معروف آرٹسٹ و سماجی کارکن شاہینہ شاہین قتل

گوادر: شاہینہ شاہین کو تربت شہر کے ایک کوارٹر میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ہے، پولیس ذرائع کے مطابق معروف خاتون آرٹسٹ کو دو گولیاں سینہ میں لگی ہیں۔

شاہینہ شاہین کی لاش کو نامعلوم افراد سرف گاڑی میں ڈال کر سول اسپتال چھوڑ کر خود فرار ہوگئے تھے، پولیس نے گاڑی کو قبضے میں لے لیا ہے۔ شاہینہ شاہین، پی ٹی وی بولان کے بلوچی ٹائم کی ہوسٹ رہ چکی ہیں۔

مذید پڑھیں: پاکستان کوسٹ گارڈ کی بلوچستان کے ساحلی پٹی پر راشن تقسیم شروع

مقتولہ خاتون آرٹسٹ عورتوں کو یکساں حقوق دلانے کے کمپین چلاتی تھیں۔ وہ ایک بلوچی میگزین کی ایڈیٹر بھی تھیں ۔

الرٹ نیوز کو حاصل ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق صحافی شاہینہ شاہین دختر رفیق کے قتل کا مقدمہ ان کے شوہر نواب زادہ محراب گچکی پر درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مدعی ماموں احمد علی عرف امجد رحیم ولد رحیم بخش نے پولیس کو بتایا کہ انہیں فون پر اطلاع ہوئی کہ شاہینہ کو کسی نے گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔

مذید پڑھیں : بلوچستان یونیورسٹی ہراسگی سکینڈل، وائس چانسلر جاوید اقبال پر الزام ثابت

احمد علی عرف امجد رحیم ولد رحیم بخش نے پولیس کو بیان دیا کہ شاہینہ کا قاتل اس کا شوہر ہے جس نے دو ہفتے قبل کراچی میں شاہینہ سے کورٹ میرج کی تھی ۔ جس کے بعد نواب زادہ محراب گچکی اپنے چچا کے گھر واقع پی ٹی سی ایل کالونی میں رہائش پذیر تھا جس نے شاہینہ شاہین کو گولیاں مار کر زخمی کیا اور اس کے بعد اس کی لاش کو سول ہسپتال بھی پہنچایا جہاں شاہینہ زخموں کی تاب نہ لا کر وفات پا گئیں۔

ماموں‌ کا کہنا تھا کہ کیوں کہ شاہینہ کے والدین کوئٹہ میں ہیں اور وہ تربت آ رہے ہیں اس لیے یہاں میرے علاوہ تربیت میں کوئی اور نہیں ہے اس لئے میری مدعیت میں مقدمہ درج کیا جائے۔ جس کے بعد تھانہ سٹی ضلع کیچ میں مقدمہ نمبر 147 زیر دفعہ 302 درج کر کے ملزم کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

مذید پڑھیں : بلوچستان میں ایماندار خاتون افسر کو منشیات فروش پکڑنا مہنگا پڑ گیا

معلوم رہے کہ شاہینہ شاہین پی ٹی وی پر پروگرامز کی میزبانی بھی کرتی تھی اور ایک بلوچی میگزین ”دزگہار“ کی ایڈیٹر بھی تھی ، وہ بلوچستان میں خواتین کے حقوق کی علمبردار کے طور پر بھی جداگانہ حیثیت رکھتی تھی ، مقتولہ مصوری کے فن سے بھی منسلک تھیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *