آؤ کہ چترال کی آواز بنیں

تحریر : اشفاق احمد
عشریت، لوئر چترال

بلوچستان کے بارے میں ہم سنتے رہے ہیں کہ گیس ذخائر سے مالامال ہونے اور ملک کے بیشتر علاقوں کو گیس فراہمی میں مددگار ہونے کے باوجود وہاں کے بیشتر اضلاع اب تک گیس کی سہولت سے محروم ہیں، وہاں کے باسی "ناخواستہ ایثار” اپناتے ہوئے اب بھی لکڑیوں کے ایندھن سے لو لگائے قسمت کی ستم ظریفی کا خاموش رونا رو رہے ہیں۔

مگر قارئین کو بتاتا چلوں کہ اس قسم کی محرومی کا شکار اکیلا بلوچستان نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال لوئر کا ایک ایسا گاؤں بھی ہے، جو اپنے نام نامی "عشریت” سے تو یہاں کے باسیوں کی "عشرت زیست” کی خبر سناتا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

مگر اکیسویں صدی کا ربع اول گزر جانے کے باوجود یہاں بجلی جیسی بنیادی سہولت ناپید یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

گو کہ یہاں کے بلند و بالا پہاڑ، ان کی چوٹیوں سے اترتا شفاف پانی، متنوع میوہ جات سے لدے اشجار، قدم قدم پر پیاس کو دعوت دیتے چشمے، آنکھوں کو خیرہ کرتی قدرتی جھیلیں، گھنے جنگلات، ان میں مٹر گشت کرتی جنگلی حیات اور کھیت کھلیان قدرت الٰہیہ کا عظیم مظہر ہے۔

مگر اکیسویں صدی کا ربع اول گزر جانے کے باوجود یہاں بجلی جیسی بنیادی سہولت ناپید یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

اگرچہ مختلف این جی اوز نے چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر بنا کر اپنے تئیں قابل قدر کاوشیں کی ہیں، پر وولٹیج کمی کے بسبب نہ تو فریج "سانس” لے سکتا ہے اور نہ ہی واشنگ مشین ودیگر ہیوی الیکٹرانک اشیاء کارآمد ہو سکتی ہے۔ یہاں کی بنت حوا آج بھی ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کر ملبوسات کو چمکانے پر مجبور ہے، سالن ایک وقت سے دوسرے وقت تک بمشکل کارآمد رہ سکتا ہے، عموما ہر وقت کیلئے نیا سالن بنانا پڑتا ہے، یہاں کے فطری مہمان نواز لوگ اپنے مہمانوں کی کولڈرنکس، جوسز وغیرہ جیسی اشیاء سے تواضع نہیں کرسکتے، یہاں قربانی کا گوشت ایک دن سے زیادہ سٹور نہیں ہو سکتا، اور سنت ابراہیمی ادا کرنے والے ہزاروں مسلمان قربانی کے اگلے دن بچ جانے والا گوشت ضائع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جولائی اگست میں یہاں کا درجہ حرارت 33 ڈگری تک کو چھوتا ہے اور مقامی لوگ پنکھے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، مگر یہ "عیاشی” انہیں میسر نہیں ہوتی۔

مگر اکیسویں صدی کا ربع اول گزر جانے کے باوجود یہاں بجلی جیسی بنیادی سہولت ناپید یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

اور یہ سب تب بھی قدرے قابل برداشت ہوتا اگر بجلی کی سپلائی دور دراز کے کسی گرڈ سٹیشن سے کرنی ہوتی۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ اپنے ہی ضلع کی سرزمین پر تقریباً 89 میگا واٹ کا بجلی گھر (گولین گول) بنا دیا گیا ہے، اور اس کی تعمیر میں اسی گاؤں کے مزدوروں کا خون پسینہ شامل ہے۔ تخمینہ کے مطابق پورے چترال کیلئے 30 میگا واٹ بجلی کافی قرار دی گئی ہے، جب کہ بقیہ بجلی اسی گاؤں کی زمینوں پر کھبے گاڑ کر دوسرے اضلاع کو منتقل کی گئی ہے۔(راقم کی اپنی زمین کے بیچوں بیچ بھی ٹاور لگایا گیا ہے)۔اور مقامی لوگوں کو محروم رکھا گیا ہے۔

مگر اکیسویں صدی کا ربع اول گزر جانے کے باوجود یہاں بجلی جیسی بنیادی سہولت ناپید یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

منتخب نمائندوں کی اس حوالے سے دعووں کے باوجود دلچسپی ناپید ہے، وگرنہ اتنا عرصہ گزر جانے تک مسئلہ حل ہوجانا چاہئے تھا۔ میں مقامی بااثر افراد، سوشل میڈیا صارفین خصوصا استاد Inayat Shamsi سے درخوست کروں گا کہ وہ ہماری آواز اہل حل و عقد تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تا کہ اس بنیادی ضرورت سے بلا جواز محروم رکھے جانے کا ازالہ ہو سکے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *