مولانا فضل الرحمن کے بھائی کا 20 روز بعد PTI کی خواہش پر KPK ٹرانفسر

حکومت سندھ نے گریڈ 19 کے بیورو کریٹ انجینئر ضیاء الرحمٰن کو کلکٹر ڈپٹی کمشنر سینٹرل کراچی تعینات کیا تھا

کراچی : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیا الرحمٰن کو ڈپٹی کمشنر کراچی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، اور ان کی خدمات دوبارہ خیبرپختون خوا کے حوالے کر دی گئیں –

حکومت سندھ نے گریڈ 19 کے بیورو کریٹ انجینئر ضیاء الرحمٰن کو 23 جولائی کو کلکٹر ڈپٹی کمشنر سینٹرل کراچی تعینات کیا تھا – ان کی تعیناتی کو پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے سیاسی رنگ دیا گیا اور سوشل میڈیا پر وفاقی حکومت کے اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں نے اس تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا گیا –

انجینئر ضیاء الرحمٰن ماضی میں پروونشل منیجمنٹ سروس گروپ حکومت خیبر پختونخوا میں گریڈ 19 کے ملازم تھے ۔ جن کی خدمات حکومت سندھ نے وفاق سے خود مانگی تھیں‌ جس کے بعد وفاقی حکومت نے 22 جنوری کو ان کی خدمات حکومت سندھ کے حوالے کردی تھیں ، جس کے بعد 23 جولائی کو ضیا الرحمن کو کراچی سینٹرل میں بطور کلکٹر ڈپٹی کمشنر تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ۔

مذید پڑھیں : علامہ محمد طاسین مرحوم کی ناپید ہوتی کتابوں کے لیے ویب سائٹ کا قیام

بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ انجنیئر ضیا الرحمن کی کراچی ضلع وسطی میں تعیناتی کے معاملے کو عدالت میں‌ لے گئے تھے تاہم اس سے قبل ہی حکومت سندھ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے خط کے جواب میں‌ انہیں واپس بھیج دیا ہے –

سندھ حکومت پر سخت دبائو تھا کہ وہ مولانا فضل الرحمن کے بھائی کو جلد از جلد واپس خیبر پختون خواہ بھیجیں ، سندھ حکومت ضیا الرحمن کو واپس بھیجنے کو تیار نہیں تھی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سخت دبائو کے بعد حکومت سندھ نے یہ فیصلہ کیا ہے تاہم اب خیبر پختون خواہ حکومت ان کو وہاں بھی دوبارہ او ایس ڈی رکھے گی ۔ اور انہیں انتقام کا نشانہ بنائے جانے کا بھی خدشہ ہے ۔

مذید پڑھیں : مولانا فضل الرحمن کے بھائی کی تعیناتی پھر واپسی، اصل کہانی کیا ہے؟

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی انجینئر ضیا ء الرحمن شروع سے سیاست سے دور رہے ہیں، قرآن کریم کے حافظ ہیں، انہوں نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) سے بیچلر آف انجینئرنگ کیا تھا – جس کے بعد این ڈبلیو ایف پی یونیورسٹی سے الیکٹرانکس اینڈ کیمونیکیشن میں ایم ایس سی کیا۔

ضیاءالرحمن لاھور کی یونیورسٹی آف انجینئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجنئیرنگ کی پشاور کی انجنئیرنگ یونیورسٹی سے کمیونیکیشن اینڈ الیکٹرونکس میں ماسٹر کرچکے ہیں۔ گومل یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس کے گولڈ میڈلسٹ ہیں ۔ جس کے بعد مشتہر پوسٹوں پروہ گریڈ 17میں تمام تر ضابطوں کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) میں ملازمت اختیار کی ۔

مذید پڑھیں : آؤ کہ چترال کی آواز بنیں

ادھر ضیا الرحمن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جمعہ کو سندھ میں سرکاری تعطیل کی وجہ سے کل چارج نہیں چھوڑیں گے جبکہ پیر کو چارج ماتحت یا دوسرے افسر کے حوالے کردیں گے جس کے بعد وہ واپس خیبر پختون خواہ میں چیف سیکرٹری کو رپورٹ کریں گے ۔

ضیا الرحمن کراچی میں حالیہ بارشوں میں سب سے زیادہ فعال ڈپٹی کمشنر رہے ہیں جن کی سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیوز میں مسلسل وہ عوام میں رہے ہیں جس کی وجہ سے ضلع وسطی کی عوام ان سے خوش رہی ہے ۔ کیوں کہ ضیا الرحمن سندھ کا واحد ڈپٹی کمشنر تھا جس کے دورازے عوام کے لئے کھلے ہوتے تھے اور ان کے دفتر میں کوئی بھی افسر رشوت لینے کی ہمت ہی نہیں کر سکتا تھا ۔

Show More

اختر شیخ

اختر شیخ (بیورو چیف کراچی) جن کی صحافتی جدوجہد 3 دہائیوں پر مشتمل ہے، آپ الرٹ نیوز سے منسلک ہونے سے قبل آغاز نیوز ٹائم، روزنامہ مشرق، روزنامہ بشارت اور نیوز ایجنسی این این آئی کے ساتھ مختلف عہدوں پر کام کیا ہے۔ اختر شیخ کراچی پریس کلب کے ممبر ہیں اور کے یو جے (برنا) کی بی ڈی ایم کے ممبر بھی ہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close