکن معاملات کا نفاذ سختی سے نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد صوبائی حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسکولوں میں عربی مضمون لازمی پڑھانے کے خلاف شریعت کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے ۔
واضح رہے کہ پنجاب میں سرکاری و نجی اسکولوں میں عربی زبان کو پرھانے و سیکھانے کے لئے ایک مضمون لازمی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس پر باقاعدہ شریعت کورٹ کی جانب سے فیصلہ دیا گیا تھا جس کے بعد شریعت کورٹ کے فیصلے کو پنجاب حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا جس پر اب فیصلہ آیا ہے ۔
اس حوالے سے علمائے کرام کا موقف ہے اگر اسکولوں میں انگریزی زبان لازمی تھی تو عربی کا لازمی قرار دیا جانا درست تھا کیوں کہ جس طرح ہماری زبان اردو ہے اور انگریز ی لازمی ہے اسی طرح اردو کے ساتھ عربی بھی لازمی قرار دی جاتی تاکہ ہماری آنے والی نسل عرب دنیا سے روشناس ہو سکتی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *