نجی اسکول 15 اگست سے کھولنے کا اعلان کر دیا گیا

کراچی : قومی تعلیمی کانفرنس کے فیصلے کے تحت ملک بھر کے نجی تعلیمی ادارے 15 اگست سے کھول دیئے جائیں گے۔ پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی

سب سے ذیادہ جو شعبہ متاثر ہوا ہے وہ نجی تعلیمی ادارے ہیں، جس کے لئے حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں ۔ 14 اگست سادگی سے منائی جائے گی، تما م اسکولز کسی ایک کلاس کو بُلا کر قومی ترانہ اسکولز میں پڑھوائیں گے اور قومی پرچم لہرایا جائے گا ۔

ایکشن کمیٹی کے رہنما پرویز ہارون کا کہنا ہے کہ پو را ملک کھول دیا گیا ہے، پورے ملک میں معمولات زند گی اپنی اصل حالت کی طرف گامزن ہیں خواہ وہ مارکیٹس ہوں، فیکٹریاں ہوں، ٹرانسپورٹ ہو، پارکس ہوں یا عید پر لگنے والی جانورں کی منڈیاں، یہا ں تک کے شادی ہالز اور سینما تک کھولنے کی تیاری ہے، نہیں کھولے جا سکتے تو صر ف تعلیمی ادارے ۔

مذید پڑھیں : سرکاری ملازمین کو نجی کاروبار،ذاتی کنسلٹینسی خدمات سے روکنے کاحکم

اسکول مالکان اور اساتذہ خودکشیاں کر رہے ہیں،ہارٹ اٹیک سے مر رہے ہیں مگر حکومت کو کو ئی پرواہ نہیں اب ہمارا بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اور ہم بھی قومی تعلیمی کانفرنس اسلام آباد کے مشترکہ فیصلے کے مطابق اپنے اسکولز 15 اگست سے کھول دیں گے۔ 14 اگست سادگی سے منائی جائے گی، تما م اسکولز مخصوص تعداد میں بچوں کو بُلا کر قومی ترانہ اسکولز میں پڑھوائیں گے اور قومی پرچم لہرایا جائے گا۔

اسکولز صرف اُن بچوں کے لئے کھولا جائے گا، جن کے والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا چاہتے ہیں، وہ والدین جو اس وقت ذہنی طور پر تیار نہیں یا حکومت کے فیصلے کے بعد اسکول بھیجنا چاہتے ہیں تو اُن کو پوری آزادی ہو گی ۔ ہم پیمرا کے مشکور ہیں جس نے امیڈیا پر نجی تعلیمی اداروں کے لئے مافیا جیسے لفظ کے استعمال پر پابندی لگا دی۔ اور ایسے والدین جو اسکولز کو مافیا سمجھتے ہیں وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں پڑھا سکتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :‌ مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ، PTI حکومت نے نقشہ بدل دیا

نجی تعلیمی ادارے نیو ایڈمیشن کے لئے سابقہ اسکول کی T.C اور Fee Clearance Certificate کے پابند ہونگے۔ حکومت ہمیں اُن UCs کے بارے میں آگاہ کر سکتی ہے جو حساس ہیں اُن UCs میں اسکولز نہیں کھولے جائیں گے، اگر حکومت کوئی رابطہ نہیں کرتی تو سندھ بھر میں تمام نجی تعلیمی ادارے 15 اگست کو تدریسی عمل کے لئے کھول دئیے جائیں گے۔

اگر حکومت نے اسکولوں کا تقدس پامال کرنے کی کوشش کی اور پرنسپلز اور ٹیچرز کو ہراساں کیا گیا تو بھر پوراحتجاج کیا جائے گا ،وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ تعلیم ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ تقریبا چھ ماہ گزر گئے مگر کسی حکومت نے نجی تعلیمی ادارو ں کی سپورٹ کے لئے کوئی قدام نہیں اُٹھایا۔

مذید پڑھیں :‌ آن لائن قربانی میں حصہ لینے والے عوام تا حال پریشان

حکومت 5 ہزار سے کم فیس والے اسکولز کے لئے فوری کسی گرانٹ کا اعلان کرے تاکہ نجی تعلیمی اداروں کے نقصان کا کچھ ازالہ ہو سکے، اور 5 ہزار سے زائد فیس لینے والے اسکولوں کے لئے بلا سود قرضے کا اعلان کرے ، ایک ہزار یا ایک ہزار سے کم فیس لینے والے اسکولز ۳ لاکھ روپے ماہانہ (۶ ماہ) = 18 لاکھ گرانٹ

ایک ہزار سے دو ہزار کے درمیان فیس والے اسکولز 5 لاکھ روپے ماہانہ (۶ماہ) =30 لاکھ گرانٹ
دو ہزار سے تین ہزار کے درمیا ن فیس والے اسکولز7 لاکھ روپے ماہانہ (۶ماہ)=42 لاکھ گرانٹ
تین ہزار سے پانچ ہزار روپے فیس والے اسکول 10 لاکھ روپے ماہانہ (۶ماہ)=60 لاکھ گرانٹ

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *