نغمے و ترانے بنے ہتھیار

اسلام آباد: آب پارہ کی وجہ ء شہرت کچھ بھی رہی ہو اب ایک ہی ہے یہاں مضبوط چار دیواری اور خاردار تاروں میں گھرے ایک وسیع علاقے کے داخلی راستے پر کوئی بورڈ شورڈ تختی شختی ہے نہ خارجی راستے پر، کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اس چاردیواری میں کیا ہے یہاں اگر آپ کی گاڑی خراب ہو جائے تو ایک منٹ میں کچھ اصحاب آپکے پاس پہنچ کر سوال جواب شروع کردیں گے اور آپ کو روآنہ کرکے ہی روآنہ ہوں گے

دراصل یہ “مارخوروں” یعنی ISI کا ہیڈ کوارٹر ہے جسکی بڑی کڑی سیکیورٹی ہے اس طرح کی سیکیورٹی un scene نادیدہ سیکیورٹی کہلاتی ہے اسی طرح اسلام آباد میں کچھ رہائشی علاقے بھی ایسے ہیں جہاں کوئی مشکوک اجنبی دکھائی دے تو کچھ ہی دیر میں کوئی موٹر سائیکل یا کار اسکے پاس آکر رکتی ہے اور کار سوار یا موٹرسائیکل والا اس سے کوئی پتہ پوچھنے لگتا ہے وہ آپ سے چند سیکنڈ بات کرتا ہے اس دوران اسکے کالر، چشمے،یا پی کیپ میں لگا کیمرہ آپکی تصویر کھینچ چکا ہوتا ہے آپ مشکوک لگے تو تھوڑی دیر میں نادرا کی مدد سے آپکے کوائف کھنگالے جارہے ہوتے ہیں اور آپکا نادیدہ تعاقب شروع ہو چکا ہوتا ہے.

مزید پڑھیں : کراچی پولیس کا ASI بھارتی خفیہ ایجنسی کا مخبر کیوں بنا ؟

یہ سارے انتظامات “نادیدہ” اور انکا حصہ “فرشتے” اسی لئے کہلاتے ہیں کہ دکھائی نہیں دیتے اور یہ دکھائی دینے والے اقدامات سے زیادہ موثر ہوتے ہیں

اسی طرح پروپیگنڈے کا کمال بھی یہ ہے کہ وہ ہو رہا ہو مگر محسوس نہ ہو یہ پوری سائینس اور بزنس ہے اس کام کے لئے لابنگ فرمز ہوتی ہیں جو اچھا خاصا معاوضہ وصول کر کے اپنے کلائینٹ کے لئے کام کرتی ہیں اور مختلف زرائع استعمال کرتی ہیں کہیں صحافیوں سے خبریں لگوائی جاتی ہیں کہیں نیوز چینل میں ٹاک شو رکھا جاتا ہے کہیں کوئی کنسرٹ رکھ دیا جاتا ہے ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں یہ جو نیلی آنکھوں والی یو ٹیوبرز رکشہ لے کر کراچی سے بابو سرٹاپ تک پہنچ جاتی ہیں یہ یونہی پاکستان کی محبت میں کھنچی نہیں چلی آتیں…

مزید پڑھیں : حوالہ ہنڈی کا اہم ملزم FIA نے گرفتار کر لیا

“گل وچ کچھ ہور” بھی ہوتی ہے یہی کام ہماری فوج کی طرف سے ہونا چاہئے بھارت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے جو جتن ہو سکتے ہیں کریں لیکن یہ چغدیت کا کون سا درجہ ہے کہ خود پروڈکشن ہاؤس بن جایا جائے … ڈرامے، نغمے باقاعدہ جاری کرنے لگیں… اس نالائقی کا وطن مخالف عناصر نے فائدہ اٹھایا اور سوشل میڈیا پر درگت بنا کر رکھ دی کہ جس فوج نے بندوق چلانی تھی وہ ہارمینم چلوا رہی ہے کشمیریوں پر بھی غلط اثر پڑ رہا ہے کہ اب انکی توقعات تین منٹ کا آرکسٹرا پوری نہیں کر رہا

یہ نغمے ترانے سایبر وار ضروری ہے لیکن اس بے نام جنگ میں ISPR کا نام بالکل غیر ضروری ہے ان کے پس پشت کوئی بھی ہو انہیں پی ٹی وی، وزارت اطلاعات اپنے نام سے جاری کرے تو زیادہ اچھا ہو انہیں ہمارے دوست ممالک ترکی، چین، یورپ عرب ممالک میں تیار کروانا چاہئے، انہیں پاکستانی عوام تیار کرے، ایسے موقعوں پر آرمی چیف لاین آف کنٹرول کا دورہ کر لیں تو یہی بہترین پیغام ہوگا.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *