اساتذہ و نان ٹیچنگ اسٹاف کے مسائل کے حل کیلئے ایجوکیشن گرینڈ الائنس تشکیل

کراچی : سندھ بھر کے سرکاری اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کو درپیش مسائل کے حل کیلئے سندھ ایجوکیشن گرینڈ الائنس تشکیل دیدی گئی ۔

گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ (گسٹا مھیسر ) کے مرکزی صدر مقصود احمد مھیسر نے سندھ ایجوکیشن گرینڈ الائنس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کراچی ڈویژن اور سندھ کے5 اضلاع میں سال 2012ء میں بھرتی ہونیوالے کیڈرز اساتذہ کو فوری تنخواہیں جاری کرنے اور IBA ،NTS اور اقراء یونیورسٹی سے ٹیسٹ پاس اساتذہ کو بھرتی کی تاریخ سے مستقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے

ان کا کہنا ہے کہ سال2012ء کے دوران جعلی بھرتیاں محض پروپیگنڈہ ہے۔ سابق سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے محکمہ تعلیم میں 13 ہزار جعلی بھرتیوں کا جھوٹا دعوی کر کے تنخواہیں روکیں حالانکہ تصدیق شدہ ریکارڈ کے مطابق کراچی ڈویژن اور سندھ کے5 اضلاع میں ملازمتوں کے دعویدار اساتذہ کی تعداد 4500 ہے اور یہ اعداد و شمار ہی سابق سیکریٹری تعلیم کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں ۔

مذید پڑھیں : سیاحتی مراکز ، گیسٹ ہائوسز ، ہوٹلز کھولنے کا اعلان

ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ ایجوکیشن گرینڈ الائنس کے 7 نکات پر فوری عملدرآمد نہ ہوا تو یوم عاشور کے بعد سندھ بھر کے اساتذہ اپنے حق کیلئے احتجاج کرنے اور دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے ۔ جس کے بعد کسی بھی نتائج کی ذمہ دار سندھ حکومت ہو گی ۔

جمعرات کو کراچی پریس کلب میں سرپرست اعلی ایپکا سندھ محمد ایوب ماما، چیئرمین کو آڈینیشن کمیٹی ایپکا عمران غلام حسین ، چیئرمین ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ ظہیر احمداور سندھ کے دیگر اضلاع کے اساتذہ نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مقصود احمد مھیسر نے کہا کہ ہمارے دیگر 7 نکات میں JST اساتذہ کو ٹائم اسکیل 17 گریڈ دینے ،سندھ کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اور نا ن ٹیچنگ اسٹاف کو ان کی ریٹائرمنٹ پر ہی گروپ انشورنس کی رقم ادائیگی ، SLT کو HST گریڈ 16 کے اساتذہ کو ہیڈ ماسٹرز/ہیڈ مسٹریس کے عہدے پر ترقی ،AWI اساتذہ کی WI گریڈ 16 پر کی ترقی اور جونیئر ایلمنٹری اسکول ٹیچرز(JEST) کو فی الفورتنخواہیں جاری کرنے کے مطالبات شامل ہیں ۔

مذید پڑھیں : جماعت اسلامی کی ریلی میں دستی بم حملہ کیا گیا : ذرائع

سندھ ایجوکیشن گرینڈ الائنس کے مرکزی صدر مقصود احمد مھیسر نے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ سال2012ء میں جعلی بھرتیاں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ ملازمتوں کے دعویداراساتذہ کی تعداد 4500 کے قریب ہیں جو سابق سیکریٹری تعلیم کے دعوے کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے کافی ہے ۔

اس کے باوجود بھرتیوں پر جعلی کی چھاپ لگانا اساتذہ کیساتھ زیادتی کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2012ء میں محکمہ تعلیم میں سندھ بھر کے تمام اضلاع میں تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کو قوائد و ضوابط کے تحت بھرتی کیا گیا تھا مگر 9 سال گذر جانے کے باوجود کراچی ڈویژن کے 6 اضلاع، گھوٹکی، سکھر، نوشہروفیروز، خیرپور، سانگھڑضلع سے تعلق رکھنے والے تدریسی غیر تدریسی اسٹاف کو تنخواہوں سے محروم رکھا گیا حالانکہ سال 2012ء کے کراچی میں تصدیق شدہ 593 کیدرز اور گھوٹکی، خیرپور،نوشہروفیروز، سانگھڑاورسکھر کے بھی کیدرز اساتذہ تنخواہوں لے رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں : کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولرائز کیا جائے :‌سپریم کورٹ

حال ہی میں مارچ، 2020ء میں مٹیاری ضلع کے اساتذہ کی تنخواہوں کے آرڈرزجاری ہوئے جو کہ ایک اچھا اقدام، خوش آئند بات ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتہ سے سندھ ایجوکیشن گرینڈ الائنس وزیر اعلی سندھ ،وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم سندھ کو اس حوالے سے اپنے تحفظات پر مبنی خطوط جمع کرائے گی اور یوم عاشور سے قبل معاملے کے حل کرنے کیلئے دباﺅ دیگی اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو پھر ہم اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں آزاد ہوں گے اور یوم عاشور کے بعد پر امن احتجاج اور دھرنے کی کال دینگے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ ایجوکیشن گریڈالائنس میں گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن ،آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن سندھ ،ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ ادر کیڈرز 2012 کے نمائندے شامل ہیں ۔ قبل ازیں اساتذہ نے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا اس موقع پر انہوں نے ہماری تنخواہیں جاری کرو، سرکاری اساتذہ کو ان کا جائز حق دو ،ترقیوں میںرکاوٹ نا منظور کے نعرے بھی لگائے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *