جعلی ACR پر ترقیاں حاصل کرنے والوں کو لگام ڈالنے کی تیاری مکمل

رپورٹ : مزمل احمد فیروزی

کراچی : ترقیوں کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے حکمت عملی تیار کر لی گئی، جعلی جھرلو اے آر سی بنا کر ترقیاں حاصل کرنے والوں کو لگام دینے کے لیئے پالیسی مرتب کر لی گئی ہے ، ماضی کے بے ہنگم اور قانون سے عاری نظام کی بیخ کینی کے لئے سیکرٹری سندھ لوکل بورڈ ضمیرعباسی کے انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

ذرائع کے مطابق جن بلدیاتی افسران و ملازمین نے جعلی اے سی آر کی (سالانہ خفیہ رپورٹ) بنا کر ترقیاں حاصل کی ہیں اس کی بیخ کینی کرنے کیلئے پالیسی مرتب کر لی گئی ہے ، ایس یو جی سروسز سمیت دیگر بلدیاتی ملازمین کی اے سی آر کا جو طریقہ کار مرتب کیا گیا ہے ، اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو ترقیوں کا عمل نہیں ہو گا ۔

سندھ بھر میں 4000 ایس سی یوجی سروسز ملازمین موجود ہیں ، جو ماضی کے بے ہنگم اور قانون سے عاری نظام کو لے کر چل رہے تھے ، اب انہیں متنبہ کر دیا گیا ہے کہ وہ قانونی تقاضوں کو ہر صورت پورا کریں ۔

مزید پڑھیں : اینٹی کرپشن نے پیسے لیکر 24 گھنٹے میں ایوب شیخ کو کلیئر کر دیا

اے سی آر متعلقہ محکمے یا ادارے تیار کر کے دیں گے ، جس پر سیکرٹری لوکل بورڈ دستخط کرنے کے ساتھ اپنے مثبت یا منفی تاثرات قلم بند کریں گے ۔ 19 گریڈ کے سنیئر افسران و دیگر افسران کے معاملات درجہ بدرجہ افسران دیکھیں گے جو اس سلسلے میں اپنے تاثرات قلم بند کریں گے ۔

ترقیوں کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے سرکلر لیٹر نمبر SLGB/SCUG/AO/Esst/Gen/2020/1107 بتاریخ 7 اگست 2020 بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں پہلے بھی نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا مگر اسے چھپا دیا گیا ورنہ یہ عمل پہلے ہی شفافیت پر مبنی ہوتا ہے لیکن سیکرٹری سندھ لوکل بورڈ ضمیر عباسی کی تعیناتی کے بعد سے اب یہ درست سمت میں گامزن ہے ۔

مزید پڑھیں : کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولرائز کیا جائے :‌سپریم کورٹ

پہلے کسی کو کہیں کسی بھی عہدے پر بھیجا گیا تو اس کی اے سی آر اسوقت ہی مرتب ہونی چاہیئے جب اس کا سروس ریکارڈ بھی دیکھا جائے اگر کسی کو میونسپل کمشنر یا ٹاؤن آفیسر بنا کر بھیجا گیا تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان کے ذمے جو فنڈز تھے وہ صحیح طور پر استعمال ہوئے یا نہیں ۔ کہیں بغیر این آئی ٹیز کے فنڈز خرد برد تو نہیں کر لئے گئے اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کوٹیشنز کی گئیں تو چیک کے ذریعے اس کی تصدیق ہونی چاہیئے کہ یہ فنڈز درست سمت میں استعمال ہوئے اور اگر این آئی ٹیز ہوئیں تو آن گراؤنڈ کام ہوا یا نہیں۔

جس کی تصدیق کیلئے کاغذات ہی بہت کچھ بول دیتے ہیں لہذا افسران یا ملازمین کیلئے ان کا سروس ریکارڈ اور دائرہ اختیارات میں رہتے ہوئے فنڈز کا درست استعمال یا دائرہ اختیار سے باہر کاموں کا ہونا اہمیت کا حامل ہے اگر ان چیزوں کی جانچ پڑتال کے بغیر ترقیاں دی جاتی رہیں تو بلدیات کے محکمے میں سدھار کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہو گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *