کراچی کا کوئی وارث کیوں نہیں ہے؟: قاری عثمان

qari usman

جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ حالیہ بارشوں کی تباہ کاریوں سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر عیادت اور ملاقات کیلئے آئے پارٹی کے دوستوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا-

قاری عثمان کا کہنا تھا کہ سائن بورڈز جو ہمیشہ نہ صرف تباہی کے باعث بنے بلکہ چلتے پھرتے شہریوں کے لیے جان لیوا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی اکثریتی آبادیاں زیر آب آگئی ہیں، سینکڑوں کچے مکانات قابل استعمال نہیں رہے، شہر کی تقریبا 50 فیصد کی آبادی سے زائد گھروں اور مساجد میں بارشوں اور نالوں کا پانی جمع کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: جعلی وزیر اعظم نے کشمیر کا سودا کیا ہے : قاری عثمان

جے یو آئی (ف) کے رہنما نے کہا کہ شہر میں نکاسی آب کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، حالیہ بارشوں کی تباہ کاریوں سے واضح ہوتا ہے کہ کراچی کا کوئی والی وارث نہیں ہے-

قاری محمد عثمان نے شہر کے بیشتر علاقوں میں آندھی طوفان اور تیز رفتار بارشوں میں بجلی کے کرنٹ لگنے اور طوفانی ہواؤں سے ہونے والے جانی ومالی نقصانات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا-

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے ڈسے ہوئے کراچی کے شہریوں کے زخموں پر مرہم پٹی رکھنے والا تو کوئی تھا ہی نہیں مگر کم از کم بارشوں کے پانی سے ابھرتے نالوں اور جگہ جگہ قائم کچروں کے پہاڑ جو گلیوں اور گھروں میں جمع پانی میں تیرتے ہوئے مہلک بیماریوں کا سبب بن رہا ہے اس کو اٹھانے کے لیے شہری کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی، صوبائی، شہری اور ضلعی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں ہورہی ہیں، بس ہر کوئی کمائی کو مقصد زندگی بنائے بیٹھا ہے۔

مزید پڑھیے: حالیہ بارشوں نے انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کی پول کھول دیا : قاری عثمان

قاری محمد عثمان نے مطالبہ کیا کہ گھروں اور مساجد میں کھڑے پانی اور گلیوں میں نکاسی آب کیلئے ایمر جنسی لگاکر فوری اقدامات کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں ہونے والی تباہی سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ ان علاقوں کا کراچی سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

جے یو آئی (ف) کے رہنما نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کراچی کے تمام اضلاع میں انتظامیہ نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔

مزید پڑھیے: قاری عثمان ضلعی غربی میں KE کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں

انہوں نے کہا کہ اگر بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہا تو کچی آبادیاں تو ہیں خطر ناک مگر شہر کی ہزاروں بڑی بڑی بلڈنگیں بھی خطرے سے باہر نہیں، لہذا صوبائی شہری اور ضلعی انتظامیہ کو خواب خرگوش کے مزے چھوڑ کر شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کرنے ہوں گے ورنہ صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے۔

ان کی عیادت کے لیے آنے والوں میں‌ ممتاز عالم دین مولانا عزیزالرحمن عظیمی، مولانا فتح اللہ، مولانا زرین شاہ، مولانا عبدالباسط حنفی، مولانا سلطان محمود، مولانا حبیب حسین، بابائے جمعیت الیاس خان، سید اکبر شاہ ہاشمی، فاروق سید حسن زئی، جمال خان کاکڑ، نصیب خان اور دیگر بھی موجود تھے-

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *