برطانوی فوج بھی افغانستان میں نہتے شہریوں کے قتل عامل میں ملوث نکلی

افغانستان میں جاری مغربی ممالک کی جنگ میں‌ امریکا کے بعد اب برطانوی فوج کا بھی افغانستان میں نہتے شہریوں کے قتل عام میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے-

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شاہی فوج کی جانب سے سال 2011 میں‌ غیر مسلح افراد کو دانستہ قتل کیا گیا تھا-

برطانیہ کے اسپیشل فورسز کے دو سینئر افسروں نے ڈور سیٹ میں خفیہ ملاقات کی-

گفتگو کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ برطانیہ کے کچھ انتہائی اعلیٰ تربیت یافتہ فوجیوں نے غیر مسلح افراد کو غیر قانونی طور پر ہلاک کرنے کی دانستہ پالیسی اپنائی-

اس گفتگو کے بعد ایک نوٹ لکھ کر اعلیٰ افسران کو بھیجا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس مجرمانہ رویے کی روک تھام کے لیے بھرپور تحقیقات کی ضرورت ہے۔

اب یہ دستاویز ہائی کورٹ میں زیر سماعت ایک کیس کے سلسلے میں وکلا کی فرم ’’ لی ڈے‘‘ Leigh Day کو جاری کی گئی ہے۔

ہائی کورٹ اس بارے میں رولنگ دے گی کہ اسپیشل فورسز کے اہل کاروں پر ماورائے قانون قتل کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات کی گئی یا نہیں۔

یہ کیس سیف اللہ نامی شخص عدالت میں لے گیا، جس کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان کے چار افراد کو 16 فروری 2011 کو قتل کیا گیا تھا۔