احساس سینٹرز میں سہولیات کی عدم فراہمی کا انکشاف

رپورٹ : فہیم صدیقی

کراچی: احساس پروگرام کے تحت سوئیڈش کالج لانڈھی میں قائم کیا گیا احساس کیش سینٹر پر سہولیات کی عدم فراہمی اور اسٹاف کی کمی کے باعث لمبی قطاریں لگ گئیں ۔

شدید گرمی کے باوجود خواتین، بچوں، بزرگوں اور شہریوں کو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا کیا جانے لگا۔ پارکنگ کی عدم دستیابی کے باعث روڈ پر موٹرسائیکل پارکنگ کے باعث ٹریفک کی روانی میں شدید مشکلات کا بھی سامنا۔

مزید پڑھیں: حکومت بینظیر انکم سپورٹ‌ کو احساس پروگرام کہتی ہے

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے وفاقی حکومت کے تحت کرونا وائرس کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں کی مالی امداد کیلئے شروع کیا جانیوالا وزیراعظم ریلیف پیکج احساس پروگرام بد انتظامی اور عدم سہولیات کی نذر ہوگیا ہے، کراچی سمیت سندھ بھر میں بنائے گئے سنٹرز پر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جبکہ کرونا سے بچنے کیلئے حفاظتی اقدامات کو بھی یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے، جس کے باعث ان سنٹرز سے کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا، سندھ بھر ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 کو ہوا میں اڑا دیا، سوئیڈش کالج لانڈھی میں قائم احساس کیش سینٹر میں رقم تقسیم کے لئے سینکڑوں خواتین، بچوں، بزرگوں کاہجوم جمع کیا جارہا ہے، جس پر خواتین نے عدم سہولیات کے باعث احتجاج کیا جس پر وہاں موجود عملے اور پولیس اہلکاروں نے سخت بدتمیزی کرتے ہوئے حولات میں بندکرنے کی دھمکیاں دیں ۔

مزید پڑھیں: احساس پروگرام کے تحت مستحقین میں‌ رقوم کی تقسیم کا آغاز

خواتین کا کہنا تھا کہ وہ احساس پروگرام کی رقم لینے آئی ہیں ۔ اس موقع پر تعینات احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے اہلکاروں، سیکورٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے بھی کورونا کے پیش نظر کسی قسم کے حفاظتی انتظام نہیں کئے ہوئے تھے، جس پر احتجاج کیا گیا تو پولیس اہلکار بدتمیزی کرنے لگے اور انہیں حوالات میں بندکرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔

وہاں موجود مستحقین نے کہا کہ ہم دور دراز سے سفر کرکے آئے ہیں اور خوار ہو رہے ہیں جہاں پر نہ چھاوں کیلئے ٹینٹ لگائے گئے ہیں نہ ہی پانی کا انتظام ہے جبکہ ہم دور دراز سے 4/5 سو روپے کرایہ ادا کر کے یہاں پہنچ رہے ہیں مگر انتظامیہ ہمیں پریشان کر رہی ہے احساس کیش پروگرام کی انتظامیہ کی بے حسی کے باعث ہم صبح سے شام تک خوار ہو رہے ہیں اور ہمیں لنک ڈاون ہونے کا کہہ کر خالی ہاتھ گھر لوٹنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: احساس پروگرام میں 57 ہزار خاندانوں کو 68 ارب روپے دینے کا حکومتی دعوی

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو چاہئے تھاکہ زیادہ سے زیادہ کیش ڈسٹری بیوشن سنٹرز بنائے جاتے جس سے مسائل حل ہو سکتے تھے ، انتظامیہ کی جانب سے انتہائی ناقص انتظامات کئے گئے ہیں، خواتین کے بیٹھنے کے لیے بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔

سول سوسائٹی اور شہریوں نے وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے صورت حال کانوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ہجوم کوختم کروانے کے لئے مناسب انتظامات کئے جائیں علاوہ اینٹی وائرل سپرے کروانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *